شریف فیملی اور زرداری مخالف احتساب کی نئی مہم کیوں شروع ہوئی؟

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عُثمان

ایف اے ٹی ایف کے لئے درکار قانون سازی میں مدد کے بدلے میں کوئی ریلیف نہ ملنے پر پیپلزپارٹی
اور “نون لیگ” کی اعلیٰ قیادت میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
مقتدرہ نے دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے “باغیانہ” رویے کا نوٹس لے لیا اور دونوں کی اعلیٰ قیادت
کے خلاف قانونی و عدالتی چینلز سے دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسی لئے عید کی چھٹیوں کے فوری بعد جہاں ایک طرف لندن میں مقیم شریف فیملی کے افراد کی
پاکستان کو حوالگی کا پراسیس شروع کردیا گیا۔

سیاست کے شاطر کھلاڑی کی چال کیوں ناکام ہوئی؟

وہیں ٹھٹھہ واٹر سپلائی کے مبینہ غیر قانونی ٹھیکے الاٹ کرنے کے نیب ریفرنس میں سابق صدر
آصف زرداری پر فرد جرم عائد کرنے کی تیاریاں تیز کردی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ای کی شرائط پر بعض ضروری قوانین بنا کر حکومت کو
رپورٹ 6 اگست تک جمع کرانا ہے۔

قانون سازی کے بدلہ اپوزیشن کو کیا ملا؟

درکار قانون سازی میں تعاون کے لئے ہونے والے حکومت اپوزیشن مذاکرات میں ڈیڈ لاک آچکا تھا۔
مقتدر حلقوں کی کوششوں کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں فیصلہ کن کردار رکھنے والی دونوں بڑی
اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کی ہدائت پر ان کے اراکین پارلیمنٹ
نے آخری لمحوں میں ان قوانین کے بل پاس کروانے میں مدد تو کردی لیکن اس کے بدلے میں آصف
زرداری اور شہباز شریف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت ملی نہ کوئی دوسرا ریلیف ملا۔

اس پر پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے بیان آگیا “ھم ایف اے ٹی ایف کو
بتائیں گے کہ حکومت پاکستان نے کس طرح دھاندلی کے ساتھ یہ بل منظور کروانے ہیں” جبکہ
“نون لیگ” کے مرکزی سیکریٹری جنرل احسن اقبال کا بیان آگیا “ھم امریکہ کو تفصیل سے
آگاہ کریں گے کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کی پیروی میں کی جانے والی قانون سازی کے
پراسیس میں اپوزیشن کو کس طرح استعمال کیا گیا اور یہ کہ یہ سارا عمل کس قدر غیر شفاف تھا”

شہباز شریف کو کیُوں وطن واپس “بھاگنا” پڑا ہے

اب کیا ہو گا بڑوں کے ساتھ؟

ذرائع کے مطابق مقتدر قوتوں نے ان بیانات کا سختی سے نوٹس لیا اور قرار دیا کہ یہ نہائت خطرناک
بیانات ہیں جو حکومت نہیں ، بلکہ ریاست کے خلاف ہیں کیونکہ FATF کے اطمینان کے لئے درکار
قانون سازی وزیر اعظم عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی مفاد اور ریاست
پاکستان کا معاملہ تھا ، جبکہ FATF میں پاکستان کو آج جن مسائل کا سامنا ھے وہ پیدا کردہ بھی
انہی 2 پارٹیوں کی حکومتوں کے ہیں اور اب بلیک میل کرنے کے لئے ریاست کو آنکھیں بھی انہی
جماعتوں کی قیادت دکھا رہی ھے۔
ذرائع کے مطابق مقتدر حلقوں میں مذکورہ بیانات کے حوالے سے باور کیا جاتا ہے کہ بلاول بھٹو
زرداری کی زبان میں دراصل آصف زرداری بول رہے تھے۔
احسن اقبال کے ذریعے سابق وزیر اعظم نواز شریف آنکھیں دکھا رہے ہیں۔
مبصرین کا ماننا ھے کہ اس کے فوری ردعمل میں لندن میں مقیم شریف خاندان کی 3 اھم
شخصیات حسین نواز ، اسحٰق ڈار اور “نون لیگ” کے صدر شہبازشریف کے داماد علی عمران
کو پاکستان کے حوالے کئے جانے کی بابت برطانوی حکومت سے رابطہ کیا گیا کیونکہ متذکرہ
تینوں شخصیات پاکستان کی احتساب عدالتوں سے مفرور اور اشتہاری قرار دی جا چکی ہیں
تو دوسری طرف آصف زرداری پر احتساب کا شکنجہ عدالتی عمل کے ذریعے کسنے کا آغاز کر دیا گیا۔


شیئر کریں: