شریف خاندان کی شہزادوں،امریکیوں اور جرنیلوں سے منتین، ترلے، سماجتیں اور اب رابطے

شیئر کریں:

شریف خاندان کی سیاست کہاں سے چلی، کیسے چلی اور یہاں تک کیسے پہنچی؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب تین بار کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے خود ہی دے دیا۔
وہ کہتے ہیں نا کہ جن پر احسان کرو اس کے شر سے بھی بچنا چاہیے اس کی عملی تعبیر نواز شریف
لندن بیٹھ کے پیش کر چکے ہیں۔

شریف خاندان کون کی سیاست کر رہا ہے؟

اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں لندن سے ویڈیو لنک پر جس طرح نواز شریف نے عسکری
اداروں کے خلاف زبان استعمال کی ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔

وہ بھی ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے کے منہ سے ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔

ایک طرف فوج پر انگلیاں اٹھاتے ہیں اور اپنے رہنماؤں کو عسکری اداروں سے ملنے پر پابندی
عائد کر دیتے ہیں۔
تحریک انصاف کے وزیر اعلی سے اگر کوئی ملاقات کر لے تو اسے پارٹی سے ہی نکال دیتے ہیں۔
دوسری طرف خود میاں نواز شریف لندن میں اور ان کی صاحبزادی مریم نواز یہاں پاکستان
میں اب بھی رابطے رکھے ہوئے ہیں۔

کیا اسے دوہری سیاست یا منافقت والی سیاست نہیں کہیں گے؟
اپنے لیے کچھ اصول اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے لیے دوسرے اصول؟

بیرونی طاقتوں کو استعمال کر رہے ہیں؟

شریف خاندان کی ملاقاتوں کا سلسلہ صرف عسکری اداروں تک محدود نہیں یہ غیرملکی
سفارت خانوں سے بھی رابطے میں ہیں۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ نواز شریف نے امریکا کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی بے انتہا کوشش
کی لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

یہی نہیں بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قائم دیرینہ تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی
بھی کوششیں کی گئیں۔

نواز شریف نے چین کو بھی اپنے لیے سیڑھی بنانے کی کوشش کی لیکن چین نے خود کو
اس معاملے سے باہر ہی رکھا۔

شریف خاندان اور طیب اردوان کے درمیان گہرے تعلقات رہے ہیں انہوں نے ترکی کا پتہ
بھی استعمال کیا لیکن کام نہیں آیا۔

ترکی کے صدر طیب اردوان نے عرب ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ مل کر مسلمانوں
کا نیا بلاک بنانے کی کوشش میں شریفوں سے دیرینہ تعلقات قائم کیے۔

لیکن جب انہیں معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف نے اب بھی سعودی عرب کو اپنے کیسوں کے
سلسلے میں استعمال کیا ہے۔
اس انکشاف کے بعد ترکی نے بھی نواز شریف کو سفید جھنڈی دیکھا دی ۔

گزشتہ سال ملائیشیا سربراہ کانفرنس میں وزیر اعظم عمران خان کی عدم شرکت پر ترکی
کافی ناراض ہوا تھا لیکن وہ پاکستان کی صورت حال سے بخوبی واقف تھا کہ کن وجوہات
کی وجہ سے عمران خان نے شرکت سے معزرت کی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے اس معاملے کو بھی نواز شریف نے اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی لیکن
یہاں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
ان سب کوششوں کے باوجود مقتدر حلقے نواز شریف پر واضح کر چکے ہیں کہ جس سے بھی
سفارش کروالیں یا چالیں چل لیں لیکن حکومت ان سے کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔

شریف خاندان کو منی لانڈرنگ اور دیگر مقدمات میں عدالت سے ہی رجوع کرنا چاہیے۔
مقدمات میں وہ قصور وار ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ تو عدالت نے کرنا ہے۔

سیاست کرنی ہے تو پارلیمنٹ حاضر ہے اس طرح باہر بیٹھ کر اداروں پر الزامات عائد کرنا
کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

قریبی سرمایہ کار کیوں‌ ساتھ چھوڑنے لگے؟

نواز شریف کی دوغلی سیاست کی وجہ سے ان کے قریب تر تصور کی جانے والی بااثر
شخصیات بھی کنارہ کشی اختیار کرتی جارہی ہیں۔
قریبی ذرائع کہتے ہیں میاں منشا، چوہدری منیر اور ناصر جنجوعہ سمیت کئی افراد نے
مزید مالی مدد فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
وکلا کی فیسیں اور جاتی عمرہ کا خرچہ دینے سے بھی دوست اب انکار کر چکے ہیں۔
نواز شریف نے اب بھی اگر اپنی روش نہ بدلی تو امکان یہی ہے کہ مسلم لیگ ن صرف
اور صرف ان کی زات تک ہی محدود رہ جائے گی۔
امریکی، عرب شہزادے اور نہ ہی جرنلز سے منتیں، ترلے، سماجتیں اور رابطے الغرض
کچھ بھی ان کے کام نہیں آئے گا۔

آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے خلاف نئے پاکستان میں بغاوت کا مقدمہ درج


شیئر کریں: