شریف برادران کی بظاہر تندرست والدہ کی اچانک موت کی کیا وجہ بنی؟

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عثمان

لندن میں شریف فیملی کے اندروُنی ذرائع کے مطابق”؍جلاوطن” سابق وزیراعظم “نُون لیگ” کے قائد نوازشریف
کی والدہ جرنیلوں کی بدعہدی پر شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی کیفیت میں تھیں۔
جن کی منت سماجت پر بیگم میاں شریف نے بیٹے کو پاکستان چھوڑ جانے پر آمادہ کیا تھا۔
بیگم شمیم اختر کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی
مُلک کی طاقتور ترین شخصیت نے آخری آپشن کے طور پر شہباز شریف کے “تعاون” سے بیگم شمیم اختر سے
مُلاقات کی اور اُن کے پاؤں پکڑ کے نوازشریف کو لندن جانے پر منا لینے کی درخواست کی تھی اَور بدلے میں
اہم یقین دہانیاں کروائی گئی تھیں جو پُوری نہ کی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ “فرشتوں” کی اسی مُبینہ بدعہدی نے ؍بالآخر نوازشریف کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اعلان
جنگ پر مجبُور کیا جو اُنہوں نے 20 ستمبر کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں کیا۔

باور کیا جاتا ہے کہ شریف فیملی کو بقول اس کے “خاکیوں” کی طرف سے اُوپر تلے cheat کئے جانے نے مُسلم
لیگ (ن) کے قائد کو اس قدر مُشتعل کردیا کہ 20 ستمبر کو مُتحدہ اپوزیشن کی قیادت کے ؍اجتماع سے خطاب میں پھَٹ پڑے۔

مُلک کی سب سے بڑی سیاسی قوت کے قائد اور اس وقت پاکستان کے سب سے مقبُول سیاسی لیڈر جو
پچھلے 3 سال سے ریاست اور ریاستی اداروں کے زیر عتاب چلے آرہے تھے۔

اکثریت کے نمائندہ ہونے کے باوجُود “عسکریت” کے ساتھ معاملہ کرنے کی کوششوں کے جواب میں فیصلہ
کُن کردار کی حامل قوتوں کی ؍اس پے در پے cheating پر ان کے ساتھ “سیدھے” ہوجانے پر مجبُور ہوئے۔

نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

یہاں تک کہ سابق وزیراعظم نے اُلٹا حاضر سروس طاقتور شخصیات کو براہ؍ راست دباؤ اور defensive پوزیشن میں لانے کا فیصلہ کرلیا ، گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے پہلے جلسہ عام سے خطاب میں جن کے نام لے کر نئی تاریخ رقم کی . تجزیہ کاروں کے نزدیک مُلک کی top “خاکی” شخصیت کے آبائی علاقے میں اُسے للکار کر نوازشریف نے پہلا سیاسی “چھکا” لگایا

ذرائع کے مطابق لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید کے دوران اھم شخصیات معرُوف سیاسی ؍بچولے ملک ریاض کو ساتھ لے کر رات کی تاریکی میں نواز شریف سے مُلاقاتیں اور مذاکرات کرتی رہیں ، جس کے بعد پنجاب سے اس پہلے سیاستدان جس کا بوجھ اُٹھانا خاکیوں سمیت موجودہ سیٹ اپ کے لئے بُہت مشکل ہو رہا تھا ، کو خُدا خُدا کرکے بالآخر “براستہ سروسز اسپتال” لندن بھجوا دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اس سلسلے میں “اسٹیبلشمنٹ نواز” ہونے کی شہرت رکھنے والے چھوٹے بھائی شہبازشریف کے بھرپُور تعاون
کی مدد سے آخری اپشن کے طور پر نواز شریف کی والدہ کو راضی کیا گیا کہ وہ کسی طرح نوازشریف کو علاج کے بہانے لندن نکل جانے پر منا لیں تاکہ اسٹیبلشمنٹ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو سُکھ کا سانس لے کر آگے بڑھنے کا موقع دے سکے۔

لیکن بعد میں وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی ایک انڈر اسٹینڈنگ کے تحت عمران خان کو شریف فیملی
کے خلاف “کَم چُک” دینے یعنی انتقامی کارروائیوں کا محاذ ایک بار پھر سے گرم کر دینے کی کھُلی چھُوٹ
دے دی گئی ، جو “زرداری ، نوازشریف کے احتساب” پر مبنی اپنے اکلوتے بیانیہ کی لاج رکھنے اور ساکھ
بچانے کے لئے سخت ؍فکر مند تھے۔

یوں “فرشتوں” کی موجُودہ جوڑی نے شریف فیملی بالخصوص بیگم میاں شریف کے ساتھ کئے گئے
وعدے وعید اور کروائی گئی یقین دہانیوں سے آنکھیں پھیر لیں۔
حالانکہ نوازشریف اور ان کی بیٹی نے اپنی زبان کا پاس رکھتے ہوئے ایک عرصہ تک چُپ کا روزہ بھی رکھے رکھا۔
یہاں تک کہ اس دوران “ضامن” جرنیل کی عہدہ میں ایکسٹینشن یقینی بنانے کا بھی اہتمام کیا۔

دُوسری جانب سے یکسر آنکھوں پھیر لئے جانے کا صدمہ شریف فیملی کی طرف سے ضامن بننے والی
نوازشریف کی والدہ دل پر لے گئیں اور خاندانی ذرائع کے مطابق ایک عرصہ سے ٹینشن میں مبتلا تھیں
یہ کیفیت بالآخر ان کی موت پر منتج ہوئی۔
حالانکہ انہیں کوئی دائمی عارضہ لاحق ہونے کی کوئی تشویش ناک اطلاعات نہیں تھیں۔
نوازشریف اور شہبازشریف کی والدہ کے انتقال پر “خاکی” چیف کے تعزیتی ٹویٹ کو باخبر حلقوں نے
“مضحکہ خیز” گردانتے ہوئے عقیل عباس جعفری کے ان اشعار کی عملی تفسیر قرار دیا ہے۔

پہلے شہر کو آگ لگائیں نا معلُوم افراد
اَور ؍پھر اَمن کے نغمے گائیں نامعلُوم افراد
پہلے میرے گھر کے اندر مُجھ کو قتل کریں
اَور ؍پھر میرا سوگ منائیں نامعلُوم افراد


شیئر کریں: