شاہد خاقان عباسی کے نمبر پورے لیکن اٹھارویں ترمیم پر کمیٹی بنانے میں ناکام

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

پاکستان مسلم لیگ ن کو ملک کی دوسری اور پھر کچھ وقت کے لیے سب سے بڑی جماعت رہنے کا درجہ حاصل رہا ہے۔
ملک کی دیگر جماعتوں کی طرح مسلم لیگ ن میں بھی فیصلوں کا اختیار فرد واحد میاں محمد نواز شریف ہی کے پاس رہا ہے۔
ملکی سیاست سے نواز شریف کے باہر ہونے کی وجہ سے پارٹی میں قیادت کے بہت سے امیدوار منظر عام پر آچُکے ہیں۔
نواز شریف کے بعد زیادہ تر معامالات ان کے چھوٹے بھائی میاں محمد شہباز شریف سنبھالا کرتے تھے۔
کہتے ہیں نہ کہ حالات و واقعات اور موسم کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔
نواز شریف کو عدالت نے 2018 کے انتخابات سے کچھ ہی وقت پہلے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے تاحیات نااہل قرار دے دیا۔
اس فیصلے نے مسلم لیگ ن کی طاقت اور حیثیت دونوں ہی کو کمزور کر دیا ہے۔
اس دوران نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے “وٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگایا۔
اسی نعرہ کو لے کر ریلیاں نکالی گئیں لیکن طاقت کے مرکز کے ساتھ بات چیت بھی چلتی رہی۔
پھرعلاج کے لیے سابق وزیر اعظم نواز شریف لندن چلے جاتے ہیں۔
شہباز شریف بھی بھائی کے ساتھ ہی جاتے ہیں پاکستان میں پارٹی کی باگ دوڑ مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی سنبھالتے ہیں۔
پارٹی قیادت کے لیے پاکستان اور لندن میں کھینچا تانی بھڑتی چلی گئی۔
لندن میں اسحاق ڈار گروپ بندیاں کرنے لگے گو نواز شریف سے ان کے تعلقات ماضی جیسے نہیں رہے۔
پاکستان میں مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال متحرک ہوئے۔
ساتھ ہی شہباز شریف کی قیادت میں خواجہ آصف اور چند لوگ سرگرم ہیں۔
شہباز شریف نے لندن سے واپس آکر یہ تاثر دینے کی کوشش کی انہیں اہم زمہ داریاں دینے کے لیے بلایا گیا ہے۔
ان کے اس پیغام کے بعد پارٹی کی رہی سہی ساکھ بھی مجروع ہو گئی۔
ملک میں اس وقت اٹھارویں ترمیم اور نیب میں ترامیم پر سیاست چل رہی ہے۔
اس صورت حال میں شہباز شریف نے اٹھارویں ترمیم اور نیب ترامیم پر پارٹی رہنماؤں کو خاموش رہنے کی ہدایت کی ہوئی ہے۔
تیزی سے بدلتی سیاسی صورت حال میں مسلم لیگ ن کے اندر قیادت کے حصول کی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔
ذرائع کا کہنا شاہد خاقان عباسی نے مسلم لیگ ن کی پارلیمانی ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں بڑی کوشش کی کہ اٹھارویں ترمیم اور نیب پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔
مجوزہ کمیٹی میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق شامل ہوں جو ان دونوں ایشوز پر مقتدر حلقوں سے مذاکرات کرے گی۔
پارلیمانی ایڈوائزری کمیٹی نے شاہد خاقان عباسی کی اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا معاملہ اگلے اجلاس تک بڑھا دیا کیونکہ اس ایڈوائزری کمیٹی میں سب شاہد خاقان عباسی کے ساتھ نہیں ہیں ۔
اس کے باوجود شاہد خاقان عباسی مسلسل کوششوں میں لگے ہیں کہ کسی طرح کمیٹی بن جائے اور پھر وہ مرکزی دھارے میں آجائیں۔
موجودہ صورت حال میں شاہد خاقان عباسی اور دیگر رہنماؤں کے نزدیک اگر ابھی خاموشی اختیار کی گئی تو پھر کچھ نہیں بچے گا۔
یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے یہ دو گروپ آمنے سامنے آچکے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی سیاست میں نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں۔
مسقبل کی سیاست میں اپنی غلطیوں کی وجہ سے شہباز شریف کے نمبر کہیں نہیں اور شاہد خاقان عباسی اپنے نمبر تقریباً پورے کروا چکے ہیں۔
موجودہ صورت حال میں “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگانے والی مریم نواز بھی دوڑ میں بہت پیچھے رہ چکی ہیں۔
پارٹی کے لوگ بھی اب یہی کہنے لگے ہیں کہ بہت ہو گئی سیاست اور جماعت کے فیصلے اب ملک کے اندر ہی ہونے چاہئیں۔
اسی لیے موجودہ صورت حال کا سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں اور ان کا مخالف گروپ بھی اب بھرپور متحرک ہو چکا ہے۔


شیئر کریں: