شاہد خاقان عباسی نواز کیمپ کیلئے “درے کی توپ” تو نہیں؟

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

پاکستان مسلم لیگ ن میں قیادت کی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔
پچھلے کچھ عرصے سے پارٹی میں تین کیمپ کام کر رہے ہیں لیکن اب ان کیمپوں میں بھی اکھاڑ پچھاڑ شروع ہو چکی ہے۔
نواز شریف لندن سے ہی پارٹی معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔
اسی طرح شہباز شریف اور پھر مریم نواز کیمپ پارٹی پر اپنی اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے متحرک ہیں۔
کورونا کی وبا کے دوران پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی پارٹی میں اختیارات کی جنگ بھی تیز ہو گئی ہے۔
کرپشن کیسزکا نیا پنڈورا باکس کا کھلنا، نیب قانون اور اٹھارویں ترمیم کی راگنی نے سب کچھ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
کورونا وائرس جہاں سماجی دوریاں پیدا کرنے کا موجب بنا ہے بالکل اسی طرح کہتے ہیں پاکستان مسلم لیگ کے لیے
بھی ایک شخصیت دوریاں بڑھانے کا سبب بن چکی ہے۔
پارٹی کے اندر اختیارات اور قیادت کے حصول کی کشمکش “پارلیمانی مشاورتی اجلاس” میں زیادہ نمایاں ہونے لگی ہے۔
ابھی دو روز پہلے ہی اسلام آباد میں پارلیمانی مشاورتی اجلاس ہوا۔
اجلاس میں پارٹی کے اہم اور متحرک مرکزی رہنما نے جب ایک اہم ایشو پر اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی تو وہ انہیں انتہائی مہنگی پڑ گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے شاہد خاقان عباسی نے اس شخص کے عہدہ کا بھی پاس نہیں رکھا اور بری طرح جھڑک دیا۔
شاہد خاقان عباسی نے پھر کہا اگر انہیں کوئی پیغام یا بات کہنی ہے تو وہ براہ راست کیا کریں۔
اس طرح کے اجلاس میں آئندہ کبھی پیغامات دینے کی کوشش نہیں کرنا۔
پہلے بھی وہ مقتدر حلقوں سے براہ راست مذاکرات کے لیے اجلاس سے اختیارات لینے کی کوشش کر چکے ہیں جس میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پاکستان میں موجود دیگر رہنما ان کے راستے کی دیوار بن چکے ہیں اور میاں شہباز شریف بس دور سے تماشا دیکھ رہے ہیں۔
نئی سیاسی صف بندیاں دیکھتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سیل بنانے کا بھی اشارہ دے دیا ہے۔
میڈیا سیل اسلام آباد سے چلایا جائے گا اس کی نگرانی مریم اورنگزیب کریں گی۔
شاہد خاقان عباسی پہلے بھی کہتے رہے ہیں کہ مریم اورنگزیب پارٹی کے لیے بہت اہم ہیں۔
اس وقت مریم اورنگزیب ہی سب سے زیادہ متحرک دکھائی دیتی ہیں۔
میڈیا سیل کے اخراجات سے متعلق جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے
رکن قومی اسمبلی برداشت کریں گے۔
اسلام آباد سے تو مسلم لیگ ن کے واحد رکن قومی اسمبلی طارق فضل چوہدری ہیں۔
طارق فضل چوہدری پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ وہ کس کس کے اخراجات براداشت کریں گے۔
دراصل یہ سب کچھ بدلتی سیاستی صورت حال میں اہم پوزیشن کے حصول کی خاطر کیا جارہا ہے۔
موجودہ نظام میں عنقریب بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی بازگشت بھی عام ہے۔
شاہد خاقان عباسی پارٹی قیادت میاں محمد نواز شریف سے بارگین پوزیشن حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
تمام جماعتوں کی طرح مسلم لیگ ن کے بھی فیصلے فرد واحد ہی یعنی نواز شریف کے پاس ہیں۔
پارٹی پر کمزور ہوتی گرفت کے بعد اب ان سے فیصلوں کا اختیار چھیننے کی کوششیں زور پکڑ چکی ہیں۔
اختیارات کی چھیناجھپٹی کی وجہ سے مضبوط ترین نواز شریف کا کیمپ اب کمزور لگنے لگا ہے۔
نواز شریف کی وطن سے غیر حاضری اور شہباز شریف کی بے بسی کی وجہ سے شاہد خاقان عباسی خود کو طاقتور سمجھنے لگے ہیں۔
شریف فیملی کی طرح شاہد خاقان عباسی بھی مقتدر حلقوں سے ڈیل اپنی شرائط پر کرنا چاہتے ہیں۔

نواز شریف کے استقبال کے لیے ائیرپورٹ نہ پہنچ کر شہباز شریف نے بڑی غلطی کی تھی جس کے بعد سے
ان کی پارٹی پر گرفت کمزور پڑتی گئی اور اب وہ بالکل کارنر ہو کر تماشا دیکھ رہے ہیں۔

پارٹی کے سنجیدہ کارکنوں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے تو کی غلطی لیکن میاں صاحب شاہد خاقان عباسی
کو وزیر اعظم بنا کر زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر بیٹھے۔
شاہد خاقان عباسی حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ اگر اٹھارویں ترمیم سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تو
پارٹی اور سیاست بھی چھوڑ دیں گے۔

ان تمام حالات میں نواز شریف وطن واپسی میں جتنی تاخیر کریں گے حالات اتنے ہی خراب اور پارٹی
میں توڑ پھوڑ اتنی ہی آسان ہوتی چلے جائے گی۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شاہد خاقان عباسی نواز شریف کیمپ کے لیے “درے کی توپ” ثابت ہو رہے ہیں۔
صحافتی تقاضے پورے کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی اور مریم اورنگزیب دونوں سے تین دن تک
مسلسل رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کال نہیں اٹھائی۔
موبائل پر بھیجے گئے پیغام کو دونوں نے دیکھ لیا لیکن جواب پھر بھی نہیں دیا۔


شیئر کریں: