سیٹھ عابد پاکستان کی ایک پراسرار اور انتہائی طاقتور ترین شخصیت

شیئر کریں:

کہا جاتا ہے کہ سیٹھ عابد نے پس پردہ رہ کر پاکستان کے لیے ایسے کام کردیے ہیں جو
پاکستان کی بقا کے ضامن رہے گے۔
سیٹھ عابد کا شمار دنیا کے بڑے اسمگلرز میں ہوتا ہے اور ان کی انڈورلڈ میں خاص اہمیت رہی۔

سیٹھ عابد کون تھا؟

یہ بات مشہور ہے کہ کراچی کا یہ اسمگلر عالمی پابندیوں کے باوجود جوہری پروسیسنگ
یونٹ پاکستان اسمگل کر کے لایا۔
ماجرہ کچھ یوں ہے کہ ستر کی دہائی میں بھارت نے ایٹمی بم کی تیاری پر کام شروع کیا تو
پاکستان کو اس کی خبر ہو گئی۔
بھارت کی طرف سے جوہری ٹیکنالوجی کی تیاری کے بعد پاکستان کے بقا کو خطرات پیدا
ہونا فطری عمل تھا۔

اس لیے پاکستان نے اپنی بقا و سلامتی کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کی منصوبہ بندی شروع کی
اور ادھر عالمی طاقتوں کو سن گن ہو گئی کہ پاکستان بھی جوہری ٹیکنالوجی کے حصول
کے لیے کوشاں ہے۔

فرانس سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے پیشگی رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے پاکستان پر تجارتی
پابندیاں عائد کردیں۔
ایسی صورت حال میں پاکستان کے بڑوں نے سرجوڑے اور فیصلہ کیا یہ کام تو ہرصورت کرنا ہی ہے۔
اب اس کی تکیمل کے لیے جوہری پروسیسنگ یونٹ کا پاکستان آنا ایک بڑا سوالیہ نشان تھا
جس کا حل تلاش کیا گیا۔

ویسے تو فلمز میں اکثر آپ نے دیکھا ہو گا بڑے کاموں کے لیے کسی بھی ہیرو کو تلاش کیا جاتا ہے
اور وہ چٹی بجاتے ہی کام انجام دے دیتا ہے۔
ایسا ہی ایک کردار پاکستان میں بھی موجود تھا بس عقاب جیسی نظر چاہیے تھے۔
ایسے میں دفاعی حلقوں نے بھٹو صاحب کو مشورہ دیا کہ پابندیوں کے بعد ایک ہی شخص ملک میں
جوہری پروسیسنگ یونٹ لا سکتا ہے۔

اور وہ شخص سیٹھ عابد ہے جسے دنیا انڈرولڈ کے ایک بڑے اسمگلر کے طور پر جانتی ہے۔
بس پھر کیا تھا سیٹھ عابد کو تلاش کر کے سامنے لایا گیا بات چیت ہوئی اور مشن امپوسیبل کو
ممکن بنانے کا مشن سیٹھ عابد کو سونپ دیا گیا۔
کام بڑا تھا جس میں جان جانے کا بھی خدشہ تھا لیکن مادر وطن کی عزت و ناموس کی خاطر یہ
جان کچھ نہیں تھی شیخ عابد کی نظر میں بس مشن مکمل کرنا تھا۔

یہ جا اور وہ لا

سیٹھ عابد نے اس کی منصوبہ بندی کی لائن آف ایکشن تیار کیا ٹیم بنائی اور پھر یہ جا اور وہ لا۔
سیٹھ عابد نے فرانس کے بحری راستے پروسیسنگ یونٹ اسمگل کیا اور پاکستان پہنچا کر سب
کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔

تو یہ تھے وہ سیٹھ عابد جنہوں نے دنیا کی ایجنسیوں کو ناکوں چنے چبوا دیے اور وہ اپنی بے بسی
کو لیے سوچتے ہی رہے کہ ایک شخص نے انہیں خاک چٹا دی اور احساس بھی نہ ہونے دیا۔
سیٹھ عابد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان نے بھٹو صاحب سے درخواست کی کہ اگر وہ اسمگلنگ
کو قانونی حیثیت دے دیں تو ایک ماہ میں ملک کا قرضہ اتار دیں گے۔

مگر عالمی پابندیوں کے خوف اور قوانین کی پاسداری کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
سیٹھ عابد کے بارے میں مشہور ہے کہ نوے کی دہائی میں جب ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر
پابندیوں لگیں تو انہوں نے پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا۔

سیٹھ عابد کا کاروبار اور خاندان

اب بات کرلیتے ہییں سیٹھ عابد کی ذاتی زندگی سے متعلق کہ وہ کیا تھے اور کہاں سے تعلق تھا۔
سیٹھ عابد کا تعلق قصور سے تھا ان کا خاندانی کاروبار سونے کا تھا ان کے والد کی کراچی کے صرافہ بازار میں دکان تھی۔
شیخ عابد حسین اپنے بھائیوں میں سب سے زیادہ ہوشیار اور ذہن تھے

گو کے سیٹھ عابد کی جوانی میں کمپیوٹر تو نہ تھا لیکن ان کا ذہن کمپوٹر کی طرح کام
کرنے کی خدادا صلاحیت رکھتا تھا۔

وہ اردو اور پنجابی کے ساتھ ساتھ گجراتی زبان پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے کیونکہ ان کا زیادہ
وقت کراچی ہی میں گزرا ۔
سیٹھ عابد لاہور میں ایک بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک اور خیراتی ادارے چلانے کے طور
بھی جانا جاتا رہا
سیٹھ عابد کو اللہ تعالی نے تین بیٹے اور ایک بیٹی سے نواز ۔
ان کے تینوں بیٹو میں دونوں چھوٹے بیٹے گونگے ، بہرے اور ذہنی طور پر معذور ہیں
جو امریکا میں کسی بورڈنگ ہائوس میں پلے بڑے
ان کے سب سے بڑے بیٹے ایاز محمود کو 2006میں لاہور میں اس کے اپنے ہی گارڈ میں مار دیا تھا ۔
کراچی میں رہائش پذیز سیٹھ عابد طویل علالت کی وجہ سے 85 سال کی عمر میں‌ انتقال کرگئے
وطن کا یہ گمنام سپاہی تاریخ میں کسی نہ کسی طور پر یاد ضرور رکھا جائے گا


شیئر کریں: