سینما انڈسٹری کیلیے پیکیج اور سینما گھر کھولنے کا مطالبہ

شیئر کریں:

(پشاور سے آفتاب مہمند)

خیبر پختونخوا سینما مالکان نے حکومت کی طرف سے لاک ڈائون کی وجہ سے مختلتف صنعتوں کے لئے ریلیف پیکج کے اعلان میں سینما انڈسٹری کو نظر انداز کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے فوری طور پر نظر انداز شدہ سینما انڈسٹری کے لئے ریلیف پیکح اور ایس او پیز کے تحت سینما گھر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مطالبہ خیبر پختونخوا سینما مالکان کے اجلاس کے بعد سینما مالکان کے نمائندوں و معروف ہدایتکار ارشد خان صالح محمد جواد خان حبیب اور دیگر نے پریس کانفرنس کے سوران کیا۔
اس موقع پر پشتو فلموں کے سپر اسٹار شاہد خان ہدایتکار عابد نسیم اور دیگر موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے دو ماہ کے لاک ڈائون کے بعد اب نرمی کرتے ہوئے نہ صرف بازار کھول دئیے گئے ہیں بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی شروع کردی گئی ہے۔

لاک ڈائون کی وجہ سے دو ماہ سے زائد عرصہ سے سینماگھر بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے اس صنعت سے وابستہ افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
حکومتی امداد میں بھی سینما صنعت سے وابستہ افراد کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ حکومت احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز کے ساتھ سینماگھر کھولنے کی اجازت دی جائے۔
ہم بھی اپنے بچوں کیلئے رزق کماسکیں لاک ڈائون کی وجہ سے سینماگھروں کے سینکڑوں ملازمین شدید مشکلات سے دوچارہیں۔
کوروناوائرس کے باعث لاک ڈائون میں نرمی کے بعد تاحال سینما ہالوں کو کھولنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے پشتو سینما انڈسٹری شدید مالی بحران کا شکا ر ہو گئی۔
اکثریت سینما مالکان کے پاس ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے پیسہ بھی نہیں اور سینما اسٹاف تنخواہوں سے محروم ہیں۔
سینما مالکان نے حکومت سے دیگر شعبوں کی طرح سینما انڈسٹری کے لِئے ریلیف پیکج کا مطالبہ کیا ہے۔
مارچ میں لاک ڈائون کی وجہ سے سینما ہالز بند پڑے ہیں سینما مالکان کا کروڑوں روپے کا نقصان ہو گیا ہے۔
حکومت نے لاک ڈائون سے متاثرہ شعبوں کے لئے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے لیکن سینما انڈسٹری کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
اس لئے حکومت فوری طور ریلیف پیکج کا اعلان کر کے ایس او پیز کے تحت سینما گھروں کو کھولنے کا اعلان کرے۔
انہوں نے پہلے سے زبوں حال سینما کی صنعت کو مزید ڈوبنے سے بچانے کا مطالبہ کیا ہے۔


شیئر کریں: