سیاسی تاش کے پتے ترتیب بدلنےکوتیار،کپتان سنبھال پائے گا؟

شیئر کریں:

ناراضیوں نے الفاظ کاروپ دھار لیا،تبدیلی سرکار کے اتحادیوں نے بدلتی سیاسی صورت حال میں سیاسی چالوں کو ترتیب دینا شروع کردیا سیاسی اداکار اپنا اپنا سکرپٹ لے کر وزیراعظم کے پاس پہنچ گئے، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی اتحادسے اڑان بھری تو حکومتی چھتری پر بیٹھے سیاسی کبوتروں نے بھی پھڑ پھرانا شروع کردیا، بلوچستا ن سے جمہوری وطن پارٹی کے شاہ زین نےحکومت کو مطالبات پورے نہ ہونے پرعلیحدگی کانوٹس بھجوا دیا، پہلے سے ناراض اتحادی ق لیگ نے بھی حکومت کو آنکھیں دکھانی شروع کردیں،ایم کیو ایم نے آج وزیراعظم سے ملاقات کے دوران اپنے مطالبات اوروزیر اعظم کے وعدے یاد دلائے، بلوچستان عوامی پارٹی بھی وزیر اعظم کے پاس اپنے شکوؤں کی پٹاری لے پہنچ گئی،سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے ق لیگ کے منت ترلے ڈالے لیکن رواداری کی سیاست کے سرخیل صدرق لیگ چوہدری شجاعت کو منانے میں ناکامی پر مایوس واپس آگئے، مہمانوں کو چائے بسکٹ سے زیادہ نہ کھلانے کیلئے مشہور کپتان نے اتحادیوں کو عشائیہ پر بلا لیا، شاہ زین بگتی نے یوٹرن لیتے ہوئے عشائیہ سے انکار کو اقرار کا نام دے دیا اور عشائیہ میں شرکت کی حامی بھر لی، لیکن چوہدری برادران نے عشائیہ میں جانے سے انکار کو فی الحال اپنا آخری فیصلہ قرار دے دیا ہے،عشائیہ کے دوران کپتان اپنی سیاسی بساط کیسے بچھاتا ہے، اور اپنے پتے کیسے کھیل رہا ہے، اس کا انتظار ہے۔۔۔ ادھر کپتان کے عاشق شیخ رشید نے بھی یار کے دستر خوان سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے، بہانہ طبعیت کی خرابی کا لگایا ہے، روٹی شوٹی کھا کے جانا کیلئے مشہور چوہدری برادران نے بھی اتحادیوں کیلئے دستر خوان سجا لیا ہے، ذرائع کے مطابق چوہدری برادران نے اتحادیوں کے عشائیہ کی دعوت کیلئے اتحادی جماعتوں کے کئی رہنماؤں نے لبیک کہہ دیا ہے، چوہدری برادران کی جانب سے حکومتی اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بلوچستان عوام پارٹی(بی اے پی) اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) سمیت آزاد ارکان کو دعوت دی ہے تاہم عشائیے میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کو مدعو نہیں کیا گیا،متحدہ اپوزیشن کی پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو نے دعوی کیا ہے شہباز شریف بیمار ہونے کے باوجود عمران خان کا پسینہ نکال رہا ہے، پسینے کے موسم ،مون سون میں ، بارشوں کی بوچھاڑ اور تپتے سورج سے بنتے حبس کے موسم اور آنے والے سیلابوں کی روانی میں کیا حکومت شدت کی حدت کو برداشت کر پائے گی۔ یا ۔۔بزبان شاعر،،،جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارہ کرتے ہیں۔


شیئر کریں: