سیاسی بنیادوں پر زرعی قرضوں کی تقسیم معاف کس کس نے کرایا

شیئر کریں:

کم ترقیاتی یافتہ علاقوں سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے زیڈ ٹی بی ایل کا گیا ریکارڈ مسترد کر دیا۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی عثمان کاکڑ نے کہا ماضی میں سیاسی بنیادوں پرزرعی قرضے دیئے گئے اور معاف بھی ہوئے۔ سینیٹرعثمان کاکڑ کی سربراہی میں سینٹ کی فنگشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقوں کے اجلاس میں زرعی ترقیاتی بنک کے حکام نے گزشتہ ماہ کے آخر تک تقسیم کئے گئے زرعی قرضوں کی تفصیلات پر بریفنگ دی۔بنک حکام نے بتایا کہ دسمبر دوہزار اٹھارہ تک کم ترقی یافتہ علاقوں کل 2 لاکھ 68 ہزار 859 کلائنٹس میں10 ہزار 337 ملین روپے کا قرض تقسیم کیاگیا۔ان کم ترقی یافتہ علاقوں میں ہمارے بقایاجات 24 ہزار 42 ملین روپے ہیں جس میں سے 12 ہزار 465ملین روپے ریکور ہوچکے اور 12 ہزار 413 ملین روپے ڈیپازٹ ہیں۔زرعی ترقیاتی بنک کے قرض کی فراہمی کیلئے شرائط اور معیار ہے جس میں زمین اور پیداواری اخراجات پر ایکڑ کے حساب سے قرضے دئے جاتے ہیں۔ زرعی بنک کا مارک اپ ریٹ تیرہ فیصد ہے۔بنک حکام کا کہنا تھا کہ زرعی ترقیاتی بنک نے کم ترقی یافتہ علاقہ جات میں اب تک 6 ہزار 328 اکاونٹس کے 394 اعشاریہ 538 ملین روپے کا قرضہ معاف کردیا ہے۔اس پر کمیٹی چیئرمین عثمان کاکڑ نے کہا کہ آپ نے معاف کئے گئے قرضوں کی پوری تفصیلات پیش نہیں کی ہے، ماضی میں سیاسی بنیادوں پر زرعی قرضے دیتے بھی رہے ہیں اور معاف بھی کراتے رہے ہیں، ہمیں وہ ڈیٹا چاہئے کہ کن کن شخصیات کے قرضے معاف کئے گئے ہیں۔کمیٹی میں اس کی رپورٹ پیش کرے۔سیکریٹری خزانہ یونس ڈھاگا نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ چیئرمین کمیٹی نے بنک حکام کو ہدایت کی کہ پارلیمان سب سے بالا ادارہ ہے، یہ ہرادارے سے جواب طلب کرسکتا ہے ، اس کو چیلنچ نہیں کیا جاسکتا۔بنک کے ہیومن ریسورس افسر کی جانب سے لکھے گئے خط پر بھی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے برہمی کا اظہار کیا۔عثمان کاکڑ نے استفسار کیا کہ اس افسر نے یہ تاثر دیا کہ پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہم چاہتے ہیں کہ اداروں کے ساتھ ملکر کام کریں۔


شیئر کریں: