سیاست کے شاطر کھلاڑی کی چال کیوں ناکام ہوئی؟

شیئر کریں:

رپورٹ : علیم عُثمان

اسٹیبلشمنٹ نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ڈیل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اپنے گرد گھیرا تنگ ہونے کے خدشہ پر آصف زرداری بھی “علاج” کی غرض سے کسی بھی وقت بیرون ملک اڑان بھر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے عملاً قائد سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔
شاطر سیاست دان نے اپنی عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ کے تناظر میں ذات اور سیاست پر منڈلاتے سنگین خطرات کے پیش نظر پہلے اسٹیبلشمنٹ سے معاملہ کرنے کو ترجیح دی۔

بدلتی سیاسی صورتحال آصف زرداری سے مولانا فضل الرحمن کی ملاقات

پی پی پی قائد نے حال ہی میں ملک کی طاقتور ترین غیر سیاسی شخصیت سے رابطہ قائم کر کے خواہش ظاہر کی کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے کرنا چاہتے ہیں مگر طاقتور ترین شخصیت نے ان کے رابطہ کار کو یہ کہتے ہوئے “جواب” دے دیا “ملک میں پارلیمنٹ موجود ہے عدالتیں موجود ہیں۔
زرداری صاحب سے کہیں سویلین اداروں سے ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کریں قانون اپنا راستہ بنائے گا ہم ان معاملات میں نہیں پڑنا چاہتے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری چاہتے تھے کہ اپوزیشن کی دوسری اور ملک کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرح انہیں بھی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل مل جائے۔
اس لئے انہوں نے سب سے پہلے طاقتور ترین شخصیت سے رابطہ کرکے معاملہ کرنے کی کوشش کی لیکن “ادھر” سے صاف انکار کر دیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ مقتدر قوتیں نوازشریف کے ساتھ مبینہ ڈیل پر بھی اب پچھتا رہی ہیں۔

بنی گالہ کی اسٹیبلشمنٹ ٹوٹنے لگی

ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ سے مایوس ہو کر ملکی سیاست کے شاطر کھلاڑی کی شہرت رکھنے والے آصف زرداری نے فی الفور مولانا فضل الرحمن سے درخواست کر کے ہنگامی ملاقات کی جو ملک کی سب سے بڑی منظم مذہبی و سیاسی قوت کے قائد ہیں تاکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کا آپشن استعمال کرنے میں ناکامی کے بعد مقتدرہ کو بھرپور سیاسی دباؤ میں لانے کا آپشن استعمال کیا جاسکے۔
اس لئے کہ مولانا کے گزشتہ سال کے دھرنا سے پیدا شدہ دباؤ کے نتیجے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا یافتہ قیدی ہونے کے باوجود ڈیل مل گئی تھی۔لہذا دارالحکومت میں ایک اور سیاسی دھرنا دلوا کر مقتدرہ کو دباؤ میں لایا جاسکے۔

“نوُن لیگ” کی سیاست سے شہباز شریف گروپ غائب کمان “بہن بھائی” نے سنبھال لی

تاہم ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے قائد آصف زرداری جو شدید بیمار بھی ہیں۔
حفظ ماتقدم کے طور پر بیرون ملک اپنے علاج کی آڑ میں جلد سے جلد ملک سے نکل جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لہٰذا آنے والے دنوں میں کسی بھی لمحے ان کی بیرون ملک پرواز کی اطلاعات خارج از امکان نہیں۔
بعض مبصرین کے نزدیک ہو سکتا ہے اسٹیبلشمنٹ بھی یہی چاہتی ہو کیونکہ ان کی غیر حاضری میں سندھ کے واحد صوبے میں “نان پی ٹی آئی” حکومت رکھنے والی ملک کی دوسری بڑی اپوزیشن جماعت کی ملک میں موجود قیادت کو کنٹرول میں لانا مشکل نہیں ہوگا۔
یوں وزیراعظم عمران خان کی زیر قیادت مقتدر قوتوں کے سلیکٹ کردہ سویلین سیٹ اپ کو قدرے سکون سے جمے رہنے کا موقع مل سکے گا۔


شیئر کریں: