سیاستدان اور عدلیہ کب قابل تقلید ہوں گی؟

انتخابات کا نتیجہ نئے نظام کی راہ ہموار کرے گا

تحریر ندیم رضا
مملکت خداداد پاکستان میں معاشرہ کو سیدھا راستہ دیکھانے ، دوسروں کا احترام، قربانی اور انسانیت کا درس دینے والوں کی کمی نہیں۔
موٹی ویشنل اسپیکرز کی تو ہمارے ہاں کمی نہیں۔ پھر بھی وطن عزیز میں ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے گرا کے آگے
بڑھنے کا رجحان ہر سطح پر دیکھائی دیتا ہے۔
سب ہی ایک دوسرے سے سوالات کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ آج صبح ٹوئیٹر دیکھا تو وہاں دو تین ٹوئیٹس پڑھنے کا موقع ملا۔ آپ
بھی دیکھیے۔

پاکستان کا سب سے بڑا المیہ کیا ہے؟

اصولوں کی سیاست کرنے والے سیاستدان ندیم افضل چن نے ایک سیاسی ورکر سے کچھ سوالات کیے ہیں۔
کیا جمہوریت کو جاگیرداری یا سرمایہ داری کلاس نے زیادہ نقصان پہنچایا ؟
کیا ھماری جمہوری سیاسی جماعتوں نے ماضی کے تجربات سے کچھ سیکھا ؟
کیا اس ملک سے نقاب پوش نظام اب ختم ھو گیا ہے؟ کیا وہ نقاب پوش سیاست دان جو غیر جمہوری طاقتوں کو تقویت دیتے رہے ہیں
اب ہماری پارٹیوں میں نہیں ہیں؟ کیاموجودہ بیروکریٹک سسٹم عوام کو ڈلیور کر سکتاہے؟
یہ سوالات ندیم چن نے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق سے سوشل میڈیا پہ کیے ہیں۔

اس سے پہلے خواجہ سعد رفیق نے بھی ایک ٹوئیٹ کی تھی آئیے وہ بھی پڑھ لیجئے۔
“ہندوستان اور بنگلہ دیش ھم سے آگے کیسے نکل گئے ؟
‏جواھر لعل نہرو کو آزادی کے بعد 16 برس ملے مگرقائد اعظم ایک برس سے بھی کم عرصہ جیے۔
‏قوم کو آزادی دلانے والا لیڈر بڑی تبدیلیاں لا سکتا ہیں سب اس کے سامنے جھک جاتے ہیں۔
‏4 مارشل لاؤں اور پانچویں نقاب پوش مارشل لأ نے ہمیں یہاں تک پہنچایا-
‏جب ایسے حالات پیدا ہوں توعمران جیسے لوگ اقتدار کیلئے اپنی خدمات پیش کر دیتے ہیں اور ریاست تلپٹ ہو جاتی ہے۔ خواجہ سعد مسلم لیگ ن کے وہ رہنما ہیں جو بہت بظاہر آمریت اور خود پسند سیاسی کلچر کے خلاف تصور کیے جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باوجود بات چیت کے دروازے ایک دوسرے کے لیے کھلے رکھنے کے قائل ہیں۔
یہ سب کچھ اپنی جگہ اور موصوف اخلاقیات کے لیکچر بھی بہت خوب دیا کرتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے سعد رفیق بھی ان ہی سیاستدانوں اور شیخ چلی کی طرح ہیں جو باتوں ہی باتوں میں قوم کو فرش سے عرش پہ لے جاتے ہیں اور جب بات ہو عملی اقدام اور قربانی دینے کی تو سب کچھ بھول جاتے ہیں۔
اسی طرح کالم نویس یاسر پیرزادہ نے بھی ٹوئیٹ کی ہے کہ
نیدر لینڈ کا وزیر اعظم سائیکل پر دفتر جاتا ہے۔

اینجلا مرکل کے پاس تین کپڑوں کے جوڑے ہیں، برطانوی وزیر اعظم اپنا کام خود کرتا ہے۔ یہ باتیں سن سن کر ہمارے کان پک گئے تھے، اوپر سے مغربی فلسفے، تاریخ، جمہوری روایات اور اخلاقیات نے ہمیں یوں متاثر کیا ہوا ۔

قائد اعظم کے پاکستان سے کھلواڑ کون کر رہا ہے؟

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم بھی کہہ چکے ہیں لندن کے جج تو آج بھی سائیکل پہ عدالت جاتے ہیں اور میرے والد بھی سیشن کورٹ لاہور سائیکل پہ ہی جایا کرتے تھے۔ سب ماشااللہ دوسرے ممالک اور اپنے ماضی کی مثالیں تو بڑے فخر سے دیتے ہیں محض میڈیا کی ہیڈ لائنز کے لیے لیکن جب اس پہ عمل پیرا ہونے کا وقت آئے تو اس پر عمل ان کے علاوہ دوسرے کریں وہ بھی فوری طور پہ ورنا ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے اسموک کی روک تھام کے لیے سائیکل کلچر کو فروغ دینے کی بات تو کردی۔ لندن کے جج اور اپنے والد صاحب کا بھی ذکر کردیا۔ اب اگر کسی کو ناگوار نہ گزرے تو بھی ان تمام قابل احترام شخصیات ندیم افضل چن، خواجہ سعد رفیق، یاسر پیرزادہ اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے ایک سوال کرسکتا ہوں کہ یہ حضرات کب اپنی جانب سے دی ہوئی مثالوں پر عمل پیرا ہوکے معاشرے کے لیے مثال بنیں گے؟