سگنل پر کھڑی بھیک مانگنے والی جوان لڑکیاں

شیئر کریں:

تحریر امبرین زمان خان

گھر سے قریب آخری سگنل سے گھر پہنچنا انتہائی مشکل تھا۔ معاشرے میں ایسے ان گنت واقعات سن چکے ہیں لیکن ہر دفعہ ہی جسم کانپ جاتا ہے پتہ نہیں غلطی کس کی ہے۔گھر پہنچنے پر امی سے پوچھا یہ جو سگنل پر کھڑی لڑکیاں ہیں ان کو لوگ گھروں میں نوکریاں کیوں نہیں دیتے؟ اگر لوگ انہیں رکھ لیں تو یہ لڑکیاں اس طرح کی ذلت سے بچ جائیں۔
واقعہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ میں گاڑی میں بیٹھی سگنل کھلنے کا انتظار کر رہی تھی کہ اس دوران اچانک ایک لڑکی نمودار ہوئی۔ مجھ سے اگلی گاڑی کے شیشے کے بالکل پاس جا کر پیسے مانگ رہی تھی۔ لڑکی نے اپنے رخسار شیشے کے ساتھ لگا رکھے تھے۔ میں نے دیکھا گاڑی کا شیشہ نیچے ہوتا ہے۔ اب ایک ہاتھ باہر آتا ہے اور مانگنے والی نوجوان لڑکی کے جسم سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دیتا ہے۔ لڑکی شور مچانے کے بجائے کھڑی رہتی ہے۔ مسلسل پیسوں کا تقاضہ بھی کرتی رہی۔ ہاتھ بھی مسلسل ہلتا رہا اور پھر سگنل کھل گیا۔ سگنل سرخ سے سبز میں تبدیل ہوتے ہی گاڑی چلی گئی ۔مجھے سکتہ طاری ہوا۔ گاڑی میں اے سی چلنے کے باوجود پسینے پسینے ہو گئی۔ گھر پہنچنے تک عجیب سی گھبراہٹ کا شکار رہی۔ انجانے سے خوف نے پریشان کیے رکھا۔ خوف اور ڈر یوں تھا کہ یہ سگنل میرے گھر سے قریب آخری سگنل ہے ۔آفس آتے جاتے یا کہیں بھی جانا ہو وہاں اکثر رکنا ہوتا ہے۔ وہ لڑکی بعد میں بھی مجھے وہاں دیکھائی دی۔ لڑکی اسی طرح اچھلتی کودتی اور بھاگتی پھرتی۔ ایسی لڑکیوں میں خوف اور احساس ہوتا نہین یا خوف ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ابھی بھی سمجھ سے باہرہے۔
بعد میں بھی ہم لوگ اس ایشو کو ڈسکس کرتے رہے ۔تو میری بہن نے کہا کہ ان خواتین کئ وجہ سے بہت سے سفید پوش لوگ بھی اگر کسی کے گھر بیٹیوں کو کام پر بھیجنا چاہیں تو انہیں بھی ان بری کام والی لڑکیوں میں ہی گنا جاتا ہے ۔مجھے یاد ہے میری دوست اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سمیت گاوں سے لاہور پڑھنے آئی۔ گھر ان لوگون نے کرایہ پر لیا اور رواج کہیں یا روایت ایک کام والے لڑکی ان کے ساتھ بھیج دی گئی۔ اب وہ سب بہن بھائی اسکول کالج اور میری دوست یونیورسٹی جاتی اور کام والی لڑکی گھر ہوتی۔ نہیں پتہ کب اور کیسے اس لڑکی کے کسی کے ساتھ تعلقات قائم ہو گئے۔ میری دوست کا کہنا تھا کہ ہم گھر والوں کو پتہ تب چلا جب اس کا جسم تبدیل ہو چکا اور وہ چار ماہ کی حاملہ ہو چکی تھی۔
میں ایک گاوں کی پلی بڑھی لڑکی ہوں جہاں رواج ہے ہر گھر میں کام والی ٹونٹی فور سیون رکھنے کا۔ اب تو یہ رواج شہروں میں زیادہ عام ہو چکا ہے۔
میں نے بہت سی اپنے ہی خاندان اور جاننے والوں سے اس بارے میں بات کی تو سب کہتے ہیں یہ مظلوم نہین ہیں۔؟گھر کے گھر خراب کرتی ہیں ۔گھر کے صاحب کی ہمدردیاں لینا ،چوریاں کرنا دنوں میں مالکن بننا شاید خواہش لے کر گھروں میں کام کرنے گھستی ہیں ،ان میں ہمدردی یا خلوص نہین ہوتا۔ چوری کھانا کھانا عادت ہوتی ہے۔ مالک غصہ کریں تو غصہ بچوں پر اور چیزوں پر نکالتی ہیں ایک تو جاننے والی نے بتایا کہ میری کام والی اتنی عجیب تھی کہ میں سالن بناتی اور اگر جس دن بھول کر منہ سے نکل جاتا کھانا بس دم پر ہے تو چوری جا کر چولہا تیز کر دیتی اور کھانا جل جاتا ،اور وہ کہتیں ان کو سمجھ نہین آتا تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ۔جب روٹین ہی بن گئی تو کہتیں کہ چوری پکڑی گئی۔
میری ایک کزن ہے اس کے ماشااللّہ تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ سب ہی ابھی چھوٹے ہیں ان سب کی مدد کے لئے ایک کام والی چاہئیے تھی تو بہت دیکھ بھال کر وہ کسی گاوں سے لے آئے۔ سفید پوش لوگ تھے گاوں میں بیٹی کو کسی کے گھر کام کے لئے نہیں بھیجنا چاہتے تھے ،تو لاہور بھیج دیا اب اس کی تنخواہ پندرہ ہزار ماہانہ اور ساتھ ہر مالکن کپڑے تو دیتی ہی ہے اور کھانا الگ ،مجھے اس کو دیکھ کر اتنی خوشی ہوئی ،وہ اپنے باجی (مالکن)کے ساتھ نماز بھی پڑھتی تھی کام بھی کراتی تھی اور خوش تھی۔ ایسے بھی رہا جا سکتا ہے ۔ان لوگون کے مسائل کیا ہوتے ہیں ،کھانا سونا اور چاہے ایک ہی کمرے میں سارے گھر والے پوری زندگی رہیں جھگی بھی ہو تو چلے گی ،ان کے مسائل تو ہیں ہی نہیں۔ پھر ان کو تمیز کیوں نہیں ،عزت ہی بچا لیں اپنی ،اب ٹی وی پر کوئی خبر چلتی ہے مالکن نے تشدد کیا ملازمہ پر تو ایک دفعہ تو خواتین کہتی ہیں اس نے لازمی کچھ اتنا برا کیا ہو گا جو اتنا غصہ آ گیا ،خیر غصہ حرام ہے کسی بھی صورت میں کنڑول کرنا چاہئیے ۔اور ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں لڑکیوں کو لے کر عجیب سا خوف لگا رہتا ہے۔ رات کے وقت بیٹی اور باپ بھی کہیں سڑک پر اکیلے جارہے ہوں تو ڈر لگتا یہ مرد کسی کی بیٹی کو اغواہ کر کے تو نہیں لے جارہا۔ کچھ دن پہلے کی بات ہے میراگھر جس سوسائٹی میں ہے وہاں سروس لین میں ایک غبارے بیچنے والا بیٹھا ہوا تھا لیکن اس کے پاس ایک چھوٹی بچی بیٹھی ہوئی ہے اور سروس لین میں بہت اندھیرا تھا۔ میں گزری وہاں سے گاڑی میں۔ ہو سکتا تھا اس کی اپنی بچی ہو لیکن میرے دل میں وہم بیٹھ گیا۔ میں نے پولیس اسٹیشن فون کیا اور بتایا کہ آپ چیک کریں وہ بچی کون ہے ۔جس نے فون اٹھایا خاتون تھی اس نے بولا میڈیم آپ اپنا نام فون نمبر اور مکمل ایڈریس بتائیں ۔
میں گھر پہنچی تو دس منٹ بعد دوبارہ فون آیا کوئی کانسٹیبل تھا پوچھ رہا تھا کیا جگہ ہے دوبارہ بتا دیں خوشی ہوئی کہ چلو پولیس اتنی ایکٹیو تو ہوئی ۔
تھوڑے وقت بعد دوبارہ فون آیا کہ میڈم وہ اس کی اپنی بیٹی ہے ہم اس کے پاس کھڑے ہیں ۔میں نے کہا چلو شکریہ۔ میرے دل میں جو وہم تھا وہ ختم ہو گیا تھا ۔ایسی بہت سی کہانیاں جو لکھ سکتی ہوں۔بہت سی تنظیمیں بھی ان سگنل پر کھڑی خواتین کے لئے کام کر رہی ہیں ،ان کے ہمدرد بھی بہت سے ہیں ان کو بھیک مانگ کر روزانہ کھانا بھی مل جاتا ہو گا ،اللہ کی زمین پر کوئی بھوکا نہیں سوتا لیکن یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ عزت نہ کوئی تنظیم دلوائے گی اور نہ کوئی گاڑی میں بیٹھا مرد یا عورت وہ ہر انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ زندگی کیسے گزارنی ہے۔


شیئر کریں: