سکم بارڈر پر چینی اور بھارتی فوج میں تصادم، متعدد ہلاک اور زخمی

شیئر کریں:

سکم بارڈر پر چین اور بھارت کی فوجیں ایک بار پھر سے آمنے سامنے آئی ہیں دونوں افواج میں تصادم
کے سبب متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں.
چین اور بھارتی فوجیوں میں جھگڑا اس قدر شدید تھا کہ بڑے پیمانے پر فوجی زخمی ہوئے ہیں تاہم
ابتدائی طور پر ہلاک اور زخمی فوجیوں کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی.

چین نے بھارتی علاقے میں مزید 3 گاوں بسا لیے

چین اور بھارتی فوج کی مقامی قیادت سکم بارڈر پر ٹکراو کی کیفیت کو ختم کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے.
ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران ماحول تلخ ہونے پر تصادم ہوا.
چین اور بھارتی فوج کے درمیان یہ تصادم تین دن پہلے ہوا لیکن اس کی تفصیلات آج سامنے آئی ہیں.
یاد رہے کہ سکم اور لداخ بارڈر پر گزشتہ ایک سال سے چین اور بھارت میں شدید کشیدگی جاری ہے
یہاں‌ دونوں‌ جانب کے ایک لاکھ سے زیادہ فوجی تعینات ہیں .

لداخ میں بھارت اور چین کی فوجیوں میں تصادم

بھارتی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ تصادم میں دس سے زائد فوجیوں کے شدید زخمی ہوئے ہیں۔
اس ساری صورت حال پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
بھارتی حکومت کے ڈر اور خاموشی پر کانگرس کے رہنما راہول گاندھی نے نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
راہول گاندھی نے اپنے ٹویٹ میں بھارتی وزیراعظم سے سوال کیا ہے
کہ چین ہمارے علاقوں پر قبضہ کر رہا ہے اور حکومت کچھ نہیں کررہی۔
راہول گاندھی نے نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے
کہ چھپن انچ چھاتی والے وزیراعظم اس ساری صورت حال پر خاموش کیوں ہیں؟

بھارتی چکن نیک کٹنے کے لیے تیار، چین نے گاؤں بسایا کسی کو خبر بھی نہ ہوئی

گزشتہ سال بھی چین اور بھارت کی فوج میں جھڑپ میں درجنوں بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے.
بھارت کا الزام ہے چین لداخ بارڈر پر بھارتی علاقوں پر قبضہ کر رہا ہے.
دوسری طرف چین نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکم اور لداخ کے جن
علاقوں میں چینی افواج موجود ہیں وہ ہمیشہ سے چین کا حصہ تھے


شیئر کریں: