سچ کیا ہے اور کہاں‌ ہے؟

شیئر کریں:

تحریر اجمل شبیر
زندگی کو experience کرو گے تب ہی سمجھ آئے گی زندگی کیا ہے ،خیالات کی امیجینیشن کے گھوڑے پر بیٹھ کر زندگی کو سمجھا نہیں جاسکتا ۔صدیوں سے ہم خیالات کی امیجنیشن کے گھوڑے پر ہی سوار ہیں اور زندگی کو بھول گئے ہیں۔

خود کو سمجھنا ہے تو تھاٹس کے گھوڑے پر سوار ہو کر خود کو مت سمجھیں ،میں کون ہوں؟ یہ سمجھنا ہے تو خود میں گہرائی سے اتریں ،خود کو دیکھیں ،جتنا گہرائی میں اتریں گے ،خود کو دیکھیں گے ،خود کی سمجھ آتی چلی جائے گی ،اسی کا نام spirituality ہے ،خود کو سمجھنے کے سفر کا نام spirituality ہے ۔

Rituals is not life
Thoughts is not life
Words and interpretations of these words is not life
To follow someone or some kind of ideology is not life
ہمیں کہیں جانا نہیں ہے ،کہیں پہنچنا نہیں ہے ،ایک جگہ سے دوسری جگہ پر زندگی کو تلاش کرنے نہیں جانا ،ہمیں خود کو جاننا ہے ،اب خود کو جاننے کے لئے کیا کسی ritual کی ضرورت ہوسکتی ہے ۔جہاں پر ہیں وہاں پر ہی رہنا ہے ،خود کو جاننا ہے تو جنگل کیوں جانا ہے ،کسی فقیر سے ،پیر سے تعویز کیوں لینا ہے ،rituals میں کیوں گھسنا ہے؟نظریات یا خیالات تھوڑی دیر کے لئے آپ کو peace دے سکتے ہیں ،لیکن آپ خود کو جان گئے تو پھر آپ permannant peace کو انجوائے کریں گے
This is called spirituality
جس انسان کو یہ دلچسپی ہے کہ وہ کون ہے؟ وہ کیا ہے ؟ یہ زندگی کیا ہے؟ سارا کھیل کیا ہے ؟ جو زندگی کی اہمیت کو دیکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے اسے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے،کہیں بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے ،کسی کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے ،اس کو خود کو سمجھنے میں دلچسپی ہے تو وہ بیٹھے بیٹھے سمجھتا چلا جائے گا اور پھر ایک دن آئے گا کہ خود میں گہرائی سے اتر جائے گا ،پھر اسے سمجھ آجائے گی کہ زندگی کیا ہے
This is called spirituality
آپ اسی وقت ہو ،ابھی ہو ،لمحہ موجود میں ہو ،تو اس کے لئے کیا کرنا ہے ؟ کہاں بھاگنا ہے
Life is a game of understanding
Understanding the spirit is spirituality
انسان صدیوں سے نظریات ،تھاٹس ،rituals اور faith یا religion کو پکڑے بیٹھے ہیں ،اور کچھ کئے جارہے ہیں ،اسی کو ہی اینڈ گول سمجھ رہے ہیں ،کبھی خود سے سوال نہیں کیا کہ یہ جو کچھ میں کررہا ہوں ،کیوں کررہا ہوں ،کیا اسی کا نام زندگی ہے ؟

کیا کچھ کرنے کا نام spirituality ہے یا خود کو سمجھنے کا نام spirituality ہے ؟

کبھی ہم نے سوچا ہم rigid کیوں ہیں؟ اپنے خیالات اور نظریات کو ہی سچ سمجھتے ہیں،ایسا کیوں ہے؟ خود سے پوچھیں ،ایسا کیوں ہے؟

ہم اپنے اپنے بیلفز کو پکڑے بیٹھے ہیں ،کسی کی بات نہیں سنتے ،کوئی کہے کہ زندگی یہ ہے تو ہم کہتے ہیں ،مجھے مت بتاو ،زندگی کیا ہے؟ میں جانتا ہوں کہ زندگی کیا ہے؟ کبھی سوچا ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ نہیں سوچا تو سوچیئے ۔۔۔۔
ہم ہر وقت یہی کہتے رہتے ہیں ،ہمیں سب پتہ ہے ،ہمیں نہ بتایا جائے کہ زندگی کیا ہے؟ ہمارے بیلیف میں بتادیا گیا کہ یہ زندگی ہے ،اسے سمجھنے کا یہ پاتھ ہے ،ہم اس پاتھ پر چلیں گے ،جو اس پاتھ کو نہیں مانتا ،ہم اسے نہیں چھوڑیں گے ،سوچیں ،ایسا ہم کیوں کہتے ہیں ،خود سے سوال کریں؟ ایسا کیوں؟ خود سے سوال کریں گے تو جواب ملیں گے ،پھر ایک دن ایسا آئے گا آپ rigid نہیں رہیں گے بلکہ flexible ہوجائیں گے

جو کہے میرے پاس سارے جوابات ہیں ،میں سب جانتا ہوں ،بس یہی میرا بیلیف ہے ،وہ تھکے ہوئے لوگ ہیں ،اس لئے یہ لوگ باقیوں کو بھی تھکا رہے ہیں ۔یہ بوڑھے لوگ ہیں ،اندر سے ان کے اندر انرجی ختم ہوگئی ہے ،اب یہ چاہتے ہیں کہ کوئی اور بھی ایسا نہ رہے جس میں زندگی کو سمجھنے کی انرجی ہو

زندگی کو وہ سمجھ سکتا ہے جس میں ٹھہراو ہو ،ایسا مائینڈ جو اوپن ہو کچھ بھی نیا سیکھنے کو ،اسی کو سمجھ آسکتی ہے کہ وہ کون ہے ؟ زندگی کیا ہے؟ انتشار اور بیلف زدہ مائینڈ زندگی کو نہیں سمجھ سکتا

ایسا مائینڈ جو کوئی بھی نئی بات سننے کو تیار ہو ،ایسا مائینڈ جو ہر وقت کچھ سمجھنا چاہتا ہو ،وہی مائینڈ زندگی کو سمجھ سکتا ہے

زندگی کے لاکھوں dimensions ہیں ،ان کو explore کرنا ہے تو اپنا مائینڈ اوپن رکھیں۔ بند دماغ زندگی کو explore نہیں کرسکتا ۔

زندگی میں جو کچھ کرتے ہیں ،جو چاہتے ہیں پالیتے ہیں ،جس مزے میں جاتے ہیں ،پھر اس سے بور بھی ہوجاتے ہیں ،جس خواہش کے پیچھے دوڑتے ہیں ،جب پوری ہوجاتی ہے تو کچھ عرصے بعد بور ہوجاتے ہیں ،مطلب اس طرح زندگی گول گول گھومے جارہی ہے ،اسی طرح گھومتے رہیں گے تو کیسے زندگی کو explore کرسکتے ہیں؟

ہم کیا کررہے ہیں ،ہاتھ سے پانی پکڑنے کی کوشش کررہے ہیں ،زور لگارہے ہیں اس پانی کو پکڑ لوں ،کیا کبھی پانی ہاتھ میں ٹھہرا ہے ،پانی کا کام ہے بہنا ،وہ بہتا رہے گا ،زندگی بہتی ندی جیسی ہے ،یہ بہتی رہے گی ،ہم کیا کررہے ہیں ،اس زندگی کو پکڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔اس طرح زندگی کو کیسے سمجھا جاسکتا ہے ،زندگی کو expereince کرنا ہے ،explore کرنا ہے ،اس کی لاکھوں dimensions کو سمجھنا ہے تو خود کو سمجھیئے ،خود کی اندر کی دنیا میں دیکھیں ،اس ،میں،کو سمجھیں؟

زندگی کو سمجھنے کی بہت ساری possibilities ہیں ،خود سے یہ سوال کریں؟ کیا زندگی کو سمجھنے کا راستہ صرف فکسڈ نظریات ہیں جو صدیوں سے رائج ہیں ،یا کوئی اور possibilities بھی ہیں

ہم جس سماج میں رہتے ہیں وہاں دماغ بند ہیں ،ہم اس قدر rigid ہیں کہ کسی کی بات سننے کو بھی تیار نہیں ،خود سے سوال کریں ایسا کیوں ہے؟

ہم سائیکلوجیکل ڈس آرڈرز کا شکار ہیں؟ کیوں؟ کیونکہ ہمارے دماغ بند ہیں؟ ہم اپنے اپنے باکس میں جی رہے ہیں ؟ اسی کو ہی سب کچھ سمجھ رہے ہیں ،زندگی کو خود سے سمجھنے کی کوشش نہیں کررہے،لائف کو exploreکرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ،مائینڈ اوپن نہیں ہے ،اس لئے سائیکلوجیکل ڈس آرڈرز ہیں ۔
تھاٹس پرابلم نہیں ہیں ،نظریات پرابلمز نہیں ،خیالات پرابلمز نہیں ہیں ،پرابلم تب ہے جب ہم کسی تھاٹ کے ساتھ چپک جائیں ،کسی نظریئے کے ساتھ چپک جائیں ،سوچیں کوئی اچھا یا برا تھاٹ آپ کے مائینڈ میں آیا ،وہ تھاٹ آپ کے مائینڈ سے نکل ہی نہیں رہا ،سوچے جارہے ہو ،سوچے جارہے ہو ،کیا ہوگا سائیکولیجیکل ڈس آرڈر کا شکار ہوجائیں گے ،اسی طتح نظریات ہیں ،جب ہم اس کے ساتھ چپک جاتے ہیں ،اور ادھر ادھر دیکھنا بند کردیتے ہیں ،زندگی کے تمام سوالات کو تالا لگا دیتے ہیں ،کسی خاص نظریئے کی جیل میں قید ہوجاتے ہیں تو پھر سائیکلو جیکل ڈس آرڈرز کا شکار ہوتے ہیں ،دیکھیں پھر کیا ہورہا ہے ؟

تھاٹ،یا نظریات تب پرابلم بنتے ہیں جب یہ مستقل ہمارے ساتھ چپک جاتے ہیں ،تھاٹ آئیں جائیں ،تب کوئی مسئلہ نہیں ،نظریات کو ہم دیکھیں ،اس پر سوال کریں ،اس پر سوچین اور پھر زندگی کو خود سے سمجھیں ،پھر کوئی پرابلم نہیں ہے

یہاں جانا ،وہاں جانا ،فلاں بابے کو فالو کرنا ،فلاں ریلیجن کو فالو کرنا ،فلاں فیتھ کو فالو،کرنا ،فلاں نظریئے کو فالو کرنا ،اس سے آج تک کچھ بدلا ہے نہ بدلے گا ،اس سے انسان کو نہ صدیوں سے زندگی کی سمجھ آئی ہے نہ آئے گی ،زندگی کو سمجھنا ہے تو خود کو فالو کیجیئے ،خود کے اندر دیکھیں ،اس ۔۔۔۔میں ۔۔کو سمجھیں ،یہ کیا ہے ؟ سمجھیں کہ میں ایگو ہوں یا کانشئینس ہوں؟

خود کی گہرائی میں اتریں دیکھیں ہم سب جڑے پڑے ہیں ۔میں اور توں کہیں ہے نہیں ،میں اور توں توصرف مائینڈ میں ہے ،زندگی کا سچ جو سمجھ گیا وہ جان گیا کہ سب ایک ہے ،میں اور توں صرف مائینڈ میں ہے اور مائینڈ سچ نہیں ہے ،سچ زندگی ہے ،سچ مائینڈ نہیں ہے ؟

We are connected with the whole
انسان کے تمام مسائل کی جڑ ،،،،میں ،،،، ہے ،انسان کے تمام سائیکلوجیکل ڈس آرڈرز کی جڑ میں ہے ،وہ میں جو ایگو کے گھوڑے پر سوار ہے ،وہ میں جو کانشئینس ہے وہاں کوئی ایشو نہین وہاں میں اور توں نہیں ۔ وہ میں جو ایگو ہے وہاں مسائل ہیں ،میرا فیتھ ،میرا ریلیجن ،میرا نظریہ ،میرا پوائنٹ آف ویو ،میری اولاد ،میری جائیداد ،میری زات ،میری زبان ،میرا ملک ،،،،،،یہ ایگو ہے ،یہ سب ایگو کا کھیل ہے ۔
جب انسان اس ،،،،میں ،،،،،پر سوال کرتا ہے ،تو تب ہی وہ زندگی کو سمجھنے کے سفر پر نکلتا ہے ،اسی طرح spirituality کے سفر کا آغاز ہوتا ہے
رومی نے اسی ،،،میں ،،،،،پر سوال کیا تھا ،سوال کرتے کرتے وہ فنا ہوگیا ،کھو گیا ،اب جگہ جگہ رقص کررہا ہے ،جگہ جگہ رومی ہے ۔جب انسان میں پر سوال کرتا چلا جاتا ہے تو اسے جواب ملتے جاتے ہیں اور پھر ایک لمحہ ایسا ہوتا ہے کہ اسے سمجھ آتی ہے کہ جس کے پیچھے میں بھاگ رہا ہوں ،وہی میں ہوں ،اسی کل کا جز ہوں ،اسی سکے کا ایک رخ ہوں ،اسی سچ کا سچ ہوں ،وہی ہوں

انسان جب ایگو والے میں کو دیکھتا تو کیا دیکھتا ہے،،،،،،،یہ تو جھوٹ ہے ۔میں تو کاشئینس ہوں ۔
You are that
جب انسان خود میں اتر کر خود کو دیکھ لیتا ہے تو اب میری تیری کے تمام گراونڈز مٹ جاتے ہیں ،میرا ،تیرا ،اس کا ،اس کا ،یہ سب کچھ مٹ جاتا ہے ،میرا نظریہ ،تیرا نظریہ ،میرا خیال ،تیرا خیال ،میرا فیتھ ،تیرا فیتھ ، اس سب کچھ سے انسان نکل جاتا ہے ۔ جب خود کو انسان جان جاتا ہے تو تھاٹس آئیں ،تھاٹس جائیں ،نظریات آئیں ،نظریات جائیں ،اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ،کیونکہ وہ سچ کو خود experience کر چکا ہے۔

دنیا مٹی کا گھروندہ ہے ،کچھ بھی بنا لو ،آندھی طوفان آئیں گے ،اس گھرونڈے کو متادیں گے ،لیکن آندھی طوفان میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ میں نہ پیدا ہورہا ہون ،نہ مررہا ہون ،میں کانشئینس ہوں ،میری وجہ سے ساری کائنات ہے ،میں کائنات کا سورس ہوں ،مجھے مٹانے کا کوئی طریقہ نہین

This is all spiritual understanding
جب انسان سمجھ گیا کہ وہ کیا ہے تو وہ فری سول ہوگیا ،سب سے آزاد ہوگیا ،اسی کا نام زندگی ،جب انسان فری سول ہوجاتا ہے تو ہی وہ زندگی کو experience کرسکتا ہے

This is inner peace
دنیا کے ہر انسان میں ایک موسیقی ہے ،وہی موسیقی دنیا کے ہر ہر انسان میں ہے ،اسی موسیقی یا سر کا نام گاڈ،بھگوان یا خدا ہے ،وہی موسیقی کائنات کے زرے زرے میں ہے ۔

اس پوری کائنات کا ایک میوزک ہے،اسی کے ساتھ ہم connected ہیں ،وہی میوزک ہم میں ہے اور اسی کا نام گاڈ ہے۔
زندگی کی سمجھ اسے نہیں آسکتی جس کے مائیند میں ہر وقت پیسہ گھوم رہا ہے ،چیزیں گھوم رہی ہیں یا لوگ گھوم رہے ،اس نے میرے ساتھ ایسا کیا ؟
زندگی کی سمجھ اسے آئے گی جو اپنے اندر کی موسیقی کو expereince کرتے کرتے کھوگیا اور رومی بن گیا،رومی کا رقص ،رومی کی موسیقی وہی موسیقی ہے جو کائنات کے زرے زرے میں ہے

زندگی کا سچ کیا ہے سب کچھ خدا میں ہے ،سب کچھ خدا ہے ۔جس کو یہ سمجھ آگئی کہ میں بھی وہی ہوں تو کہاں اور کیسے ہم کہیں پھنس سکتے ہیں ،کیسے ہم قید ہوسکتے ہیں


شیئر کریں: