سنگین غداری کیس،2 ججز نے سزائے موت ، ایک نے بری کیا،تفصیلی فیصلہ جاری

شیئر کریں:

اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
دو ایک کی اکثریت سے سنایا گیا فیصلہ 169 صفحات پر مشتمل ہے۔
خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو پانچ بار سزائے موت دینے کا حکم دے دیا، جسٹس وقار سیٹھ نے تفصیلی فیصلے میں لکھا ہے کہ پرویز مشرف اگر فوت بھی ہو جائیں تو ان کی لاش گھسیٹ کر تین دن تک ڈی چوک پر لٹکائی جائے
جسٹس شاہد کریم نے لاش کو ڈی چوک پر لٹکانے کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی سزائے موت کا 169صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
جسٹس وقار سیٹھ نے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے سنگین غداری کے جرم کا ارتکاب کیا، ان پر آئین پامال کرنے کا جرم ثابت ہوتا ہے اور وہ مجرم ہیں، لہذا پرویز مشرف کو سزائے موت دی جائے،
قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں گرفتار کرکے سزائے موت پر عملدرآمد کرائیں، اگر پرویز مشرف مردہ حالت میں ملیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک اسلام آباد میں گھسیٹ کر لایا جائے اور تین دن تک لاش کو لٹکایا جائے۔
جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک لانے اور لٹکانے کے جسٹس وقار سیٹھ کے فیصلے سے اختلاف کیا۔
اہم نکات:
• دو ججز کا فیصلہ 25 صفحات پر مشتمل ہے جب کہ جسٹس نذر اکبر کا اختلافی نوٹ 44 صفحات پر مشتمل ہے۔
• جسٹس سیٹھ وقار اور جسٹس شاہد فضل نے فیصلے میں لکھا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سنگین غداری کے جرم کا ارتکاب کیا۔
• دونوں ججز نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آئین توڑنے، وکلاء کو نظربند کرنے اور ایمرجنسی کے نفاذ کا جرم ثابت ہونے پر پرویز مشرف کو سزائے موت دی جائے اور انہیں اس وقت تک لٹکایا جائے جب تک ان کی جان نا نکل جائے۔
• خصوصی عدالت نے تفصیلی فیصلے میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو 5 بار سزائے موت کا حکم دیا ہے۔
• فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ پرویز مشرف پر 5 چارج فریم کیے گئے تھے، مجرم کو ہر جرم کے حوالے سے ایک بار سزائے موت دی جائے۔
• جسٹس نذر اکبر نے اپنے اختلاف نوٹ میں لکھا کہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔
• میں نے ادب سے اپنے بھائی وقار احمد سیٹھ صدرخصوصی کورٹ کا مجوزہ فیصلہ پڑھاہے، جسٹس نذر اکبر کا اختلافی نوٹ
• جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف نے 2007 میں ایمرجنسی نافذ کی ایمرجنسی کی لفاظی مختلف کرنے سے مارشل لاء لگانے کے اثرات کم نہیں ہوتے۔
• دو ججز نے پرویز مشرف کو پھانسی جب کہ ایک جج نے انہیں بری کیا ہے
• دو ججز نے فیصلے میں لکھا کہ جمع کرائے گئے دستاویزات سے واضح ہے کہ ملزم نے جرم کیا، ملزم پر تمام الزامات کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت ہوتے ہیں۔
• جسٹس سیٹھ وقار نے فیصلے میں لکھا کہ پھانسی سے قبل پرویز مشرف فوت ہو جاتے ہیں تو لاش ڈی چوک لائی جائے جب کہ جسٹس شاہد کریم نے جسٹس وقار کے اس نقطے سے اختلاف کیا۔
• پرویز مشرف کو سزا کی حمایت کرنے والے ججز نے لکھا کہ سزائے موت کا فیصلہ ملزم کو مفرور قرار دینے کے بعد ان کی غیر حاضری میں سنایا گیا۔
• اعلٰی عدلیہ نے نظریہ ضرورت متعارف نہ کرایاہوتا توقوم کویہ دن نہ دیکھنا پڑتا، فیصلہ
• نظریہ ضرورت کےباعث یونیفارم افسر نے سنگین غداری جرم کاارتکاب کیا، تفصیلی فیصلہ
• اس نتیجے پرپہنچے ہیں جس جرم کاارتکاب ہوا وہ آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کےجرم میں آتاہے، فیصلہ
• آرٹیکل 6 آئین کاوہ محافظ ہے جو ریاست،شہریوں میں عمرانی معاہدہ چیلنج کرنیوالے کا مقابلہ کرتا ہے، فیصلہ
• ہماری رائے ہے سنگین غداری کیس میں ملزم کو فیئر ٹرائل کا موقع اس کے حق سے زیادہ دیا، فیصلہ
• قانون نافذ کرنے والے ادارے پرویز مشرف کو گرفتار کرکے لائیں تاکہ سزا پر عملدر آمد کرایا جا سکے، فیصلہ
• پیراگراف نمبر 68 میں لکھا گیا ہے کہ ملزم پرویز مشرف کو ملک سے باہر بھگانے والے افراد کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کیا جائے۔


شیئر کریں: