سندھ کے قدیم مکلی قبرستان میں مزار اور قبروں کی حالت خراب

شیئر کریں:

ٹھٹھہ سے محمود بھنبھرو

پاکستان کی سیاست کی طرح سندھ کے تاریخی قبرستاں مکلی کی خوبصورتی بھی ماند پڑنے لگی ہے۔ قبرستان کی تاریخی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے اس پر یونیسکو بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دے چکا ہے۔

ٹھٹھہ اور مکلی قبرستان

ٹھٹھہ ضلع اور مکلی قبرستان کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ کہتے ہیں مکلی کے قبرستان میں 7 صدیوں کے راز دفن ہیں۔ اس قبرستان کی آبادی میں کئی بادشاہ اور بازی گر بھی مدفون ہیں۔ یہ قبرستان ساموئی سے شروع ہو کر پیرپٹھو پر مکمل ہو تاہے اس کا سلسلہ پہاڑوں اور زمینی سلسلے پر 20 میل تک پھیلا ہوا ہے۔

مکلی میں کئی اولیاؤں کے مزار بھی ہیں لوگوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے لیکن اس پر متعلقہ اداروں کی نظر شائد نظر نہیں۔ تاریخی ورثے کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔

صدیوں پرانے وقت کے گورنر عیسی خان ترخاں کے مقبرے سے قیمتی پھتر ہٹا کر نئے پتھر لگا دیے گئے ہیں۔ حالانکہ آرکیالوجی کے ڈکشنری میں تاریخی ورثوں کے رنویشن کا ذکر تک نہی بلکہ کنزرویشن کا نام آتا ہے۔

سماجی رہنما اقبال جاکھرو کہتے ہیں اس عمل سے صاف حکومت کی نااہلی ثابت ہوتی ہے اور محکمہ آثار قدیمہ کے رائج اصول و ضوابط کو پائمال کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح سینئر صحافی اقبال خواجہ نے بھی اس جانب توجہ مبزول کروائی ہے کہ قومیں اپنے تاریخی ورثوں کی حفاظت کیا کرتی ہیں ہمارے ہر شعبہ میں ہی اس کے برعکس کام کیا جاتا ہے۔

یونیسکوکاانتباہ

یونیسکو نے مکلی قبرستان میں ناکافی انتظامات پر پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کر رکھا ہے۔ 2016 میں سندھ حکومت کو قبرستان سے ہر قسم کا قبضہ ختم کراکے قدیمی مقبروں کو اصل حالت میں لانے کا کہا تھا۔

2018 میں سندھ حکومت نے مکلی قبرستان کو ورلڈ ہیریٹیج کی لسٹ میں خارج ہونے سے تو بچا لیا مگر ناقص حکمت عملی کی وجہ سے قبرستان کو گہن لگ چکا ہے۔ حکومت اربوں روپے خرچ کر کے بھی مقبروں کو اصل حالت تو کجا انہیں بہتر بھی نہیں کر سکی۔


شیئر کریں: