سندھ میں موت کے بعد بھی سکون نہیں،لاشوں کو پانی سے گزارا جاتا ہے

شیئر کریں:

نوشہروفیروز سے مظفر علی
سندھ کی تقدیر بدلنے کی دعوے دار پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں زندوں سے جینے کا حق تو پہلے
ہی چھین لیا گیا تھا لیکن اب مرنے کے بعد بھی سکون نہیں۔

نوشہروفیروز کی داد نہر پر پل نہ ہونے کے باعث میت کو پانی سے گزارنا پڑا۔
دور جدید میں بھی گاؤں فقیر محمد مشوری کے پاس داد نہر پر پل تک نہیں بنایا جا سکا۔
قبرستان نہر کے دوسری جانب ہونے کے باعث میت کو پانی سے گزارا جاتا ہے۔
محمد سومر مشوری فوت ہوا تھا جس کی میت کو کندھوں پر اٹھا کر نہر سے گزارا گیا۔
جب بھی کوئی فوت ہوتا ہے اسی طرح نہر سے گزر کر میت کو لے جانا پڑتا ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے داد نہر کی آر ڈی 10 کے اطراف کئی دیہات آباد ہیں مگر پل نہ ہونے کے
باعث شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
پیپلز پارٹی اور جتوئی برادران نے پل بنوانے کے وعدے کئے مگر وہ تاحال وفا نہ ہوسکے۔


شیئر کریں: