سندھ میں فی الحال لاک ڈاؤن یا پابندیاں نہ لگانے کا فیصلہ

شیئر کریں:

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کرونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں یہ بات تشویشناک تو ہے مگر حالات ابھی قابو میں ہیں اسپتالوں پر دباؤ میں اضافہ نہیں ہوا ،گزشتہ روز اعداد و شمار چیک کرنے پر دیکھا گیاہے کہ کراچی کے کیسز لاہور اور پشاور سےکم تھے۔ اومیکرون کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے فی الحال لاک ڈاؤن یا پابندیاں نہیں لگارہے۔ پابندیوں پر شور مچ جاتا ہے ، تعلیمی اداروں پر پابندیاں نہیں لگا رہے ہیں اس کے لئے این سی او سی کی طرف دیکھ رہے ہیں ، یہ باتیں انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں سرکاری شعبے میں پہلی سیمولیشن لیبارٹری کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقعے وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو ، وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر محمد سعید قریشی ،پرو وائس چانسلر پروفیسر زرناز واحد ، 1990 کے ڈاؤ گریجویٹس کے نمائندے ڈاکٹر عاصم ہاشمی ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کیسز بڑھنے کے باوجود اسپتالوں پر کوئی دباؤ نہیں آیاہے، وینٹی لیٹرز پر مریضوں کی تعداد بھی کم ہے۔ لاک ڈاؤن یا تعلیمی اداروں کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ این سی او سی کی ہدایت پر کیا جائے گا۔ہم اس ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔پاکستانی ڈاکٹرز نے کرونا کے دوران قابلِ قدرخدمات انجام دی ہیں اور اس کرونا کے خلاف جنگ میں بہت سے ڈاکٹر ز نے اپنی جانوں کا بھی نذرانہ دیا، ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں۔

اس موقع پرافتتاحی تقریب کے شرکاء سے خطاب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ طبی تعلیم کے لئے دنیا میں جو جدید طریقے اختیار کئے جا رہے ہیں انکا سرکاری طبی تعلیمی اداروں میں اختیار کیا جانا بہت خوش آئند ہے۔ سمولیشن میں مصنوعی مریض ( جو کہ روبوٹک ہوتا ہے) میں بیماری کی علامات ظاہر کر کے علاج کے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہیلتھ کے شعبے میں بہت زیادہ مالی وسائل خرچ کرتےچلے آرہے ہیں اسکا مقصد صوبے کے عام آدمی کو جدید علاج کی سہولتیں پہنچانا ہے ، میری خواہش ہے کہ ہمارے پاس اتنے پیسے ہوں کہ صوبے کے دیگر سرکاری طبی تعلیمی اداروں میں بھی سیمولیشن سینٹر قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں بنیادی طور پر انجینیئر ہوں ، سیمولیشن پر مجھ سے بہتر یہاں موجود ماہرین صحت بات کر سکتے ہیں لیکن ہمیں ریسرچ کے شعبے میں آگے بڑھنا ہے۔ میری خواہش ہے کہ ایک سیمولیشن میگا سینٹر قائم کیا جائے ۔ انہو ں نے ڈاؤ یونیورسٹی کی انتظامیہ سے کہا کہ صوبے کے دیگر طبی تعلیمی اداروں میں سیمولیشن سینٹر قائم کرنے میں تکنیکی معاونت فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیمولیشن کے چار اجزا ہیں ا سمیں ایجوکیشن ، اسسمینٹ ، ریسرچ اور ہیلتھ سسٹم ہے۔ ڈاؤ یونیورسٹی سمیت صوبے کی تمام یونیورسٹیز کو ریسرچ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، ایسی سہولتیں فراہم کی جائیں کہ دیگر یونیورسٹیز کے طلباء کو ورچول ریالیٹی کے ذریعے تعلیم حاصل کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاؤ یونیورسٹی کا جدید سیمولیشن سینٹر 230 ملین روپے کی لاگت سے قائم کیا گیاہے ، جس میں 30 ملین روپے ڈاؤ میڈیکل کالج کے 1990 کے میڈیکل گریجویٹس نے عطیہ کیے جبکہ باقی رقم ڈاؤ یونیورسٹی نے خرچ کئے ۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیمولیشن سینٹر کے قیام سے طلباء کو جدید طبی تعلیم دی جا سکے گی یہ ڈاؤ یونیورسٹی کی ایک بہترین کاوش ہے جس پر میں وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کو مبارکبار پیش کرتی ہوں۔ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1975 سے ڈاؤ میڈیکل کالج کی روایت ہے کہ پاس آؤٹ طلبہ سول اسپتال کے لئے کچھ نہ کچھ کرتے ہیں، اس لیبارٹری کا قیام در حقیقت ڈاکٹر آصف رحمان کاآئیڈیا تھا، ڈاکٹر آصف رحمان گزشتہ سال کرونا کے باعث انتقال کر گئے اور اس سیمولیشن سینٹر کا نام ان ہی خدمات کے اعتراف میں ان کے نام پر رکھا گیا ہے ۔ ڈاکٹر آصف ہمارے ہیرو ہیں ، ہم ان کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔سیمولیشن لیب کے ذریعے مصنوعی جسم پر طلبہ کو سیکھنے کا موقع ملے گا اور یہ جدت کی ایک اعلیٰ مثال ہے ۔ قبل ازیں ڈاؤ میڈیکل کالج کی کلاس 1990 کے نمائندہ ڈاکٹرعاصم ہاشمی نے خطاب میں کہا کہ مادر علمی ڈاؤمیڈیکل کالج نے ہم سمیت دیگر طلباءکوجو کچھ دیا یہ سیمولیشن سینٹر اس کے واپسی کی ایک ادنا سی کوشش ہے۔ جبکہ عام لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک بیش قیمت تحفہ ہے جو ہمارے ساتھیوں نے ڈاؤ کو دیا ، انشاءاللہ مزید بہتری کے اقدام کرتے رہیں گے۔تقریب کے آخر میں وزیر اعلیٰ سندھ کو کلاس 1990 کی طرف سے یادگاری شیلڈ پیش کی گئی ۔


شیئر کریں: