سعودی عرب سمیت اہم غیرملکی سفارت خانے “تبدیلی” کے لئے متحرک ہو گئے

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عثمان

اسٹیبلشمنٹ نے بالآخر وزیراعظم عمران خان کو اقتدار سے الگ کرنے کے اپوزیشن کے ایک پُر امن
منصوبے کی “خاموش منظوری” دے دی ہے تاہم وزیراعظم عمران خان بھی اس ساری اہم ترین سیاسی
پیش رفت سے آگاہ ہوچُکے ہیں۔ کیونکہ متحدہ اپوزیشن کا یہ منصوبہ اور اسے مقتدر قوتوں کی
“خاموش تائید” حاصل ہوجانا پرائم منسٹر ہاؤس کے علم میں آچکا ہے۔ اس لئے امکان ہے کہ اسے
ناکام بنانے کے لئے وزیر اعظم عمران خان سینیٹ کے لئے پولنگ کے ‘آس پاس’ عین آخری لمحوں میں
قومی اسمبلی تحلیل کردیں گے۔

 

آصف زرداری نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی؟

 

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ اور “پی ڈی ایم” میں موجود اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی اور
اس کے قائد آصف علی زرداری نے جب سے نہائت مہارت کے ساتھ “پی ڈی ایم ” کی ڈرائیونگ سیٹ
سنبھالی ہے وہ تیزی سے اپنے پتے کھیلے جارہے ہیں۔

جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور پی ڈی ایم کی قیادت کو دراصل”؍ان ہاؤس چینج” یعنی موجودہ
پارلیمنٹ کے اندر ہی سے “تبدیلی” لانے کی کوششوں پر راضی کرلیا ہے اور اس مقصد کے لئے بنائے گئے
اپنے پلان پر “نون لیگ” کے قائد نواز شریف سمیت پُوری اپوزیشن قیادت کو اس بات پر قائل کرلیا ہے
کہ جلسے جلوسوں ، لانگ مارچ اور دھرنوں پر پیسہ” ضائع ” کرنے کی بجائے قومی اسمبلی میں حکمران
جماعت” پی ٹی آئی” کے ممبران کو توڑنے پر خرچ کر کے مطلوبہ ہدف اور نتیجہ حاصل کیا جائے۔

بتایا جاتا ہے کہ بڑی تبدیلی کے لئے ملکی سیاست کے شاطر کھلاڑی ، آصف زرداری کے اس “پُر امن” منصوبے کی بابت ملکی معاملات میں فیصلہ کن کردار کی حامل قوتوں اور ملکی سیاست پر اثر انداز ہونے والے حساس اداروں نے بھی اپنی پسندیدگی کا اشارہ دے دیا ھے اور سینٹ کیلئے سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کے امیدوار کے طور پر میدان میں اتارنے کو مفاہمت کی سیاست کے بڑے کھلاڑی آصف زرداری اورمزاحمت کی سیاست کے علمبردار میاں نواز شریف کی اب تک کی بہت بڑی سیاسی حکمت عملی قرار دیا ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے دوران اسٹیب “خاموش” یا دوسرے لفظوں میں غیر جانبدار رہے گی۔
جس کے تحت سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد والی سیٹ سے سینیٹ کا امیدوار بنایا گیا ہے کیونکہ یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کی صورت میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کےسو فیصد امکانات پیدا ہو جائیں گے۔
یوں درحقیقت سید یوسف رضا گیلانی جو نہ صرف “نون لیگ” کی قیادت کے سب سے زیادہ قریب اور اس کے لئے سب سے زیادہ قابل قبول پی پی پی لیڈر سمجھے جاتے ہیں بلکہ ملکی اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی قابل قبول تصور کئے جاتے ہیں۔
اسی لئے ماضی میں متفقہ طور پر قائد ایوان منتخب ہونے والے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ایک روز قبل بطور سینیٹ امیدوار کاغذات نامزدگی جب داخل کئے گئے تو دو سابق وزرائے اعظم بطور تائید کنندہ ان کے ہمراہ تھے جن میں مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی اور پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف شامل ہیں۔

یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے آصف زرداری اور میاں نواز شریف ایک مفاہمت کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور اس مفاہمانہ کوشش کی کامیابی کیلئے کچھ غیر ملکی سفارت خانے جن میں بالخصوص ایک عرب ملک کے سفارت کار بہت سر گرم ہیں۔
منصوبہ بندی کے مطابق پی ٹی آئی کے بیس کے قریب ممبران قومی اسمبلی یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیکر کامیاب کروائیں گے جس کا مطلب ہو گا کہ عمران خان قومی اسمبلی میں اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں اور فوری طور عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے گی۔

 

سفارت خانے کیوں متحرک ہوئے؟

 

امریکی و برطانوی سفارت کاروں سمیت پاکستان میں متعین اہم یورپی ممالک کے سفارتی مشن اور ان کے اہلکار پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر تبدیلی کے لئے اپوزیشن کی اس کوشش کو کامیاب بنانے کے لئے متحرک ہوچکے ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے اس ضمن میں غیرمعمولی دیکھنے میں آرہی ہے جس کے سفارت کار نہ صرف پاکستان میں غیر معمولی طور پر متحرک پائے جارہے ہیں بلکہ برطانیہ میں متعین سعودی سفیر تقریباً روزانہ وہاں مقیم سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے ملاقات کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق لندن میں نواز شریف کی غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ رابطوں میں بہت تیزی اور غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو لندن کے مضافات میں واقع اپنے پارٹی کارکن ناصر بٹ کے “ڈیرے” پر یہ ملاقاتیں کر رہے بتائے جاتے ہیں۔

عمران خان بھی منصوبہ سے آگاہ ہو چکے

دوسری طرف نہائت معتبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان بھی اس منصوبہ بندی سے آگاہ ہوچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پرائم منسٹر ہاؤس نے اسے ناکام بنانے کی غرض سے ہی سینیٹ الیکشن کے لئے “اوپن بیلٹ” والا صدارتی آرڈیننس عجلت میں جاری کروایا تاکہ اس بابت زیر سماعت صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ سینیٹ الیکشن کے پولنگ ڈے تک نہ آنے کی صورت میں خفیہ ووٹنگ کالعدم کرکے پی ٹی آئی ممبران قومی اسمبلی کی امکانی بغاوت کا راستہ روک دیا جائے۔ بصورت دیگر امکان ہے کہ وزیراعظم عمران خان پی ڈی ایم یعنی متحدہ اپوزیشن کے متفقہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کی اسلام آباد سیٹ سے کامیابی کی صورت میں قومی اسمبلی کو تحلیل کر کے اپوزیشن کی اقتدار پر قبضے کی کوشش کو ناکام بنانے اور اپوزیشن کی ملکی و غیر ملکی طاقتوں کی حمایت یافتہ اس “سمارٹ move کو سبوتاژ کردینے کی کوشش کریں گے کیونکہ اسلام آباد والی سینیٹ کی نشست سے یوسف رضا گیلانی کا کامیاب انتخاب دراصل ملکی سیاست میں کسی بہت بڑی تبدیلی کی علامت ہوگا جو اس ‘واقعہ’ کے فوراً بعد. مکنہ طور پر وقوع پذیر ہونے والے ایک دوسرے غیر معمولی ‘واقعہ’ کا پیش خیمہ ہوگا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد سے سینیٹ کے ارکان منتخب کرنے کے لئے کوئی صوبائی اسمبلی موجود
نہیں بلکہ اسلام آباد کی نشست کا الیکٹورل کالج قومی اسمبلی ہی ہے۔

 

کیا اسمبلی توڑی جا سکتی ہے؟

 

اب دیکھنا یہ ہے کہ “کپتان” اس مُوو کو سبوتاژ کرنے کے لئے کیا قدم اُٹھاتا ہے۔ اپوزیشن یوسف رضا گیلانی
کی اسلام آباد سیٹ سے بطور سینیٹر کامیابی کا نوٹی فکیشن جاری ہوتے ہی وزیراعظم کے خلاف تحریک
عدم اعتماد “بر وقت” جمع کروا پاتی ہے یا وزیراعظم عمران خان اس سے پہلے ہی ایوان صدر کو اسمبلی
توڑنے کی رسمی ایڈوائس ‘موصول کروانے’ میں کامیاب ٹھہرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کا کردار بھی اس سارے کھیل میں بنیادی اور غیر معمولی اہمیت اختیار
کر گیا ہے جس نے 3 مارچ سے پہلے خفیہ ووٹنگ یا اوپن بیلٹ بارے زیر التوا مقدمے میں کوئی فیصلہ
نہ سنایا یا حکومت کے خلاف فیصلہ 3 مارچ کے بعد سنایا یا پھر یہ فیصلہ دے دیا کہ “اس آرٹیکل کے
تحت کوئی رائے یا ڈائریکشن” جاری کرنا ہمارے دائرہ اختیار سے باہر اور صرف پارلیمنٹ کا استحقاق ہے”۔

تو سینیٹ کا حالیہ الیکشن صدارتی آرڈیننس کے تحت اوپن بیلٹ ہی سے کروانا پڑے گا یوں آنے والے
ہفتوں میں ملک کی سیاسی صورت حال میں اوپر تلے ہنگامی اور ہنگامہ خیز تبدیلیاں خارج از امکان نہیں۔


شیئر کریں: