سعودی شہر نیوم میں بلند ترین عمارتوں کا منصوبہ

شیئر کریں:

سعودی عرب نے شمال مغربی ریگستانی علاقے نیوم میں دنیا کا سب سے بڑا اسٹرکچر بنانے کی منصوبہ
مکمل کر لی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک کھرب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق
اس نے اس سلسلے میں سیکڑوں صفحات کا مشاہدہ کیا ہےاور یہ بات پہلی بات منظر عام پر لائی جارہی ہے۔

اس منصوبہ کو میرر لائن کا نام دیا گیا ہے۔ دو شیشے کی 488 میٹر فلک بوس عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔
ساحل اور پہاڑیوں کے ساتھ یہ عمارتیں 120 کلو میٹر کے رقبے میں ساتھ ساتھ چلیں گی۔ ان دونوں عمارتوں کو
ایک دوسرے کے ساتھ ایسے منسلک کیا جائے گا کہ لوگ پیدل بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں۔

ان دونوں عمارتوں کے نیچے ایک تیز ترین ٹرین بھی چلائی جائے گی جس کے ذریعے ایک کونے سے دوسرے
کونے تک مسافر صرف 20 منٹ میں پہنچ سکیں گے۔

ان میں کم از کم پچاس لاکھ لوگوں کی رہائش کا انتظام کیا جائے گا۔ منصوبہ کے تحت یہاں عمودی سمت میں
فارمنگ بھی کی جائے گی، بوٹنگ بھی ہو گی اور زمین سے 305 میٹر بلند اسٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خواہش کے مطابق زیرو کاربن اسمارٹ سٹی منصوبہ کو نیوم کا نام دیا گیا
ہے۔ اس پر مزید 500 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور یہ کا رقبہ امریکا کی ریاست میساچوسٹس کے
برابر ہو گا۔ اس کی مکمل تعمیر میں 50 سال لگ سکتے ہیں۔ اس منصوبہ کا ابتدائی ڈیزائن امریکا کی کمپنی
نے بنایا ہے۔

نیوم شہر کی آبادکاری کا منصوبہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کے عین مطابق ہے جس کا مقصد تیل پر انحصار
کم کر کے دیگر شعبوں کی طرف توجہ دینا ہے۔


شیئر کریں: