سستا فیول ہونے کے باوجود حکومت نے بجلی کے ریٹ کیوں بڑھائے؟

شیئر کریں:

رواں سال کے پہلے نو ماہ کے دوران پاکستان میں بجلی کی پیداوار
میں فیول کی لاگت میں اوسطا 17 فیصد کمی کے باوجود عوام کو سستی بجلی نا مل سکی،،
حکومت کی طرف سے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے فیول ایڈجسٹمنت کانام پر مسلسل بجلی میں اضافہ ہی کیا گیا۔۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال 2020 میں بجلی کی پیداوار میں
فیول کی قیمت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی،،
فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت فیول پر اخراجات میں کمی کا فائدہ عوام کو ملنا چائیے تھا،،
تاہم حکومت کی طرف سے عوام کو بجلی کی قیمت میں ایک پیسے کا بھی ریلیف نہیں ملا،،
الٹا فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ کر کے
عوام کی جیبوں سے اضافی طور پر اربوں روپے نکلوا لیے گئے،،

رپورٹ کے مطابق ہائڈل،، کوئلے اور نیوکلر بجلی کی پیداوار میں اضافے
اور عالمی مارکیٹ میں فیول سستا ہونے کے باعث جنوری سے ستمبر کے
اختتام تک نو ماہ کے دوران بجلی کی پیداوار پر ایندھن کی اوسط قیمت 4 روپے 44 پیسے فی یونٹ رہی،،
جو گزشتہ سال 2019 میں 5 روپے 33 پیسے فی یونٹ تھی،، ستمبر میں
آر ایل این جی کے ذریعے بجلی کی پیداواری لاگت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 39 فیصد،،
فرنس آئل کے ذریعے بجلی کی پیداواری لاگت میں 25 فیصد اور گیس کے
زریعے بجلی کی پیداواری لاگت میں 4 فیصد کمی رکارڈ کی گئی،،
رپورٹ کے مطابق 9 ماہ کے دوران پانی سے بجلی کی پیداوار میں گزشتہ سال
کے مقابلے میں 11.4 فیصد،، کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں 39.6 فیصد اور نیوکلر
بجلی کی پیداوار میں 10 فیصد اضافہ رکارڈ کیا گیا،، جبکہ فرنس آئل،،
آر ایل این جی اور گیس سے بجلی کی تیاری میں 28 فیصد تک کمی رکارڈ کی گئی،،

رپورٹ کے مطابق سال 2020 کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک میں مجموعی
طور پر 97 ارب 84 کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی گئی،،
جو گزشتہ سال 2019 کے اس عرصے سے 1.6 فیصد کم ہے۔۔


شیئر کریں: