سرین ائیر نے پشاور سے اسلام آباد تک بس سروس شروع کردی

شیئر کریں:

پاکستان میں ائیرلائنز نے فضائی سفر کو بھی مزاق بنا کے رکھ دیا ہے۔
انسان اپنا قیمتی وقت بچانے کے لیے پیسہ زیادہ خرچ کر کے فضائی سفر کرتا ہے لیکن بعض
اوقات ائیرلائنز والے اس کا وقت اور پیسہ دونوں ہی برباد کر دیتے ہیں۔

ایسا ہی ایک حیرت انگیز واقعہ خیبرپختونخواہ کے دارلحکومت پشاور میں پیش آیا جہاں
سے مسافروں کو اسلام آباد سفر کرنا تھا۔
پشاور سے اسلام آباد تک کا سفر تقریبا 35 منٹ اور بس کے ذریعے 2 گھنٹے لگتا ہے۔

لیکن زرا سوچیں جب آپ اپنی پرواز پکڑنے کے لئے صبح سویرے اٹھیں اور ائیرپورٹ
وقت سے پہلے پہنچیں۔
ائیرپورٹ پر معلوم ہو کہ پرواز تاخیر کا شکار ہے گھنٹہ دو گھنٹے پھر صبح سے شام
ہو جائے لیکن پرواز نہ اڑے۔
پھر کہا جائے کہ آج نہیں کل اڑان بھرے گی اور پھر کل تیاری کریں تو خبر ملے پرواز
منسوخ کر دی گئی ہے۔
35 منٹ کی پرواز کے لیے سرین ائیرلائن نے گھنٹوں انتظار کرانے کے بعد پرواز ہی
منسوخ کر دی۔

بس کا سفر نہ کرنے والے مسافروں کو فضائی سفر کے بجائے زمینی سفر پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔
یعنی سرین ائیر نے اب مہنگا سفر کرنے والے مسافروں کو بھی سستی اور زیادہ وقت
والے سفر پر مجبور کر دیا۔
سوشل میڈیا پر وائر ویڈیو نے عالمی معیار کی ائیر لائن کہلانے کا پول کھول دیا۔

موبائل سے بنائی گئی ویڈیو میں مسافر سرین ائیرلائن انتظامیہ کے رویے کی روداد سنا رہا ہے۔
مسافروں کے مطابق گنجائش سے کم افراد ہونے کی وجہ سے ائیر لائن نے پرواز منسوخ کر دی۔
مسافروں کے لیے کم خرچ والی بس سروس بھی متعارف کرادی۔

مسافروں کو شٹل بس کے بجائے معمولی بس کے ذریعے پشاور سے اسلام آباد روانہ کیا گیا۔
پریشان حال مسافروں کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئی قانون اور کسی کی پکڑ نہیں۔
ہر اداروں کی اپنی پالیسیاں ہیں وہ صرف اور صرف اپنا فائدہ اور نقصان دیکھتے ہیں۔

مسافروں کے وقت اور پیسے کے ضیاع سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔
چند روز پہلے ایک ائیرلائن میں چوہا داخل ہونے کی وجہ سے پرواز منسوخ کر دی گئی تھی۔
اس سے پہلے کورونا وائرس کی وجہ سے عارضی طور پر معطلی کے بعد پروازیں کھلیں تو اسی طرح
مسافروں کو پریشان کیا جاتا رہا۔
مسافر پورے نہ ہونے کی وجہ سے کئی مرتبہ دو سے تین ائیرلائنز کے مسافروں کو ملا کے ایک
پرواز چلائی جاتی رہیں۔
دنیا بھر میں مروجہ اصول ہیں کیا ہمارے کوئی اصول نہیں؟


شیئر کریں: