سرکاری ڈاکٹرز اور ڈی سی خانیوال میں تنازعہ، ڈی ایچ کیو خانیوال میں ہڑتال مریض خوار

شیئر کریں:

عامر حسینی چیف رپورٹر ساؤتھ پنجاب

گزشتہ روز رات گئے ڈپٹی کمشنر آفس خانیوال میں محکمہ صحت خانیوال حکام کے اجلاس کے دوران
صدارت کرنے والے ڈپٹی کمشنر خانیوال آغا ظہیر عباس شیرازی سے سرکاری ڈاکٹروں سے تلخ کلامی
اور ہاتھا پائی کی کوشش کے بعد ڈی سی خانیوال کی حفاظت پہ تعینات سرکاری گن مین اہلکاروں
کے ہاتھوں ای ڈی او ہیلتھ آفس کے ایک کمپیوٹر آپریٹر اور چند ڈاکٹروں پہ تشدد کے خلاف ڈی ایچ
کیو خانیوال میں تعینات سرکاری ڈاکٹرز نے کام چھوڑ کر ہڑتال کردی اور او پی ڈی بند کردی گئی۔

سرکاری ڈاکٹروں نے اپنے دفاتر کی تالہ بندی کردی۔ ڈی ایچ کیو میں سرکاری ڈاکٹروں کی ہڑتال پہ
مریض خوار ہونے لگے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن خانیوال اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن
خانیوال کے رہنماؤں نے سرکاری ڈاکٹرز پہ تشدد اور دی سی خانیوال کی طرف سے گالیاں دیے جانے
کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
ڈاکٹر فضل الرحمان بلال کا کہنا تھا ڈپٹی کمشنر خانیوال کا دفتری اوقات کار کے بعد رات گئے
اجلاس بلانا اور محکمہ صحت کی خواتین ملازمین اور ڈاکٹروں کی موجودگی میں ماں بہن کی
گالیاں نکالنا اور احتجاج پہ اپنے گن مین اہلکاروں سے تشدد کرانا یہ سب ناقابل برداشت ہے۔

ڈاکٹر ذوہیب نے الزام لگایا کہ ڈی سی خانیوال ایل ایم سی بنوانے کی مد میں رشوت لی اور کورونا
وارڈ میں ڈیوٹی سے استثنا کے لیے فی ڈاکٹر ریٹ مقرر کیا۔ایسے رشوت خور ڈی سی کے ہوتے ہوئے
محکمہ صحت خانیوال کے سرکاری عملہ کیسے اپنے فرائض سرانجام دے سکتا ہے۔
دوسری طرف ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی خانیوال کے چیف ايگزیگٹو عبدالمجید بھٹی نے میڈیا سے بات
کرتے ہوئے کہا ڈی سی خانیوال آغا ظہیر عباس شیرازی کا معمول بن گیا ہے کہ وہ رات گئے
محکمہ صحت خانیوال کا اجلاس بلاتے ہیں اور آئے روز ان کا رویہ محکمہ صحت کے افسران،
سرکاری ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس اسٹاف سے بدتمیزی پہ مبنی ہوتا جارہا تھا لیکن جمعہ کے روز
رات گئے اجلاس میں انھوں نے پہلے تو سرکاری ڈاکٹروں کو بدعنوان کہا اور اس وقت گالم گلوچ شروع
کردی جب محکمہ صحت کے اجلاس میں موجود افسران اور دیگر اہلکاروں نے ان کے رویے پہ
احتجاج کیا۔


شیئر کریں: