سرکاری اسپتال میت کی حوالگی کے 50 ہزار رشوت لینے لگے

شیئر کریں:

دور جدید میں‌ کوئی بھی پیشہ ایسا نہیں‌ رہا جس کے ذریعے انسانیت کی تذلیل نہ کی جارہی ہو. معاشرہ میں‌ استاد کے بعد
شعبہ طب کا پیشہ ایسا ہے جس میں ڈاکٹرز اور سے وابستہ تمام افراد کو بہت عزت دی جاتی ہے.
بھارت کی ریاست بہار میں‌ ایک ایسا دل دہلادینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں‌ جوان بیٹے کی لاش وصول کرنے کے لیے
سرکاری اسپتال کے عملے نے 50 ہزار روپے رشوت کا مطالبہ کر دیا.

غریب والدین کے پاس رقم نہیں تھی ان کا پہلے گزارا بڑی مشکل سے ہورہا تھا ایسے میں بیٹے کی لاش کے پچاس ہزار
روپے وہ کہاں سے دیتے. لاش تو لینی تھی انہوں نے پھر علاقے میں‌ بھیک مانگنی شروع کر دی.
سوشل میڈیا پر بیٹے کی لاش کے لیے بھیک مانگنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ہر طرف سے سرکاری
اسپتال انتظامیہ کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا.

میڈیا کے مطابق سرکاری اسپتال میں زیادہ تر عملے کو تنخواہ نہیں‌ ملتی ہے وہ اکثر مریضوں کے تیمار داروں اور لاشوں
کی وصولی کے لیے پیسے لے کر اپنا گزارا کرتے ہیں. اس واقعہ پر لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ریمارکس دیے ہیں
کہ افسوس معاشرہ سے انسانیت کی عزت ہی ہو گئی اور جتنی بے توقیری انسانیت کی اسپتال کے عملے نے کی ہے اس کی
مثال ملنا بہت مشکل ہے.


شیئر کریں: