سابق امریکی صدر اوباما ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں کیا کہتے ہیں

شیئر کریں:

تحریر حیدر شیرازی

کتاب سے لئے گئےاہم ترین تاریخی واقعے کو حیدر شیرازی نے اردو قارئین کے لئےترتیب دیا ہے

Haider Sherazi
Twitter : @ImHaiderSherazi
امریکی صدر باراک اوباما نے حال ہی میں ایک کتاب “اے پرامیسڈ لینڈ” لکھی ہے انہوں نے بحثیت
صدر کئے جانے والے اہم ترین فیصلوں پر کھل کر اس کتاب میں لکھا ہے۔
امریکی صدر نے اس کتاب کو لکھنے کی اس وقت شروعات کی جب بحثیت صدر ان کے عہدے پر رہنے
کا وقت تمام ہوا تو انہوں نے مشعل اوباما کے ہمراہ آخری بار فضائیہ کے طیارے پر سفر کیا۔

امریکی صدر کی زمہ داریاں کیا ہوتی ہیں؟

کتاب میں امریکی صدر کہتے ہیں کہ میں اس لئے لکھ رہا ہوں تاکہ پڑھنے والے امریکی صدر کی ذمہ داریوں
اور کام کی نوعیت کے بارے میں جان سکیں۔
اس کتاب میں امریکی صدر نے اسامہ بن لادن ، القاعدہ اور پاکستان کا تذکرہ کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ
دسمبر 2001 سے امریکہ اسامہ بن لادن کے پیچھے تھا اور القائدہ رہنما کئی بار تورہ بورہ کی پہاڑیوں
سے امریکی نشانے سے بال بال بچا۔
میں نے جب بحثیت صدر چارج سنبھالا تو اسامہ کی فائل سرد خانے میں پڑی تھی جبکہ اسامہ بن لادن
اور القائدہ کی جانب سے امریکہ کو دھمکی آمیز آڈیو اور ویڈیو پیغامات موصول ہوتے رہے اس دوران
القائدہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں موجود تھی. امریکی صدر لکھتے ہیں کہ
انہوں نے 2002 میں شکاگو فیڈرل پلازے میں عراق جنگ کی مخالفت کی تھی اور میں نے ہی یہ
دوبارہ اعلان کیا کہ امریکہ اسامہ بن لادن کے پیچھے جائے گا اور نائن الیون کے بعدمتاثرہ خاندانوں
کے لئے انصاف ہو گا ۔
امریکی سابق صدر لکھتے ہیں کہ انہیں نے پہلے ہی واضع کر دیا تھا کہ اگر پاکستان نے اسامہ بن لادن
کے خلاف کچھ نہ کیا تو وہ خود پاکستان کے اندر کارروائی کریں گے حالانکہ جو بائیڈن ، ہیلری کلنٹن
اور جان میکین نے اس بیان کی مخالفت کی تھی امریکہ کے سابق صدر لکھتے ہیں کہ 2009 میں دہشتگردانہ
حملوں کی دھمکیوں کے پیش نظر ہم مشیروں اوراہم ترین ذمہ داروں کے ہمراہ اوول آفس میں اکھٹے ہوئے
اور دروازے بند کر دئیے اور میں نے واضع کر دیا کہ سب سے پہلے اسامہ بن لادن کا سراغ لگانا ہے اور
میں چاہتا ہوں کہ ایک طریقہ کار وضع کیا جائے کہ کیسے اسامہ بن لادن کو پکڑا جائے میں نے کہہ دیا کہ
صدارتی احکامات سمجھتے ہوئے ہر تیس دن میں مجھے اسامہ بن لادن کو پکڑنے سے متعلق تفصیلات بتائی
جائیں اسامہ بن لادن کا آزاد ہونا نائن الیون کے حملے کے متاثرین کے لئے تکلیف کا باعث تھا۔

ایبٹ آباد کمپاؤنڈ

امریکہ کے لئے القائدہ بہت خطرناک قوت تھی جو فاٹا اور پاک افغان سرحدی علاقوں سے اپنا نیٹ ورک
چلا رہی تھی۔ عراق جنگ ، وار آن ٹیرر اور القائدہ سمیت دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائی میں یہ سمجھنا
اہم تھا کہ یہ لوگ صرف ایک قاتل اور دہشت گرد ہیں، نائن الیوں کی نویں برسی سے ایک دن قبل
لیون پنیتہ اور سی آئی اے کے ڈپٹی مائیک مورل نے مجھے ملاقات کا کہا انہیں نے ایک بہترین ٹیم بنائی
لیون نے مجھے کہا کہ جناب صدر ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اسامہ بن لادن پر آج سبقت ہے اور تورہ بورہ
کے بعد پہلی بار ایسا ہے اور ہم نے ابو احمد الکویتی کے ٹھکانوں کا پتہ معلوم کر لیا ہے جو اسامہ بن لادن
کے بہت قریب ہے امریکی صدر لکھتے ہیں کہ ان کی ٹیم ابو احمد الکویتی کے موبائل کی لوکیشن اور
روزانہ کی ملاقاتوں پر نظر رکھے ہوئے تھی نقل و حرکت کے لئے یہ فاٹا کا کوئی علاقہ نہ تھا بلکہ پاکستان
کے دارلحکومت اسلام آباد سے 35 کلومیٹر دور ایبٹ آباد میں تھا
مائیک کے مطابق اس کمپاونڈ کی تعمیر سے یہ لگتا تھا کہ یہ القائدہ کے بہت ہی اہم شخص کی رہائش
گاہ ہے۔ باراک اوباما لکھتے ہیں کہ میرے لئے یہ بہت اہم تھا کہ ایسے گنجان آباد علاقے میں القائدہ کی
اتنی بڑی شخصیت کاہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اسامہ سے متعلق تحقیقات پر کام جاری تھا کہ 14 دسمبر
کو لیون اور مائیک واپس آئے اس بار وہ سی آئی اے کے آفیسر اور ایک تجزیہ کارکے ساتھ تھے۔
ان دو افراد نے ایبٹ آباد کمپاونڈ سے متعلق تمام تفصیلات سے آگاہ کیا کہ زمیں بنیادی طور پر الکویتی
نے فرضی نام سے خریدی۔ کمپاونڈ مضبوط اور پڑوسی گھروں سے آٹھ گنا زیادہ بڑا تھا۔ کپماونڈ کی بیرونی
دیوار دس سے اٹھارہ فٹ اونچی تھی جبکہ اس کے اوپر تار لگائی گئی تھی اور چار دیواری کے اندر بھی
ایک دیوار بنائی گئی تھی۔ اس میں جو لوگ رہتے تھے انہوں نے کوئی ٹیلی فون سہولیات حاصل کی
تھیں اور نہ ہی کوئی انٹرنیٹ کنکشن تھا کچرا بھی گھر میں ہی دفناتے تھے تاکہ شناخت مکمل طور پر
چپھی رہے۔ اس کمپاونڈ میں دیوار کے اندر صحن میں ایک شخص دائرے میں پیدل چلتا ہم نے سمجھا
وہی اسامہ بن لادن ہے۔ اس موقع پر میرا ٹیم سے سوال تھا کہ اس پیدل چلنے والے اور شناخت پوشیدہ
رکھنے والے کو کیسے پہچانا جائے کہ یہ اسامہ بن لادن ہے۔ میں اپنی ٹیم کی ہچکچاہٹ محسوس کر رہا
تھا کیونکہ خفیہ اداروں کی عراق جنگ میں صدر بش کی انتظامیہ کو حمایت کے بعد ساکھ کا سوال
بھی تھا۔ان تمام معلومات کے بعد ہم نے کمپاونڈ پر حملے کا فیصلہ کیا سی آئی اے ٹیم اس کمپاونڈ میں
پیدل چلنے والے کی پہچان میں مصروف رہی جبکہ ٹام ڈونیلن اور جون برینن اس پر بات کام کر ہے تھے
کہ چھاپہ کیسے مارا جائے اس آپریشن کی کسی کو خبر نہ ہونے دی گئی حتی کہ پاکستان کی حکومت
کو بھی اس سے آگاہ نہ کیا گیا۔ حالانکہ پاکستانی حکومت نے ہمیں افغانستان جانے کے لئے راستہ دیااور
دہشت گردی کی جنگ میں ہماری معاونت کی۔
امریکی صدر لکھتے ہیں کہ یہ ایک واضع حقیقت ہے کہ پاکستانی افواج اور خفیہ ایجنسیوں کے القائدہ
اور طالبان سے راوبط تھے تاکہ افغان حکومت کو اپنے دشمن بھارت سے دور رکھا جا سکے۔ ایبٹ آباد کمپاونڈ
چونکہ افواج کے ٹھکانے کے قریب تھا تو ایسی صورت حال میں کوئی بھی عمل اصل ہدف سے دور کر سکتا
تھا جو ہم نے ایبٹ آباد میں کیا یہ بین القوامی سرحدی اصولوں کی خلاف ورزی تھا اور یہ سفارتی سطح
پر کشیدگی، جنگ اور حملے جیسا تھا۔
مارچ کے وسط میں ٹیم نے ایبٹ آباد آپریشن سے متعلق تفصیلات بتائیں ہمارے پاس دو آپشن تھے پہلا یہ
کہ اس کمپاونڈ کو فضائی حملے میں تباہ کر دیا جائے اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کسی امریکی فوجی کی پاکستانی
سرزمین پر زندگی خطرے میں نہ ہو گی لیکن اس سے پاکستانی عوام مین غم و غصہ پیدا ہوتا۔
دوسرا پہلو یہ تھا کہ اگر اس میزائل حملے میں اسامہ مارا جائے تو کیسے معلوم ہوتا کہ یہ اسامہ ہی تھا اور
اگر القائدہ اس موت کی خبرکو مسترد کر دیتی تو کیا ہوتا ساتھ ہی پاکستان کو اس کا کیا جواب دیا جاتا۔
دوسری جانب اس کمپاونڈ میں پانچ خواتین بیس بچے اور چار جوان افراد موجود تھے جبکہ میزائل حملے سے
پڑوسی گھر بھی متاثر ہوتے۔
امریکی صدر لکھتے ہیں کہ میں نے جوائنٹ چیف وائس چئرمین ہوس کارٹرائٹ کو کہا کہ میں تیس یا اس
سے زائد افراد کے قتل کی جانب نہیں جا سکتا جبکہ یہ بھی واضع نہیں کہ وہاں اسامہ بن لادن ہو گا۔
دوسرا یہ طریقہ تھا کہ امریکہ فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس مشن کو مکمل کرنے جائیں گے اور پاکستانی
افواج یا پولیس کے پہنچنے سے قبل ہی تمام آپریشن مکمل کریں گے ۔ ہم نے اسے پنٹاگون کی بجائے
سی آئی اے اتھارٹی سے کروانے کا فیصلہ کیا۔ اس اہم آپریش کے لئے ہمیں بہترین عسکری دماغ کی ضرورت
تھی اس کے لئے محکمہ دفاع کے وائس ایڈمرل ولیم میکراون جو جوائنٹ اسپیشل آپریشن کمانڈ کے سربراہ تھے
انہیں چنا گیا۔

امریکی صدر لکھتے ہیں کہ میکراون نے اپنی زندگی میں ہزاروں خوفناک آپریشن کئے وہ دباو کے باوجود
ٹھنڈے دماغ سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس میں سی آئی اے نے اپنی اسپیشل
ٹیم تشکیل دی لیون اور میکراون نے مل کر ایبٹ آباد آپریشن پر کام کیا ایبٹ آباد آپریشن سے قبل کمپاونڈ
کی فضائی تصاویر کو لے کر تین کمپاونڈ بنائے گئے اور تین بار تجرباتی آپریشن کیا گیا ہماری مارچ کی
میٹنگ میں میکراون نے ہمیں بتایا کہ کیسے آپریشن کیا جائے گا اس میں امریکی اہکار جلال آباد افغانستان
سے بذریعہ ہیلی کاپٹر اڑ کر کمپاونڈ میں اتریں گے اور دورازے کھڑ کیاں محفوظ بنا کر تین منزلہ عمارت میں
آپزیشن کریں گے جبکہ اگر کوئی جوابی وار کرے تو اسے مار دیا جائے گا۔
امریکی صدر لکھتے ہیں کہ اس کے دو ہفتوں کے بعد 29 مارچ کو میکراون پراعتماد آئے کہ یہ آپریشن مکمل کیا
جائے گا۔ بار بار کوشش اور ریہرسل کے بعد میکراون پراعتماد تھے کہ امریکی ٹیم کسی بھی پاکستانی ادارے
کے پہنچنے سے قبل آُپریشن مکمل کر لے گی۔

پاکستانی فوج کے لیے کیا ردعمل ہوتا؟

امریکی صدر لکھتے ہیں کہ ہم نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ اگر پاکستانی افواج کی جانب سے داخل ہوتے
یا واپسی پر حملے کا جواب دیا تو کیا کیا جائے۔ اس بات کو بھی مدنظر رکھا گیا کہ اگر اسامہ بن لادن سیف
روم میں ہوا تو زیادہ وقت لگ جائے گا اور اتنی دیر میں اگر پاکستانی افواج یا پولیس آگئیں تو کیا رد عمل
ہو گا۔ میکراون نے پلان میں بتایا کہ امریکہ کی ٹیم پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں سے نہیں لڑے گی اور اگر
پاکستانی انتظامیہ لڑتی ہے تو امریکی خود کو محفوظ رکھیں گے اتنی دیر میں پاکستان میں موجود امریکی
سفارتکار امریکی فوجیوں کے آسان راستے سے باہر بھیجنے میں اپنا کردار ادا کریں گے میکراون کا پلان سمجھداری
سے بنایا گیا اسی سوچ کے تحت پاکستانی ملٹری کمانڈرز سے بات چیت کرتے رہے۔
لیکن پاکستان امریکہ تعلقات میں باب گیٹس اور میں اس اسٹریٹجی پر تشویش کا اظہار کرتے رہے۔ امریکہ کی
فاٹا میں القائدہ ٹھکانوں پر بمباری سے پاکستان میں امریکی مخالفت میں اضافہ ہوا تھا۔اس کے علاوہ جنوری
کے آخر میں ریمن ڈیوس کی جانب سے پاکستانیوں کی ہلاکت کے بعد امریکہ مخالف جذبات بڑھے۔
امریکی صدر لکھتے ہیں کہ میں نے میکراون پر واضع کیا کہ میں سیلز کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتا کہ
انہیں گرفتاری کے بعد رہائی کے لئے دباو ہو اور اگر اسامہ بن لادن اس کمپاونڈ میں نہ ہوا تویہ مشکل مرحلہ
ہو گا۔ میں نے پلان میں دو مزید ہیلی کاپٹر بیک اپ میں رکھنے کو کہا۔ اسی دوران ہوس کارٹرائٹ نے چھوٹے
میزائل حملے کا کہا کہ جب کمپاونڈ میں موجود شخص پیدل واک کرے اس پر ڈورن حملہ کیا جائے اسے
ٹارگٹ بنایا جائے۔
اسی دوران میکراون ان تمام کمپاونڈ میں تربیت کا جائزہ بھی لیتے رہے جو کمپانڈ ایبٹ آباد میں رہائش گاہ
کی طرز پر بنائے گئے تاکہ افواج حملے کی بہترین تیاری کر سکیں۔ اس کے لئے ایسی راتوں کا انتخاب کیا گیا
جب چاند نہ ہو اور تاریکی میں امریکی سیلز بھرپور تیاری کر سکیں۔

سکون کسی کو نہیں‌ تھا

امریکی صدر لکھتے ہیں کہ اس دوران وائٹ ہاوس میں معمول کے کام جاری تھی افغانستان میں کشیدگی
لیبیا اور عراق میں واقعات انہیں میں سے ایک ہیں۔ میں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ایبٹ آباد آپریشن کا آخری
بار تفصیلی جائزہ لیا اس سے قبل اسی ہفتے میں نے میکراون کو ہیلی کاپٹر اور نیوی سیلز کو افغانستان
بھیجنے کی اجازت دے دی تھی۔
اب گروپ جلال آباد میں احکامات کا انتظار کر رہا تھا اسی دوران کاونٹر ٹیررازم کے چیف کو بلا کر اسامہ
بن لادن کے تازہ ترین صورت حال پر بات کی گئی خفیہ ایجنسی نے اسامہ کے ایبٹ آباد کمپاونڈ میں ہونے
کے 40 سے 60 فیصد امکانات بتائے جبکہ سی آئی اے ٹیم جو کام کر رہی تھی اس نے 60 سے 80 فیصد
امکانات کا کہا۔جبکہ دونوں کا جائزہ لیا گیا تو یہ پچاس پچاس فیصد تھا۔
میکراون نے کہا کہ ٹیم تیار ہے اور میزائل کا آپشن بھی ٹیسٹ کر لیا گیا ہے تاکہ بوقت ضرورت اس کو
استعمال کیا جاسکے۔ میں نے ٹیبل پر بیٹھے افراد سے رائے لی لیون ، جان برینن اور مائیک ملن نے آپریشن
کی حمایت کر دی ہیلری نے یہ آپریش شروع میں پاک امریکہ تعلقات اور پاکستانی فوج سے کشیدگی
کے تناظر میں تشویش ناک سمجھا لیکن پھر حامی بھر لی لیکن ابھی مکمل فیصلہ نہ کیا جاسکا۔
امریکی صدر لکھتے ہیں کہ ابھی بھی ایک سوال تھا کہ حملہ کیا جائے یا نہ کیا جائے میں اس سے جڑے معاملات
پر سنجیدہ تھا۔ ہم رسک کم کرسکتے ہیں لیکن انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے۔
امریکی صدر لکھتے ہیں کہ مجھے بل میکراون اور ان کے سیلز پر مکمل اعتماد تھا کیونکہ بل میکراون کے
ڈیزرٹ ون اور بلیک ہاک ڈاون کے بعد سے امریکی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔یہ فیصلہ اہم تھا اس سے
قبل غلط حکمت عملی اور اقدامات سے عراق اور افغانستان جنگ کی شروعات ہوئی۔
امریکی صدر لکھتے ہیں کہ مجھے امید تھی کہ امریکی سیلز ایبٹ آباد سے محفوظ نکلنے میں کامیاب ہو
جائیں گے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا تھا جب امریکی نوکریاں ڈھونڈ رہے ہوں اپنے بل جمع
کروانے کا سوچ رہے ہیں میری مصروفیات اور کھانے کی دعوت اور بلیک ٹائی افئیر کو چھوڑ دینے پر سوال
ہو سکتے تھے اور مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ میکراون جلد جلال آباد میں ٹیم کو جوائن کریں گے اور آپریشن
اگلے ایک گھنٹے میں شروع ہونے والا ہے مجھے اس دوران ہر چیز کو نارمل دکھانے کا احساس دلانا تھا
ایسے میں جب ایونٹ میں رپورٹرز سے بھرا ہوا ہال ہو۔ جب میری ملاقات جون فیوریو اور لکھاریوں کی
ٹیم سے ہو جو میرے بیان کو قلمبند کر ہے تھے انہیں اس آپریشن کا احساس تک نہ تھا۔

باراک اوباما لکھتے ہیں سہ پہر کے بعد میں نے میکراون کو آخری مرتبہ ٹیلی فون کیا اس نے مجھے بتایا کہ
پاکستان میں موسم خراب ہے اور وہ اتوار کی رات تک آپریشن روکنے کا سوچ رہے تھے میں نے ان پر واضع کیا
کہ میں نے یہ بتانے کے لئے کال نہ کی بلکہ اس لئے رابطہ کیا کہ بتایا جا سکے کہ میری ٹیم بلند حوصلہ ہے میں
اگلی صبح جلدی جاگ گیا ہم نے دیگرتمام ملاقاتیں ختم کیں گالف کھیلا اور وائٹ ہاوس واپسی پر ٹیم تیار
تھی اور ہم تیار تھے کہ اگر کچھ مزاہمت ہوتی ہے تو کیا حکمت عملی طے کی جائے ۔
رات دو بجے دو بلیک ہاکس ہیلی کاپٹر جلال آباد سے آپریشن کے لئے اڑے ۔اس میں تئیس سی آئی اے سیلز اور
ایک پاکستانی امریکی سی آئی آے ٹرانسلیٹر اور ملٹری کا کتا کیرو بھی موجود تھا۔ اسے آپریشن نیپچون سپئیر
کا نام دیا گیا۔ انہیں ایبٹ آباد پہنچنے میں نوے منٹ لگے میں نے ڈائننگ روم چھوڑا اور سچویشن روم میں جا
پہنچا جو وار روم میں تبدیل ہو چکا تھا۔

جہادیوں‌ کے لیے مزار بنانے سے روکنا

لیون ویڈیو کال کے ذریعے لینگلے سے براہ راست جڑا تھا اور میکراون کی معلومات پر عمل کر رہاتھا جبکہ میکراون
جلال آباد سے براہ راست آپریشن کرنے والی ٹیم کے ساتھ رابطے میں تھا ماحول بہت کشیدہ تھا نیشنل سیکیورٹی
ٹیم ، ہیلری ، ٹام اور ڈینس کانفرنس ٹیبل پر موجود تھے۔ اس دوران پاکستان سے رابط اور سفارتی ذرائع استعمال
کرنے کے لئے راستہ نکالا جا رہا تھا جسے کسی فتح یا شکست دونوں صورتوں میں استعمال کیا جاتا۔
اگر اسامہ بن لادن مر جاتا تو سمندر کے پاس اس کی اسلامی طریقہ کار سے تدفین کا طریقہ اپنانا تھا اور اسے
جہادیوں کے لئے مزار بنانے سے بھی روکنا تھا۔
صدر لکھتے ہیں کہ تین بج کر تیس منٹ پر میں واپس کمرے میں گیا جب لیون نے یہ کہا کہ بلیک ہاکس
ایبٹ آباد کمپاونڈ میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس دوران ٹیم نے ہمارے لئے آپریشن کا براست جائزہ لینے کا
طریقہ بنایا۔
امریکی سابق صدر لکھتے ہیں کہ جب میں واپس کمرے میں آیا تو میں نے دیکھا کہ کمپاونڈ کی لائیو ویڈیو
آرہی ہے آپریشن جاری تھا میں نے بحثیت صدر یہ پہلا آپریشن ہوتے دیکھتا ۔ اس میں اہلکار آگے بڑھے اور
ہر کمرے کی تلاشی لی اس سارے معاملے میں اچانگ میکراون اور لیون کی آوازیں آئیں جنہیں ہم سننا
چاہتے تھے اور جس کے لئے اتنی تیاری کر رکھی تھی۔

جب دشمن مارا گیا

گیرونیمیو آکیا یعنی دشمن آپریشن میں مارا گیا۔ آپریشن میں گیرونیمو اسامہ کا نام تھا اگلے بیس منٹ
تک کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلاْ۔ آپریشن میں خواتین سے ایک کونے میں سوالات کئے کمپوٹر اور دیگر قیمتی
سامان وہاں سے حاصل کیا گیا اور اسی دوران جو نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا مبارک ہو باس۔
آپریشن کے بعد ہیلی کاپٹر پاکستانی ائیر سپیس میں موجود تھے جب چھ بجے کے بعد ہیلی کاپٹر جلال آباد
اترے تو مجھے کچھ راحت محسوس ہوئی۔

جنرل کیانی اور صدر زرداری سے رابطہ

جب یہ اندازہ لگا لیا گیا کہ وہ اسامہ بن لادن تھا تو مائیک ملن نے پاکستانی آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی
سے بات کی بات چیت بہت شائستہ انداز میں ہوئی اور پاکستانی عوام کے جذبات سے متعلق جنرل کیانی نے
درخواست کی۔
میں نے بل کلنٹن اور جارج بش کو ٹیلی فون کیا جبکہ ڈیوڈ کیمرون جو افغان جنگ کی شروعات سے ہی ہمارے
شراکت دار تھے ان سے بھی رابطہ کیا میں نے مشکلات کا شکار آصف علی زرداری سے رابطہ کیا جو پاکستانی
حدود پر بیرونی حملے کے بعد شدید دباؤ میں تھے ۔
جب ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے ہمیں مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اچھی خبر ہے اور واضع کہ بے نظیر بھٹو کو
ان شرپسند عناصر نے نشانہ بنایا جن کے القائدہ سے روابط تھے ۔


شیئر کریں: