زندگی میں کریکٹر موسم کی طرح آتے اور جاتے ہیں

شیئر کریں:

تحریر امبرین زمان خان

میری ابھی تک کی زندگی کا نچوڑ ہے انسان خود نہیں بدلتا وقت بدلتا ہے۔
رشتے بدلتے ہیں حالات بدلتے ہیں اور انسان پر بھی موسم کی طرح مختلف وقت آتے ہیں۔

وقت انسان کی زندگی میں سردی ،گرمی ،خزاں اور بہار لاتے ہیں بلکہ یہ چار موسم کم ہیں۔
بقول ہمارے وزیراعظم عمران خان کے پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بارہ موسم آتے ہیں۔
اور وہ انسان خود نہیں لاتا وقت نے طے کیا ہوتا اب یہ ہوگا۔

آم کا سیزن ہے “ہون چوپو امب”

انسان نہیں بدلتا انسان کا تو بس چلے تو پوری زندگی ایک سا چلتا جائے۔
اور وقت بڑی بے رحم چیز ہے نہیں رکتا ہماری زندگیوں میں موسموں کی طرح بدلاؤ لاتا ہے۔
زندگی میں مختلف لوگ آتے ہیں اور چلے بھی جاتے ہیں کریکٹر ہوتے ہیں۔

جانا تو ہوتا ہی ہے کسی کی زندگی سے وقت ہمیں نکالتا اور کسی کو ہماری زندگی سے نکالتا۔
جب چھوٹے تھے تو پڑھتے تھے کہ زندگی ایک اسٹیج ہے جہاں مختلف لوگ آتے ہیں اپنا کردار
ادا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔

اور یہ بدلاؤ صرف اجنبی رشتوں میں نہیں آتے یہ بدلاؤ خونی رشتوں میں بھی آتے ہیں۔
جیسے حضرت واصف علی واصف کا ایک قول ہے کہ ایک تھالی میں کھانے والے دو بھائی بعد میں
ایک ہی گھر میں دیوار کھڑی کر لیتے ہیں کہ آدھا تیرا آدھا میرا۔

فرقہ پر بحث کون لوگ کرتے ہیں؟

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان دو بھائیوں کا کردار آپس میں اتنا ہی لکھا تھا اب وہ دونوں
مختلف کریکٹر پیش کریں گے۔
اور میں نے ایک جگہ ایک مزاحیہ پوسٹ دیکھی کہ لوگ ہماری زندگی میں ایسے آتے ہیں
جیسے یوٹیوب پر پانچ سیکنڈ کا اشتہار۔ ہاہاہا

میں بہت سوچتی تھی اس بارے میں کہ کیا ماں باپ اور بہن بھائیوں کا بھی ایک دوسرے کی زندگیوں
میں کردار ہی ہے یا یہ بھی کریکٹرز ہی ہیں؟

لیکن بہت سوچنے کے بعد صرف اتنا سمجھ آیا کہ شاید یہ رشتے کچھ حد تک پائیدار ہوتے ہیں۔
کیونکہ لوگ پوچھتے ہیں آپ کے ابو کون ہیں امی کون ہیں پھر سوال ہوتا آپ کتنے بہن بھائی ہیں۔

اگر کسی دوسرے خونی رشتے کے بارے میں کوئی جانتا تو وہ آپ خود بتاتے ہیں۔
ورنہ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آپ کے دوست کون ہیں یا کلاس فیلوز کون کون تھے؟
یا آپ کے ساتھ کام کرنے والے لوگ کون تھے یا کون ہیں یہ سب کردار ہوتے ہیں جو آتے جاتے رہتے ہیں۔

مجھے بڑی حیرانگی ہوئی جب میں نے ایک طلاق یافتہ لیکن بہت مضبوط اور خود اعتماد خاتون سے یہ
سنا کہ میری میرے خاوند سے بنتی تھی لیکن ساس کی وجہ سے رشتہ ختم ہوا اس نے جینا محال کر دیا تھا۔

اس خاتون نے بتایا کہ ساس وہ کریکٹر تھی ہمارے رشتے میں جس نے ہم میں جدائی لانے کا کردار نبھایا۔
شاید وہ تھی ہی اس لئے کہ ہم الگ ہو جائیں اس کا کردار لکھا ہی ایسا تھا ہماری زندگی میں۔

اسی طرح ایک کلاس میں ایک مضمون پڑھنے والوں کے مزاج اور شوق مختلف ہوتے ہیں ایک مضمون پڑھنے
کے باوجود وہ مختلف مختلف کریکٹر بن کر سامنے آتے ہیں۔

لاک ڈاون ختم حکومت کا اچھا فیصلہ

بہن بھائی ایک ماں باپ کے بچے ہوں لیکن کردار مختلف ہوتے ہیں کوئی بھی ایک جیسا نہیں ہوتا۔
لو میرج بھی ختم ہوتی ہے کیوں کہ ایک دوسرے کی زندگی میں یہ کریکٹرز آنے تھے۔

ارینج میریجز کامیاب بھی ہوتی ہیں کیونکہ یہ کریکٹر ایک دوسرے سے میچ کر جاتے ہیں۔
زندگی میں ان کا رول فلم کے ہیرو ہیروئن جیسا ہوتا ہے۔

کئی کہانیاں ایک جیسی ہوتی ہیں ان کے عنوان بدل دیں اور نام بدل دیں تو اندر کے کریکٹر مختلف ہو جاتے ہیں۔
اگر ہم سوچیں تو سب اپنا اپنا کریکٹر پلے کرتے ہیں کوئی مہمان اداکار ہوتا ہے کوئی ولن، کوئی دوست
کوئی ڈاکٹر ،کوئی صحافی ،کوئی وکیل اور کوئی بزنس مین۔

یا کوئی رشتوں کی تلاش میں یا کوئی ٹوٹے رشتوں کے ساتھ۔
کوئی امید کو پروان چڑھاتے ہوئے تو کوئی خواب دیکھتے ہوئے۔

کوئی امیر ہے تو کوئی غریب ،کوئی تعلیم یافتہ ہے تو کوئی ان پڑھ اور کوئی تربیت یافتہ ہے۔
کیسے کیسے کریکٹر اللہ نے بنائے ہیں اور کیا سوچ ہے کیا انداز ہے سب کا۔

اسی طرح میرج بیوروز میں لوگ رشتوں کے لئے آتے ہیں اور وہ رشتے دیکھاتے ہیں لڑکی یا لڑکے کو دیکھا جاتا۔

ایک دیکھتا ،دو دیکھتے ہیں اور یہ سلسلہ تب تک چلتا جب تک وہ کریکٹر نہیں ملتا جو آپ کے لئے اللہ نے لکھ دیا ہے۔
لیکن کردار سب نبھا رہے ہوتے ہیں آپ ہر آنے والے کریکٹر سے کچھ نہ کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔

خوش فہمی ہے یہ آپ کی

اس لئے لوگوں سے یعنی انسانوں سے اگر دل دکھے تو بس یہی سوچیں کہ کریکٹرز ہیں جو آپ کی زندگی
میں معمولی کردار ادا کرنے آئے تھے اور اب ان کا رول ختم۔ کہانی میں ان کا کردار اتنا ہی تھا۔

لوگ بھی موسموں کی طرح زندگی میں آتے جاتے ہیں کوئی گرم ،کوئی سرد کوئی بہار جیسا ہوتا ہے تو
کوئی خزاں جیسا جس میں سردی گرمی مطلب کہ منافقت اور دوغلا پن پایا جاتا ہے۔

انسان کا بدلنا فطری ہے وہ انسان نہیں صرف ایک خدا ہے جو نہیں بدلتا باقی دنیا کی ہر چیز بدل جاتی ہے۔
وقت بدلا اور انسان ساتھ ہی کروٹ لے جاتا ہے اس لئے لوگوں کے رویوں پر زیادہ سوچنا چھوڑ دیں۔

بس یہی سمجھیں کہ وقت بدل جانے پر ضرورت بدل جاتی ہے اور ضرورت بدل جانے پر رویے بدل جاتے ہیں۔
آنکھیں دو ہی ہیں وقت بدلے گا تو ماتھے پر آئیں گی اور برا وقت ہو گا تو انکھیں جھک بھی جائیں گی۔
بس وقت ہی ہے جو انسان کو نچا رہا ہے اور انسان ناچ رہا ہے۔


شیئر کریں: