زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون چین پاکستان دوستی مضبوط کرے گا، پاکستانی ڈاکٹر

شیئر کریں:

چین میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستان کے طلبا زراعت ڈاکٹر انور علی نے چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ کے شہر جینان میں اکیڈمی آف ایگری کلچرل سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ویجی ٹیبلز اینڈ فلاورز کے محققین سے ملاقات کی۔ ان محققین نے ٹشو کلچر،ہائبرڈائزیشن اورٹرانس جینک ٹیکنالوجی کے ذریعے سبزیوں کی نئی اقسام پیدا کرتے ہوئے انہیں کاشت کیا ہے۔
یہ پاکستانی طالب علم 2016 میں چین اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے آئے، جہاں سے انہوں نے ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کی۔2021 میں ڈاکٹر انور مزید تعلیم کے لیے شان ڈونگ کی اکیڈمی آف ایگری کلچرل سائنسز میں پہنچے اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تحقیق کی۔

ڈاکٹر علی نے کہا کہ شان ڈونگ زراعت کے حوالے سے چین کا بہت اہم صوبہ ہے، جسے زرعی ٹیکنالوجی میں بھی ایک مقام حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے موسم انتہائی خوشگوار ہیں جو فصلوں اور پھلوں کی کاشت کے لیے انتہائی سازگار ہیں۔ تاہم پیداواری ٹیکنالوجی کے حوالے سے اب بھی دونوں ممالک کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔
ان کا ارادہ ہے کہ وہ چین میں حاصل کردہ سبزیاں اگانے کی جدید ٹیکنالوجی کو پاکستان لے کر جائیں اور اپنے وطن میں زرعی صنعت کو ترقی دینے میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ٹیکنالوجی دونوں ممالک میں ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے چین پاکستان دوستی کو مضبوط کرے گی۔
شان ڈونگ میں علی نے ماونٹ تھائی،ڈامنگ جھیل،باوتو اسپرنگ اور دیگر مقامات کادورہ کیا۔کام کے بعدشیئرنگ بائیک کی سواری ان کا مشغلہ ہے جس سے وہ جینان کے رسم رواج اور ثقافت سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔
وہ جینان کے محفوظ ماحول اور لوگوں کے دوستانہ رویوں اور شہر کی ترقی سے بہت متاثر ہیں۔
چین میں قمری سال کی آمد کے ساتھ،ڈاکٹر علی اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ شان ڈونگ کے صدر مقام جینان جانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ان کا خاندان پہلی بار قمری سال کے موقع پر چین میں تعطیلات گزارے گا۔


شیئر کریں: