ریاست مدینہ والو! مواخات مدینہ بھی یاد رکھو

شیئر کریں:

تحریر طاہر محمود اعوان

وزیر اعظم آج ڈی چوک میں محفل سماع کروا رہے ہیں لیکن زیادہ بہتر ہو گا کہ وہ عوام کی “قوالی” بھی سن لیں جو مہنگائی مہنگائی کی سر لگا رہے ہیں۔
ایسا نہ ہوا تو شہباز شریف اور فضل الرحمان انہیں گھر بھجیں یا نا بھجیں لیکن پٹرول ، ڈیزل اور کوکنگ آئل گھی ضرور بجھوا دیں گے۔
آخر کب تک عالمی حالات اور کورونا کا بہانہ چلے گا؟
حکومتوں کو ایسے چیلنجز ہمیشہ ہوتے ہیں لیڈر وہی ہے جو ایسے مشکل حالات میں عوام کے لیے کچھ کرے !!
وزیر اعظم صاحب کی طرف سے اپنی ہر تقریر میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر مبارک اور جشن میلاد النبی کو شایان شان طریقے سے منانا قابل تعریف عمل ہے لیکن عوام نے انہیں محض دورد اور وظیفوں کے لیے اس منصب پر نہیں بیٹھایا۔ یہ کام وہ حکومت میں رہے بغیر بھی کرسکتے ہیں۔ تحریک انصاف ایسی شاندار محافل اقتدار کے بغیر بھی سجا سکتی ہے بلکہ میلاد النبی کی سب سے بڑی کانفرنس تو جناب طاہر القادری ہر سال مینار پاکستان پر اکیلے سجا لیتے ہیں اور ایسا وہ پچھلے چالیس برسوں سے بغیر کسی ناغے کے کر رہے ہیں۔
اس کے لیے بندے کا وزیر اعظم ہونا ضروری تو نہیں؟ وزیر اعظم کے کرنے کے کام تو دیگر ہیں۔ وہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے قانون سازی کروا سکتے ہیں۔ وہ نصاب تعلیم میں ایسی بہتری لاسکتے ہیں کہ ملک سے فرقہ واریت کا خاتمہ ہو اور سرکار دو عالم کے جشن ولادت پر قوم ایک ہوکر خوشیاں منائے ۔ وزیر اعظم کو سرکار دو عالم کی یہ حدیث بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جس میں انھوں نے فرمایا کہ ” قریب ہے غربت تمھیں کفر تک پہنچا دے” یعنی غربت کے ہوتے بندے کا ایمان دائو پر لگا رہتا ہے۔ پیٹ میں کچھ ہوگا تو انسان دوسروں کا بھی کچھ سوچے گا۔
عید شب براتیں، جشن میلاد سب اپنی جگہ ، ہماری جان مال ماں باپ اولاد سب آقا علیہ السلام پر قربان مگر ان کی ریاست مدینہ کو رول ماڈل بتانے والوں نے کبھی مواخات مدینہ کا مطالعہ بھی کیا؟ سرکار نے مدینہ منورہ میں پہنچ کر سب سے پہلا کام یہ کیا تھا کہ مکہ سے آنے والے غریب ، بے روزگار ، بے گھر اور مستحق مسلمان کا ہاتھ پکڑ کر مدینہ کے صاحب حثیت امیر مسلمان کے ہاتھ میں دیکر فرمایا تھا “آج سے یہ تمھارا بھائئ ہے اسے اپنی دولت، گھر ، رزق اور وسائل میں ایسے شریک کرو جیسے اپنے بھائی کو کرتے ہو”۔
یعنی سرکار نے سب سے پہلے معاشرے سے دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا خاتمہ فرمایا۔ اس کے بعد سلطنت کے باقی معاملات کی طرف بڑھے ۔ بات طویل ہو گئی ہے۔ موجودہ صورت حال میں کسی کو چاہیے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کو یاد کروائے کہ وہ کس نعرے اور منشور کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے۔


شیئر کریں: