رکن پارلیمنٹ عثمان ترکئی بھی پی ٹی آئی کے خلاف بول پڑے

شیئر کریں:

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ عثمان ترکئی نے پی ٹی آئی کے میرٹ کی کہانی سے متعلق بڑے انکشاف کردیے۔ پی ٹی آئی حکومت میں سیاسی عہدوں کی تقسیم میں میرٹ کو نظر انداز کیا جاتا تھا۔
میں ایک عوامی لیڈر اور انجینئر ہونے کے باوجود بھی بغیر کسی عہدے کے رہا۔ عثمان ترکئی نے غیر ملکی ادارے کو انٹرویو میں بتایا کہ پارلیمانی عہدے تقسیم کرتے وقت میرٹ کی بجائے اسپیکر قومی اسمبلی کی مرضی چلتی رہی۔
ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے سائینس پڑھا نہیں لیکن سائینس سے متعلق چئیرمین شپ کے عہدے دئیے گئے۔ میرے جیسے ویل کوالیفائیڈ نمائندہ پورے خیبر پختون خواہ میں نہیں پنجاب سے ہو وہ الگ بات ہے۔ پارلیمان میں عہدوں کو پیک اینڈ چوز کے بنیاد پر دئیے جاتے تھے۔
غیر متعلقہ افراد کو عہدوں پر تعینات کرنا ہی پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی رہی۔
[19/11, 12:52 pm] Nadeem: پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں ریلی کی اجازت مل گئی

پی ٹی آئی کے اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے ڈی سی اسلام آباد نے ریلی کا این او سی جاری کردیا ہے۔ پی ٹی آئی ریلی کورال چوک سے چک بیلی روات تک ریلی کا انعقاد کرے گی۔ پی ٹی آئی ریلی کو مقررہ روٹ سے ہٹنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈی سی اسلام آباد کے مطابق روٹ سے الگ ہونے کی صورت میں این او سی منسوخ کردیا جائے گا۔ اسلام آباد سے تمام چھوٹی ریلیاں کورال چوک جمع ہوں گی۔
مرکزی ریلی کی قیادت ریجنل صدر علی نواز اعوان کریں گے۔ اسلام آباد ریجن کے شرکاء روات میں حقیقی آزادی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ حقیقی آزادی مارچ میں آج چیئرمین عمران خان اہم خطاب کرکے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے مطابق پرامن ریلی کے لئے کورال سے روات تک اجازت دے دی گئی۔ ضلعی انتظامیہ نے ریلی کے لئے باقاعدہ این او سی جاری کردیا۔ ریلی کو پرامن بنانے کے لئے ضلعی انتظامیہ نے 35 شرائط رکھی ہیں۔ اجازت صرف کورال چوک سے روات تک روٹ کے لئے دی گئی ہے۔ ریڈ زون اور باقی علاقوں میں دفعہ 144 کا نفاذ رہے گا۔
کوئی بھی سڑک کسی طرح سے بلاک کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سرکاری اور نجی املاک کو ہرگز نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ ریلی کے لئے اسلام آباد کیپیٹل پولیس باقاعدہ ٹریفک پلان جاری کرے گی۔ ریاست، مذہب، نظریہ پاکستان کے مخالف نعروں اور تقریروں کی اجازت نہیں ہوگی۔ ریلی میں ہتھیار، اسلحہ اور ڈنڈے وغیرہ لانے پر کارروائی ہوگی۔ شرائط کی خلاف ورزی پر قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔


شیئر کریں: