March 26, 2020 at 9:54 pm

‬‫انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کی بے قدری کا سفر مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہا۔‬
‎‫ڈالر 4 روپے 53 پیسے مہنگا ہو کر 166 روپے 13 پیسے کی ملکی تاریخ کی نئی بلندترین سطح پر پہنچ گیا۔‬
‎‫تین روز میں روپے کی قدر 4.7 فیصد کم ہو گئی ملک پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 828 ارب روپے بڑھ گیا۔‬
‎‫انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر ہی ڈالر کی اڑان شروع پو گئی۔‬
‎‫ٹریڈنگ کے دوران ڈالر 168 روپے تک فروخت ہوا تاہم اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 4 روپے 53 پیسے کے اضافے سے 166 روپے 13 پیسے رہی،، جو ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح ہے،، تین روز کے دوران ڈالر 7 روپے 46 پیسے مہنگا ہوا،، جس سے اس دوران ملک پر غیر ملکی قرضوں کے مجموعی بوجھ میں نیا قرض لیے بغیر ہی 828 ارب 41 کروڑ روپے کا اضافہ ہو گیا۔۔ مارکیٹ میں یورو کی قدر بھی 6 روپے 53 پیسے بڑھ  کر 181 روپے 75 پیسے اور برطانوی پاونڈ کی قدر 4 روپے 65 پیسے بڑھ کر 198 روپے 1 پیسے ہو گئی۔‬
‎‫ اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت نے ٹی بلز کی فروخت سے جو ڈالر اکٹھے کیے تھے۔‬
‎‫اس ہاٹ منی کی واپسی شروع ہونے کی وجہ سے روپے پر دباو آیا۔‬
‎‫ٹی بلز کی فروخت کے ذریعے غیر ملکی قرض لینے کی پالیسی کو پہلے ہی زیادہ تر اقتصادی ماہرین کی طرف سے ملک کے لیے خطرناک قرار دیا جا رہا تھا۔‬
‎‫گزشتہ چند ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مجموعی طور پر 3 ارب 49 کروڑ ڈالر مالیت کی ٹی بلز اور پاکستان انوسٹمنٹ بانڈز فروخت کیے تھے لیکن گزشتہ دو تین ہفتوں  کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں 1 ارب 94 کروڑ ڈالر مالیت کے ٹی بلز اور بانڈز فروخت کر گئے جس سے مارکیٹ مین دالر کی قیمت بڑھنا شروع ہو گئی۔

Facebook Comments