رومی نظریات سے آزاد ہے۔

شیئر کریں:

تحریر اجمل شبیر
اس دنیا میں ایک ایسی confusion ہے جو ختم ہوجائے تو اندر اور باہر کی دنیا کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

دنیا کا ہر انسان سچ کی تلاش میں ہے، ہر انسان کسی تھاٹ کو پکڑ کر سچ تک پہنچنا چاہتا ہے ۔ کیا کسی تھاٹ پر سوار ہوکر سچ تک پہنچا جاسکتا؟ جو انسان سیلف انکوائری سے یہ معلوم کر لیتا ہے کہ کیا تھاٹ سے ہی سچ دیکھائی دیتا ہے یا سچ کو دیکھنے کی نظر کچھ اور ہوتی ہے اس کی زندگی سے confusion نکل جاتی ہے

کسی نے ایک تھاٹ کو پکڑ لیا ،کسی نے دوسرے تھاٹ کو پکڑ لیا ،کسی نے تیسرے تھاٹ کو پکڑ لیا ہے ، سب اپنے اپنے تھاٹ کو سچ سمجھتے ہیں۔ کسی نے آج تک یہ سیلف انکوائری نہیں کہ سچ کیا ہے ؟

ہمارا ایشو ایک ہی ہے کہ ہم غلط طریقے سے زندگی کو سمجھتے ہیں،غلط طریقے سے سچ کو سمجھتے ہیں اس لئے کبھی بھی ہمیں سچ دیکھائی نہیں دیتا اور ہم ہمیشہ confuse رہتے ہیں۔

بدھ ازم کس تھاٹ پر کھڑا ہے کہ اس کائنات میں کہیں بھی کچھ نہیں ہے ،سب کچھ خالی ہے۔
Buddhism is all about emptiness.
دنیا تین قسم کے انسانوں میں تقسیم ہے ۔
ایک وہ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ دنیا ہی سچ ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں خدا ، روح ،کانشئینس ہوتے ہی نہیں ہیں ،سچ صرف دنیا ہے ،دنیا کے علاوہ کوئی اور سچ نہیں ہے۔

ان لوگوں کو atheist, liberal, materialistic یا secular کہا جاتا ہے۔
ایک وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کانشئینس ،روح ،خدا یہی سچ ہے باقی یہ دنیا جھوٹ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں سنیاسی ،مانک وغیرہ کہا جاتا ہے،یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں چلے جاتے ہیں اور ہمیشہ یہی کہتے رہتے ہیں پیسفل ہونا ہے تو دنیا کو چھوڑو ،یہ دنیا فراڈ ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا سے ڈرتے ہیں اور اس سے بھاگتے ہیں، دنیا اگر جھوٹ ہے، illusion ہے تو اس سے ڈر کر بھاگنا کیوں ہے؟ ان لوگوں نے کبھی سمجھا ہی نہیں کہ اگر دنیا جھوٹ ہے تو اس سے ڈر کر کیوں بھاگ رہے ہو؟ جھوٹ سے کون ڈرتا ہے ؟ جھوٹ سے کون بھاگتا ہے؟

ان لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب وہ کہتے ہیں کہ وہ real ہیں ،وہ consciousness نہیں ،روح ہیں تو unreal دنیا سے کیوں بھاگنا ہے ؟ real کبھی بھی unreal سے نہیں بھاگتا ۔

دنیا کو چھوڑ کر جہاں جارہے ہو وہ بھی تو دنیا ہے،جنگل ،ریگستان بھی تو دنیا ہے۔ جہاں بھی بھاگ کر جاو گے دنیا ہی ہے تو بھاگنا کیوں ہے؟

ایک وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں یہ دنیا ،یہ جہان ،یہ کائنات یہ بھی real ہے ،سچ ہے، اور روح ،کانشئینس وغیرہ بھی سچ ہے ،دونوں سچ ہیں ۔دونوں real ہیں، دنیا میں unreal کچھ بھی نہیں ہے۔

یہ سامنے دیوار ہے ، اس میں کوئی شک نہیں، اس دیوار کو توڑ کر ہر اینٹ کو الگ الگ کردیا ، اب یہ دیوار نہیں ہے،یہ اینٹیں ہیں ۔سوال یہ کہ دیوار سچ ہے یا اینٹیں سچ ہیں؟

سچ یہ ہے کہ دیوار اور اینٹیوں کا سچ مٹی ہے۔ دیوار بھی مٹی سے بنی ہے اور اینٹ بھی مٹی کی بنی ہے۔

غیر حقیقی یا unreal کیا ہے،جو بھی ہم دنیا کے بارے میں بول رہے ہیں،سوچ رہے ہیں وہ سب کچھ unreal ہے ۔

کیونکہ دنیا میں جو بھی forms ہیں ان کا سچ کچھ اور ہے اور ہم اس سچ کو بولتے کچھ اور ہیں ، یہ دیوار اصل میں ہے مٹی ہے لیکن ہم اس کو دیوار بول رہے ہیں۔دیوار کو دیوار بولنے میں کوئی ایشو نہیں ہے ، مٹی کو جانتے تک نہیں یہاں پرابلم ہے

یہ باڈی ہے،اس کو باڈی بولنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن ہم خود کو صرف یہ باڈی سمجھتے ہیں کانشئینس یا روح کو جانتے نہیں یہ پرابلم ہے ۔

ندی میں لہریں ہیں ،بلبلے ہیں ،الگ الگ طرح کی forms ہیں ،یہ سب unreal ہیں ، unreal اس وجہ سے ہے کہ ان لہروں یا بلبلوں کی اپنے آپ میں کوئی existence نہیں ہے۔real صرف پانی ہے، اپنے آپ میں جس کی کوئی eixstence ہے وہ پانی ہے۔ پانی ہے تو بلبلے اور لہریں ہیں ،پانی نہ ہو تو نہ بلبلے ہیں نہ لہریں ہیں ،نہ سمندر ہے اور نہ آئس برگ ہے۔

پرابلم کیا ہے ہم لہروں اور بلبلوں کی existence کو تو جانتے ہیں لیکن پانی کو جانتے تک نہیں ،یہ پرابلم ہے۔

سچ کو اس طرح سمجھنا ہے۔ سچ سے بھاگنا نہیں ہے،سچ سے ڈرنا نہیں ہے، دنیا سے بھاگنا نہیں ہے،دنیا کو سمجھنا ہے،کچھ کرنا نہیں ہے صرف دنیا کو سمجھنا ہے۔ سمجھ سے ہی confusion ختم ہوتی ہے۔ ہمارا پرابلم یہ ہے کہ ہم سمجھتے نہیں یا ڈر کر بھاگتے ہیں یا خوف کی وجہ سے سچ کو سمجھتے ہی نہیں

Life is the game of Understanding.

سب کچھ سپیس میں ہے ،سپیس move نہیں ہورہا ہے،جو کچھ بھی سپیس میں ہے وہ move ہورہا ہے، ڈریمر move نہیں کرتا ،ڈریم میں movement ہورہی ہے۔ جو move نہیں کرتا وہ real ہے اور جہاں movement ہے وہ unreal ہے۔

ہم اس میں کھو گئے ہیں جو سچ نہیں ہے، جو سچ ہے اس کو جانتے ہی نہیں ،یہ پرابلم ہے۔

جب میں کہتا ہوں وہ میری بیوی ہے، کیا یہ سچ ہے؟ وہ میری بیوی نہیں ہے، وہ ایک باڈی ہے، میں نے صرف یہ سچ مان لیا ہے کہ وہ میری بیوی ہے ،جو میں چاہوں وہ ویسا ہی کرے ، جب وہ میری خواہش کے مطابق ایکٹ نہیں کرتی تو میں دکھی ہوجاتا ہوں،دکھی کیوں ہوا کیونکہ میں نے اسے صرف بیوی مان رکھا ہے ۔وہ صرف میری بیوی نہیں ہے ،ایک باڈی بھی ہے، کل کسی وجہ سے ان بن ہوجائے اور طلاق ہوجائے تو اب وہ میری بیوی نہیں ہے،ایک انسان ہے ، اور میری ایکس بیوی کسی اور سے شادی کرلے تو اب وہ کسی اور کی بیوی ہے تو سوچیں real کیا ہے اور unreal کیا ہے؟

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خواہشات کے ساتھ ایک ہوگئے ہیں ،خواہشات کو ہی سچ سمجھتے ہیں، جو reality ہے اس کو سمجھتے ہی نہیں ، اس لئے خواہشات پوری نہ ہونے کی وجہ سے ہم دکھی ہوجاتے ہیں۔

دنیا کا پرابلم یہ ہے کہ یہ اس باڈی کو تو جانتے ہیں ، انہیں معلوم ہے یہ میل باڈی ہے ،یہ فی میل باڈی ہے ،اس کا نام یہ ہے ،اس کا نام یہ ہے ،لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ ان سب باڈیز میں جو دیکھ رہا ہے وہ ایک ہے۔ ان باڈیز میں جو کانشئینس یا اویرنس ہے وہ ایک ہے ۔

ہم کیا کہتے ہیں کہ ہم باڈیز ہیں ،یہ تھاٹ ہے جو سچ ہے ،اس تھاٹ یا پاتھ پر چل کر میں سچ تک پہنچوں گا اور جہاں پہنچوں گا وہاں سچ ہے ۔

سچ یا real یا reality صرف کانشئینس ہے اور وہی کانشئینس آپ کو ہو ۔
You are that

اب سچ تک پہنچنے کے لئے کیسے کسی thought یا path کی ضرورت ہوسکتی ہے؟ جب آپ ہی سچ ہو تو خود سے ملنے کے لئے کیسے کسی تھاٹ کو پکڑنا ہے ،سیلف انکوائری کے لئے کیوں کسی تھاٹ کو پکڑنا ہے،سیلف انکوائری سے پہلے برین میں پڑے سارے خیالات ،نظریات اور notions کو نکالنا پڑے گا ،جب برین مکمل طور پر تمام تھاٹس سے خالی ہوجائے گا اور آپ ہلکے پھلکے ہوجاو گے تب ہی جان سکتے ہو کہ تم کیا ہو ۔

تھیوریٹیکلی ہم نے سب جان رکھا ہے ،سب کچھ رٹ رکھا ہے ، اس سے کیا ہوگا ہم مولانا بن سکتے ہیں ،پیر بن سکتے ہیں ، تبلیغ کرسکتے ہیں ، شیخ بن سکتے ہیں ۔سب کچھ کو ہم نے رٹ رکھا ہے اور رٹا رٹایا تھاٹ لوگوں تک پہنچا رہے ہیں آج تک اس سے کچھ ہوا نہ ہی کچھ ہوگا

خدا کو experience کرنا ہوتا ہے ،رومی کی طرح خدا کو دیکھنا ہوتا ہے،رومی رٹے رٹائے تھاٹس کی بنیاد پر خود کی گہرائی میں نہیں اترا تھا ،اس نے برین سے سب کچھ نکال دیا ،جب ہلکا پھلکا ہوا اور خود کو جانا تب اس نے خدا کو دیکھا ،پھر اسے سمجھ آئی کہ real کیا ہے ، سچ کیا ہے ۔جب سے رومی نے سچ کو دیکھا ہے ایک لمحے کو بھی وہ سچ سے ادھر ادھر نہیں ہوا ،وہ سچ سے ایک ہے اس لئے ساری کائنات میں رومی ہے۔

رومی نے جب سے خود کو خود میں دیکھا ہے تب سے وہ ایک لمحے کے لئے بھی جھوٹ کی طرف نہیں پلٹا ،کبھی خواہشات اور خوف کی زد میں نہیں آیا ،خدا سے ملاقات کے بعد وہ ہر قسم کی خواہشات اور خوف سے مکمل free ہوگیا ہے اور زرے زرے میں محو رقصاں ہے۔

رومی میں ہر طرح کے desires مٹ گئے ہیں ،وہ زندگی اور موت کے کھیل سے آزاد ہوگیا ہے ،وہ lights and shadows کے کھیل سے آزاد ہوگیا ہے

رومی جان گیا ہے وہ باڈی نہیں ہے بلکہ وہ کانشئینس ہے ۔ جب انسان سمجھ جاتا ہے کہ وہ کانشئینس ہے تو وہ اچھائی برائی سے beyond ہوتا ہے ، کسی تھاٹ یا path سے آزاد ہوتا ہے ،خواہشات اور خوف سے آزاد ہوتا ہے اور خدا سے ایک ہوجاتا ہے۔

رومی جنت اور دوزخ سے آزاد ہے، جنت خواہش ہے اور دوزخ خوف ہے ،رومی دونوں سے beyond ہے اور خدا سے ایک ہوگیا ہے،اسے دنیا کا ہوش ہی نہیں ۔

رومی جانتا ہے وہ بلبلا بھی ہے لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ بلبلا پانی ہی ہے یعنی رومی کانشئینس ہی ہے ، اس رومی کو سمجھ ہے کہ بلبلا real نہیں ہے پانی real ہے ،یہ باڈی real نہیں ہے جو اس باڈی میں سے دیکھ رہا ہے وہ real ہے۔

رومی یہ جانتا ہے کہ اس باڈی میں میموری ہے اور تمام تھاٹس اس میموری میں پڑے ہیں ،میموری کے تھاٹس پر سوار ہو کر سچ نہیں دکھتا ۔ یہ میموری کیا ہے باڈی کا ایک حصہ ہے ،باڈی مٹ جاتی ہے تو میموری بھی مٹ جاتی ہے لیکن جو اس باڈی میں دیکھ رہا ہے وہ کبھی بھی دیکھنا بند نہیں کرتا کیونکہ دیکھنا ہی اس کی نیچر ہے ۔

رومی باڈی نہیں کانشئینس ہے روح ہے ، باڈی سے میموری کو نکال دو پھر کہاں ہے ان لوگوں کا سچ جو خود کو باڈی کہتے ہیں؟

ایک ہندو کی باڈی سے میموری نکل جائے ، یادداشت چلی جائے پھر اس سے پوچھو وہ کون ہے تو کیا وہ بتائے گا کہ وہ ہندو ہے یا لبرل ہے یا اتھیسٹ ہے،وہ کچھ بھی نہیں بتا سکے گا

میموری گئی تو سارے نام نہاد سچ بھی گئے ، کیا سچ ایسا ہوسکتا ہے جو میموری کے چلے جانے سے مٹ جائے ،سچ تو ایک لمحے کو بھی نہیں مٹتا ،خدا ہر لمحے میں ہے، ممکن نہیں ہے کہ ایک ایسا لمحہ بھی ہو جس میں خدا نہ ہو ۔
This is impossible
لیکن آپ اتھیسٹ تھے میموری چلی گئی تو اب آپ یہ نہیں بتا سکتے کہ میں اتھیسٹ ہوں؟

کہاں گیا آپ کا سچ ؟ وہ سچ جس پر آپ نازاں تھے ،سب کو کہتے تھے کہ
I am atheist
I am liberal.
I am secular.
I am religious.

میموری کے جاتے ہی آپ کے سچ مٹ گئے لیکن آپ ہو ، آپ کو مٹانے کا کوئی طریقہ نہیں ، آپ کانشئینس ہو ،کانشئینس نہیں مٹتی ،میموری مٹ جاتی ہے ،باڈی مٹ جاتی ہے لیکن روح نہیں مٹتی ،کانشئینس نہیں مٹتی ،اویرنس نہیں مٹتی ،ایک لمحے کو بھی نہیں مٹتی۔

سارے تھاٹس، سارے concepts، سارے athiest،سارے liberal,جنت اور دوزخ ،یہ سب میموری میں پڑے ہیں ۔ میموری مر جاتی ہے تو سب کچھ ختم ہوجاتا ہے ،سب کچھ ختم ہوجاتا ہے لیکن آپ ہوتے ہو ،کانشئینس ہوتی ہے۔ روح ہوتی ہے ،رومی ہوتا ہے ،رومی کو مٹانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے

سارے believer اور نان believer کہاں ہیں ، اس برین میں ہیں جب آپ یہ باڈی ہی نہیں ہو تو میموری کیسے ہو سکتے ہو ؟

Memory is inert.
Hard disk is inert and all the information in the hard disk is inert. This body is divided into two parts ,one is hardware and another part is software. Both are standing on each other.
I am the source of hardware and software. I am conscious and untouched, that’s why I am real.

جسم مرتا ہے کانشئینس نہیں مرتی
جسم مرتا ہے روح نہیں مرتی
جسے touch نہیں کیا جاسکتا اسے مارا بھی نہیں جاسکتا ،روح یا کانشئینس untouched ہیں لیکن یہ اس باڈی کو ٹچ کیا جاسکتا ہے،دنیا نظر آرہی ہے اس لئے بدل رہی ہے ،باڈی نظر آرہی ہے اس لئے وقت کے ساتھ ساتھ بدل رہی ہے ۔

کنفیوزن کیا ہے؟ یہ ہے کہ ہمیں بتادیا گیا ہے یہ راستہ ہے ،یہ سچ ہے ،یہ جھوٹ ،اس حساب سے ہم خواہشات اور خوف کو تعمیر کرتے ہیں اور کسی تھاٹ کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔

کانشئینس نہ پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی مرتی ہے،روح نہ پیدا ہوتی ہے نہ مرتی ہے ،جسم پیدا ہوتا ہے اور مرتا ہے ،جو پیدا ہوتا ہے وہ مرتا ہے جو پیدا نہیں ہوتا وہ مرتا بھی نہیں۔ روح نہ پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی مرتی ہے ،جو نہ پیدا ہو اور نہ ہی مرے کیسے اس سچ کو میموری میں پڑے کسی تھاٹ سے سمجھا جاسکتا ہے
This is impossible
وہ باڈی جس میں میموری ہے اور دونوں ہی مرتے پیدا ہوتے ہیں اس سے کیسے سچ کا پتہ لگایا جاسکتا ہے ،سچ انسان تب دیکھا سکتا ہے جب وہ اپنے برین سے تمام تھاٹس نکال دیتا ہے اور خود کہ گہرائی میں اتر جاتا ہے۔


شیئر کریں: