روزنامہ خبریں ملتان میں کالم نگاری کا سلسلہ منقطع کیوں ہوا؟

شیئر کریں:

تحریر عامر حسینی

بہت سے دوست مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ روزنامہ خبریں ملتان میں کالم نگاری کا سلسلہ منقطع کیوں ہوا؟
یہ سوال مجھ سے کافی عرصہ سے ہورہا ہے اور میں بوجہ اس سوال کا جواب دینے سے گریزاں رہا۔
لیکن گزشتہ دو ماہ میں ایسے واقعات رونما ہوئے کہ مجھے اب اس سوال کا جواب “کالم” کی شکل میں دینا پڑا ہے۔

میرے کالم ردی کی ٹوکری میں کیوں ڈالے گئے؟

یہ 2016ء کی بات ہے جب میں نے یہ محسوس کرنا شروع کردیا کہ میرے کئی ایک کالم ردی کی ٹوکری کی نذر ہوئے اور جب یہ پریکٹس بڑھنے لگی تو میں نے یہ جانچ کی کہ میرے جو کالم ردی کی ٹوکری میں گئے ان کا موضوع تھا کیا۔
ان کالموں میں نے پاکستانی فوج کی کمرشل سرگرمیوں پر بحث کی تھی اور ساتھ ساتھ میں نے بلوچستان سمیت پاکستان بھر میں بڑھ جانے والی جبری گمشدگیوں کے پیچھے پاکستان کی باوردی و بے وردی اینٹلی جنس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں پر لگنے والے الزامات کی حقیقت پر بات کرنا شروع کی تھی۔
پریس کو کنٹرول کیے جانے کے منصوبے کے پیچھے کون سی قوتیں ملوث ہیں ان کا جائزہ بھی ان کالموں کا موضوع تھا جو روزنامہ خبریں ملتان کو بھیجے گئے اور ردی کی ٹوکری کی نذر ہوگئے۔
اس زمانے میں روزںامہ خبریں ملتان کے آر ای اور جی ایم امتیاز گھمن صاحب تھے ان سے میں نے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر میں حساس موضوعات اور حساس اداروں پر نہ لکھوں اور اپنے موضوعات بدل ڈالوں تو کالم ردی میں نہیں جائیں گے اور نہ ہی سنسر ہوں گے۔
کالم ادارتی پالیسی سے کافی ہٹ گئے ہیں ان کی یہ بات سننے کے بعد میں نے بغیر اعلان کیے روزنامہ خبریں ملتان میں کالم لکھنا بند کرديے۔

امتیاز گھمن پر سنگین الزامات کیوں لگے؟

دو سال گزرے تو امتیاز گھمن سمیت روزنامہ خبریں ملتان سے 60 کے قریب لوگوں کی فراغت کی خبر آگئی اور اس فراغت کے وقت امتیاز گھمن صاحب اور ان کے لگائے انچارج نمائندگان ، کرائمز رپورٹر اور دیگر چند پر کافی سنگین الزامات عائد کیے گئے۔
ان میں سے ایک الزام یہ بھی تھا کہ امتیاز گھمن صاحب کے پاس جب کبھی کسی ایسے ضلع کے ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او ڈویژن میں تعینات کمشنر یا آر پی او کے خلاف مبینہ کرپشن یا کسی اور طرز کا اسکینڈل کی خبر بجھوائی جاتی جس سے ان کا ذاتی تعلق اور دوستی ہوتی تو ایسی خبر فائل کرنے والے نمآئندے کو کافی کچھ بھگتنا پڑتا تھا۔
سچی بات یہ ہے کہ مجھے اس بات پہ یقین نہیں آیا تھا ان پر الزام تھا کہ وہ وہ خبریں گروپ کے نام پر رئیل اسٹیٹ کے میدان میں بیوروکریسی اور اس کاروبار سے وابستہ لوگوں سے مال اور پراپرٹی بھی بٹورتے رہے ہیں۔
ان پر ملتان کے جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کے الزامات بھی لگے۔ میں نے امتیاز گھمن پر لگنے والے ان الزامات کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ روزنامہ خبریں ملتان گروپ سے وابستہ کئی ایک اضلاع کے صحافیوں پر ایسے الزامات میں حقیقت بہرحال موجود رہی ہے۔
روزنامہ خبریں ملتان سے فراغت کے بعد کے عرصے میں امتیاز گھمن صاحب سے میری تین سے چار ملاقاتیں ہوئیں اور جب وہ روزنامہ جہان پاکستان ملتان کے زمہ دار بن کر آئے تو میں نے ان کے اخبار میں دو سے تین بندے بطور رپورٹر رکھوائے اور اس دوران انہوں نے مجھے اپنا کالم روزنامہ جہان پاکستان میں شروع کرنے کی آفر کی لیکن میں نے ان سے مزاحا کہا کہ رہنے دیجئے ہمارے کالم کے اندر لکھے لفظوں کو پڑھتے ہی آپ کے اخبار کی ادارتی پالیسی کی سانس اکھڑجانی ہے اور پھر کالم ردی کی ٹوکری کی نذر ہوں گے۔ اس کے بعد ان سے کافی عرصہ رابطہ نہ ہوا۔
اس دوران ان کی ادارت میں روزنامہ بدلتا زمانہ ملتان کی اشاعت کا چرچا ہونے لگا۔ مجھے ایک روز حیدر جاوید سید صاحب نے کال کی کہ وہ ایڈیٹورئل ایڈیٹر روزنامہ بدلتا زمانہ ملتان بن گئے ہیں اور اخبار کی ڈمی چھپنا شروع ہوگئی ہے تو میں ایک دو کالم ہفتے میں بھیجنا شروع کردوں۔
میں نے حکم کی تعیمل کی اور اس دوران پھر پتا چلا کہ امتیاز گھمن واپس خبریں آگئے ہیں اور میاں غفار رخصت ہوگئے ہیں۔
ہمارے ایک دوست جو روزنامہ خبریں ملتان کی طرف سے ایک ضلع میں ڈسٹرکٹ رپورٹر تھے اور میاں غفار کے زمانے میں وہ روزنامہ خبریں ملتان سے منسلک ہوئے تھے انہوں نے مجھ سے امتیاز گھمن کا پرسنل نمبر مانگا جو میں نے ان کو دے دیا اور انہوں اس کے اگلے روز امتیاز گھمن سے ملتان خبریں دفتر میں ان سے ملاقات کی اور ملاقات کافی خوشگوار رہی اور دوران ملاقات امتیاز گھمن نے ان سے کہا کہ مجھے پیغام دیں کہ میں روزنامہ خبریں ملتان میں لکھنا شروع کروں۔ میں امتیاز گھمن صاحب سے ملا اور ان کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی میں نے ان سے کہا کہ روزنامہ خبریں ملتان کو میں بطور کالم نویس دوبارہ جوائن کرلیتا ہوں اور سماجی مسائل اور عوامی مسائل پر لکھ دیا کروں گا اور باقی روزنامہ خبریں کی ادارتی پالیسی کی سانس جس موضوع سے اکھڑتی ہے۔
اس موضوع کو سوشل میڈیا پر زیر بحث لے آؤں گا۔ وہ ہنسے اور میں نے اگلے دن ان کو ایک کالم روانہ کردیا جس میں ثبوت کے ساتھ ایک ضلع کے بڑے افسر بارے انکشافات تھے۔
دو دن گزر گئے کالم نہ لگا اور تیسرے دن میں ایک اور ان کے اور اپنے مشترکہ دوست کے ساتھ روزنامہ خبریں ملتان کے دفتر گیا اور ان سے پوچھا کہ کالم اب تک چھپا کیوں نہیں تو پہلے وہ کہنے لگے کہ میں نے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دیا تو وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے ان کو ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ، ڈپٹی ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو کی اپنے زرایع سے حاصل کردہ کچھ انتہائی کانفیڈنشل رپورٹس، اس افسر کے ڈرائیور اور تین سرکاری گاڑیوں میں مشکوک حرکات کے ساتھ کچھ فوٹیج مہیا کیں اور اس افسر کے خلاف اینٹی کرپشن پنجاب اسٹبلشمنٹ ملتان سرکل میں دبا دی گئی۔
ایک انکوائری رپورٹ کے مندرجات کی کاپی جب وہ افسر ملتان تعینات تھا وٹس ایپ کیں اور ایسے ہی محکمہ ریونیو کے جمع بندی رجسٹر اور کئی ایک انتقالات کے عکس بھی وٹس ایپ کیے بظاہر امتیاز گھمن صاحب اس کے بعد لاجواب ہوئے اور کہا کہ کالم چھپ جائے گا لیکن کالم نہ چھپنا تھا نہ چھپا۔
اسی دوران اس افسر کے محکمے اور ماتحت محکموں کی ناقص کارکردگی اور کئی ایک بے ضابطگی کی خبریں روزنامہ خبریں ملتان کو اس کے نمائندوں نے بھجوائیں لیکن وہ شایع نہ ہوئیں اور ایک ضلعی رپورٹر کو امتیاز گھمن نے یہ پیشکش کی کہ وہ اس افسر سے صلح کرادیتے ہیں جس پر اس ضلعی رپورٹر نے یہ کہا کہ افسر سے ان کی کوئی ذاتی لڑائی نہيں ہے بلکہ ضلعی افسر کرپٹ پریکٹسز میں ملوث ہے اور کرپٹ ملازمین کی سرپرستی کرتا ہے اور ان کے بارے میں معروضی رپورٹنگ کرنے والوں کو اداروں سے فارغ کرانے کی دھمکیاں بھی دیتا ہے۔
جب اس رپورٹر نے جھکنے سے انکار کردیا تو بقول اس رپورٹر کے اس کے پاس اس افسر اور امتیاز گھمن کی کال ریکارڈنگ کہیں سے آئی جس میں امتیاز گھمن صاحب نے افسر کو یقین دہانی کرائی کہ اگر وہ اس ضلعی رپورٹر کو فکس اپ کرتا ہے تو وہ ملتان سے روزنامہ خبریں کی طرف سے دباؤ نہیں آنے دیں گے۔
دوسرے معنوں میں اس رپورٹر کو فکس اپ کرنے کی کھلی اجازت دینے کی کوشش کی گئی جس کے بعد اس رپورٹر کے خلاف جھوٹے مقدمات کا اندراج کرانے کے لیے کچھ مدعی تیار کروائے گئے اور اس رپورٹر کو جیل بھیجے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی لیکن عین وقت پر اس بات کی خبر صحافیوں کی ایک قومی سطح کی تنظیم کو ہوجانے اور اس کی طرف سے اس افسر کو تنبیہ کیے جانے پر یہ کاروائی موخر کردی گئی۔
اس دوران میں نے حیدر جاوید سید صاحب کے حکم کی تعمیل میں روزنامہ بدلتا زمانہ ملتان میں کالم نگاری شروع کردی اور بطور ٹیسٹ کیس چار کالموں کے بعد پانچواں کالم “ایک تھا ضلع کا لاٹ صاحب” بھیج دیا۔ یہ کالم جس روز چھپ کر آیا اسی دن صبح مجھے ایڈیٹر ایڈیٹوریل کا فون آیا کہ یہ آپ نے کیا کیا صبح سے دوستوں کے فون آنے لگے ہیں اگرچہ انہوں نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا تھا کہ ان کو سب سے پہلے امتیاز گھمن نے ہی کہا ہوگا لیکن میں سمجھ گیا اس کالم کی سب سے زیادہ تکلیف کسے ہوئی ہوگی۔
میں ذہنی طور پر تیار ہوگیا کہ اب “روزنامہ بدلتا زمانہ” ملتان میں کالم جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا اور اس اخبار میں روزی روٹی کمانے والے اپنے دوستوں کو امتحان میں ڈالنا مناسب نہیں ہوگا۔
میں نے دیکھا کہ میرا کالم “ریڈ مولانا” مولانا عبدالحمید بھاشانی پر لکھا گیا دو ہفتے گزر جانے کے بعد بھی شایع نہیں ہوا اور نہ ہی مجھے روزنامہ بدلتا زمانہ کی پی ڈی ایف فائل ملی جو میری بات کی تصدیق کرنے والی تھی کہ ایک ضلعی افسر جو تحصیل دار سے ترقی کرتا ہوا اپنے تعلقات اور چمک کی بدولت ڈی ایم جی سروس کے لیے مختص ہونے والے عہدے تک پہنچا ہے اس کی دوستی پر سچ کو پھر قربان کردیا گیا ہے۔
اس اخبار کے صفحات میں پھر وہی افسر اس اخبار اور اس کے یو ٹیوب چینل کی سالگرہ کی تقریب کی صدارت کرتا بھی نظر آیا اور کیک کاٹنے کی خبر اور تصویر بھی نمایاں کرکے شایع کی گئی۔
اس سے یہ اندازہ لگانے میں دشواری نہیں ہوئی کہ ماضی میں محکمہ زراعت کا خوف سر پہ سوار کرنے والے اب کھل کر بے ایمانی سے ضمیر فروشی کی حد تک اتر آئے ہیں۔
ایک اور بات وہ یہ ہے کہ جس دن امتیاز گھمن صاحب خبریں گروپ سے دوبارہ نکلے تو روزنامہ خبریں کے اس ضلعی رپورٹر کی روکی گئیں وہ تمام خبریں نمایاں کرکے شایع ہوئیں جن کے بارے میں امتیاز گھمن صاحب ثبوت ملنے کے بعد بھی ثبوت نہ ہونے کے پیچھے افسر سے اپنی دوستی نبھانے میں لگے ہوئے تھے اور ہیں۔


شیئر کریں: