روایتی جنگ کا خاتمہ ، دماغی کھیل شروع

شیئر کریں:

تحریر شہزادہ احسن اشرف

انیس سال قبل دنیا کی سپر پاور امریکا نے افغانستان میں قدم رکھا۔ امریکا کا خیال تھا کہ افغانستان میں
دراندازی کسی پارک میں چہل قدمی کی طرح آسان ہوگی۔

اسی طرح اگر کوئی سمجھتا ہے کہ امریکا نے اچانک افغانستان سے فوجی انخلا غلطی سے کیا تو وہ بھی
ایک غلطی ہے۔

اس وقت امریکا نے خودساختہ تین ممالک کو اپنا دشمن سمجھنا شروع کردیا ہے۔
چین، ایران اور چین کا اتحادی پاکستان امریکا کے دشمنوں کی فہرست میں شامل ہوچکے ہیں۔
امریکا افغانستان میں اس طرح کے حالات چھوڑ کر جارہا ہے کہ خانہ جنگی کی صورت حال ہو۔
امریکا چاہتا بھی یہی تھا کہ افغانستان میں خانہ جنگی ہو تاکہ چین کے مغربی بارڈر پر حالات کشیدہ ہوں
پاکستان میں بدامنی شروع کی جاسکے اور سنی طالبان ایران کے بارڈر پر بھی قبضہ کرلیں۔

لیکن خطے کے ممالک کی بہترین حکمت عملی نے امریکا کی تمام تدابیر الٹ دیں۔
افغانستان کے شمالی شیعہ آبادی والے علاقے طالبان کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور افغانستان میں شیعہ آبادی
طالبان کی حمایت کر رہی ہے۔
طالبان 20 سال بعد کابل فتح کرنے کے قریب، صدر اشرف غنی جلد چلے جائیں گے

چین نے افغان طالبان کے براہ راست مذاکرات شروع کیے اور تعلقات بہترین انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ بارڈر باڑ لگا کر سیل کردیا ہے۔
پاکستان کے طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں کیوں کہ پاکستان نے امریکا کی منشا پر کوئی ایسا قدم نہیں
اٹھایا جس میں پاکستان کی سرزمین افغانستان میں حملوں کے لیے استعمال ہو۔

اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکا کے منصوبوں پر پانی پھر گیا اور افغانستان میں خانہ جنگی اور ہمسایہ
ممالک کے خلاف تیار کردہ تمام سازشوں کا خاتمہ ہوگیا۔

افغانستان میں بھارت کی بڑی انویسٹمنٹ ضائع ہوگئی۔ بھارت امریکا کی ایما پر افغانیوں کے دلوں میں
پاکستان کے خلاف نفرت نہیں پیدا کرسکا۔ اور اب بھارت افغانستان میں فوج بھیجنے کی حماقت نہیں کر رہا۔
اب گولیوں اور بموں کی جنگ سے بات آگے نکل چکی ہے۔ اب ذہنوں کی جنگ شروع ہوگئی ہے۔
میرا پاکستانی شہریوں خاص طور پر نوجوان نسل کو پیغام ہے کہ متحد رہیں اور مستند معلومات کو ہی آگے پھیلائیں کیوں کہ اب پراپگنڈا کی جنگ شروع ہوچکی ہے۔
بھارتی خفیہ ایجنسی را سوشل میڈیا کے ذریعے غلط معلومات کی بمباری کر رہی ہے اور پاکستان کے خلاف بے بنیاد پراپگنڈا کر رہی ہے۔
ایسے میں اگر کوئی معلومات آپ تک پہنچتی ہے تو اسے آگے پھیلانے سے پہلے اس کے سورس اور حقیقی ہونے کی تحقیقات ضرور کریں۔
پاکستان اور افغانستان جیت چکے ہیں۔ اس وقت سفارتی میدان میں پاکستان انیس سال کی مضبوط ترین سطح پر ہے۔
پاکستانیوں ایک روشن مستقبل کے لیے تیار رہیں وہ مستقبل جہاں پاکستان، چین، ایران اور افغانستان مل کر سی پیک پر کام کریں گے۔ ہمارا مستقبل روشن ہے۔ طاقتور پاکستان بھارت کی موت اور اس کے لیے ڈراونا خواب ہے۔
پاکستانیوں اور افغانستانیوں مسکرائیے کیوں کہ ہم ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔
چند ماہ میں نیا دور شروع ہوجائے گا جو آپ خود دیکھ لیں گے۔ مگر بی ایل اے، پی ٹی ایم اور دوسری بھارتی حمایت یافتہ تنظیموں سے ہوشیار رہیں جو جلد اپنے انجام کو پہنچ رہی ہیں۔
اچھے دن آچکے۔
پاکستان زندہ باد
(مضمون کے لکھاری پی آئی اے کے چیئرمین اور سابق وزیر رہ چکے ہیں)


شیئر کریں: