رضا ربانی نے اپوزیشن کے بجائے اداروں کے مزاکرات کی تجویز پیش کردی

شیئر کریں:

رپورٹ ایم اے چوہان
سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا امکان مسترد کرتے
ہوئے اداروں کے درمیان مذاکرات کی تجویز پیش کردی ہے۔
کہتے ہیں اداروں کے درمیان مذاکرات وفاق کو مستحکم کرنے کا واحد راستہ ہے سینیٹ الیکشن کے معاملہ
کو چھیڑنے کا شفافیت سے کوئی تعلق نہیں اگر آئین کے ساتھ ہوا تو وفاق کے ساتھ کھلواڑ ہوگا۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت سب امور
قانون اور آئین کے مطابق چلارہی ہے۔

سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدات ہوا جس میں اپوزیشن کے ایجنڈے پر بحث ہوئی۔
میاں رضاربانی بولے بھی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے اسے غدار وطن کا تمغہ دے دیا جاتا ہے۔

آئین کے ساتھ مزید کھلواڑ نہیں کیا جا سکتا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نہ مذاکرات ہو سکتے ہیں
نا ان کا کوئی فائدہ ہے ہے اداروں کے درمیان مذاکرات ہونے چاہیں۔

قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم کہتے ہیں صوبوں کے جزائر پر وفاق کے قبضہ کا تاثر دیا گیا ہے۔
صوبے مضبوط ہوں تو وفاق مضبوط ہوتا ہے جزائر سے جو ریونیو آیے گا وہ سندھ کو ملے گا۔
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جزیروں کے معاملے پر اسٹیک ہولڈرز
سے مذاکرات ہونے چاہیے تھے۔

سندھ اور بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ان کو اپنے حقوق ملنے چاہیے۔
وزیر قانون فروغ نسیم نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کردیا کہا ہم سب کچھ قانون اور
آئین کے مطابق چلارہے ہیں۔

آئین میں آرڈیننس کی اجازت ہے آبی ذخائر بھٹو حکومت نے وفاق کے حوالے کیے تھے اب ان
پر تنقید کیوں جارہی ہے۔
بحث میں سینیٹر سسی پلیجو اور بیرسٹر سیف سمیت دیگر ارکان نے بھی حصہ لیا اجلاس
اب منگل کی سہ پہر تین بجے ہو گا۔


شیئر کریں: