“رانا شمیم ؍لیکس” پردے کے ؍پیچھے کیا ہے؟

شیئر کریں:

تحریر علیم عُثمان
اصل کہانی کُچھ یُوں ہے !

رانا شمیم گلگت بلتستان میں چیف جج تھے جبکہ پاکستان میں ثاقب نثار چیف جسٹس جو اُن دنوں بظاہر شریف فیملی
کے خلاف ذاتی دشمنی کی حد تک جاچکے تھے۔ رانا شمیم کو اس کا ادراک تھا۔ اس سے قبل رانا شمیم نے مدت ملازمت
میں توسیع کے لئے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کو پہلے پیار سے رام کرنے کی کوشش کی، نہ ماننے
پر مبینہ طور پر دھمکیاں دیں مگر بات نہیں بنی، 
بلکہ حافظ حفیظ الرحمان کی مشاورت سے تیار ہونے والے گلگت بلتستان انتظامی آرڈر 2018ء میں ایڈہاک جج کی پینشن
بھی ختم کردی گئی تھی، جو تقریبا 10 کروڑ روپے بنتی تھی۔

اب رانا شمیم انتقام کی آگ میں پاگل ہوگئے۔  اسی دوران انہوں نے اسلام آباد میں ثاقب نثار سے ملاقات کی اور گلگت
بلتستان کے دورے کی دعوت دی، یہ وہی مشہور؍ زمانہ دورہ ہے، جس کا ذکر انصار عباسی کی اسٹوری میں ہے۔  بتایا جاتا
ہے کہ دورہ کے کچھ دن بعد رانا شمیم نے ثاقب نثار کو 27 لاکھ روپے کا بل بھیجا جو چیف جسٹس ثاقب نثار کے 27 افراد
کے “فیملی ٹؤر” کے اخراجات کا بل تھا اور پوچھنے پر کہا کہ یہ دورے کے اخراجات ہیں، جس پر ثاقب نثار غصے سے
پاگل ہوگئے اور دونوں کے درمیان ایک سرد جنگ شروع ہوگئی ، مگر دونوں ایک دوسرے کے خلاف کر کچھ نہیں سکتے
تھے کیونکہ آئینی اور قانونی طور پر ؍خطوں کی پوزیشن الگ الگ تھی۔

ثاقب نثار نے آرڈر 2018ء کے خلاف از خود نوٹس لیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی حافظ حفیظ الرحمان کی مشاورت سے
بنائے گئے انتظامی آرڈر 2018ء کو بعض  ہلکی پھلکی ترامیم کی سفارش کے ساتھ تسلیم کرلیا، اگرچہ ان کی پہلی کوشش
تھی کہ اس کو کلی طور پر مسترد کریں، مگر اس کا فائدہ رانا شمیم کو تقریباً دس کروڑ روپے کی صورت میں ملتا، اس
لئے اسے مسترد نہیں کیا اور وزارت خارجہ و قانون سے بھی کہا کہ سپریم کورٹ کی مداخلت کے نتائج کے منفی
اثرات کشمیر ایشو پر ہونگے۔

راوی کے مطابق ثاقب نثار نے رانا شمیم پر واضح کردیا تھا کہ وہ مدت ملازمت میں توسیع کے لئے کچھ نہیں کرسکتے
کیونکہ نُون ؍لیگ ان کی بات نہیں مانے گی۔ رانا شمیم نے ہر طرف سے مایوسی کے بعد مبینہ طور پر حافظ حفیظ الرحمان
سے انتقام لینے کا فیصلہ کیا اور حافظ حفیظ الرحمان کے خلاف 10 سال قبل کی ایک انتخابی درخواست پر از خود نوٹس
لے لیا اور منصوبہ بنایا کہ حافظ حفیظ الرحمان کو تاحیات نااہل کردیں گے،
درخواست گزار پیپلزپارٹی کے جمیل کو بھی بلایا اور بقول راوی کچھ  رقم بھی طے ہوئی اور کچھ خاص الخاص لوگ
بھی شامل ہوئے اور حافظ حفیظ الرحمان کی تاحیات نا اہلی طے پائی، یہ دن رانا شمیم کے بطور جج آخری دن تھے،
از خود نوٹس تو لیا مگر اسی دوران گلگت بلتستان سپریم اپلیٹ کورٹ کے دوسرے جج جو مقامی تھے 15 دن کی چھٹی
پر بچوں کے ساتھ اسلام آباد میں تھے ، ان کو جبری طور واپس گلگت لایا گیا، رانا شمیم حافظ حفیظ الرحمان کی نا اہلی
کا فیصلہ لکھ کر بیٹھے ہوئے تھے ، بس دستخط باقی تھے۔
مقامی جج نے سخت مزاحمت کی اور کہاکہ اس درخواست پر تو پہلے ہی عدالت حافظ حفیظ الرحمان کے حق فیصلہ دے چکی ہے اور آپ کا یہ عمل غیر قانونی ہے جس پر رانا شمیم نے ساتھی جج سےکہا  “آپ اختلافی نوٹ لکھ دیں” ۔ مقامی جج صاحب نے کہا کہ پھر مجھے کیس پورا پڑھنے دیں اور کل دوبارہ اس کی سماعت رکھیں، اگلا دن رانا شمیم کی ملازمت کا آخری دن تھا۔ رات کو رانا شمیم نے خوب جشن منایا کہ کل حافظ حفیظ الرحمان تاحیات نا اہل ہونگے مگر اگلا دن جب آیا تو مقامی جج صاحب غائب ہوگئے جنہیں رات 12 بجے تک تلاش کیا جاتا رہا، مگر یہ معلوم ہی نہ ہوسکا کہ جج صاحب کو زمین ؍نگل گئی یا آسمان کھا گیا، بتایا جاتا ہے کہ اس صورتحال پر ادارے سرپکڑ کر بیٹھ گئے اور یوں رانا شمیم ناکام و نامراد ریٹائرڈ ہوگئے اور اگلے دن مقامی جج نے قائم مقام چیف جج کی ذمہ داریاں سنبھال لیں اور حافظ حفیظ الرحمان تاحیات نا اہلی سے بچ گئے۔ ساہیوال سے تعلق رکھنے والے رانا شمیم احمد کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے 2015 میں گلگت بَلتستان کا چیف جج لگایا تھا جبکہ اس سے قبل سابق وزیراعظم نے رانا شمیم احمد کو سندھ ہائی کورٹ کا جج لگایا تھا تاھم جوڈیشل کمیشن نے اسے کنفرم نہیں کیا تھا.

کہا جاتا ہے کہ یہ پنڈورا بکس ایک خاص ایجنڈے کے تحت کھولا جارہا ہے ، یہ سب کہانیاں یا راز ایک مقصد کے تحت اب منظر عام پر لانے جارہے ہیں. نوازشریف کو جس طرح مبینہ طور پر ایک بے نظیر عدالتی پراسیس کے ذریعے “سزایافتہ” اور سیاست کے لئے نااہل بنوایا گیا اس کے خلاف اگرچہ پہلی “اعترافی آواز” خُود انہیں سزا سُنانے والے احتساب جج ارشد ملک نے بُلند کی تھی مگر تھوڑے ہی عرصے میں وُہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئے یا کر دیئے گئے. جج ارشد ملک کی جو دُوسری وڈیو لندن میں “محفوظ ہاتھوں میں” بتائی جاتی ہے اس میں مبینہ طور پر وہ بتارہے ہیں کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اُنہیں بُلا کر نوازشریف کو ہر صورت سزا سنانے کا “حُکم” دیا تھا “مگر جب مَیں نے اُن سے کہا سَر ! استغاثہ کے کیس میں کُچھ بھی نہیں جس کی بُنیاد پر مَیں نوازشریف کو کرپٹ ثابت قرار دے کر سزا سُنا سکُوں تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے مُجھے دوبارہ بُلا کر اصرار کیا” دیکھو ! مُلک حالت ؍ جنگ میں ھے ، آپ کو نواز شریف کو ہر حالت میں سزا سُنانے ھے”. پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت صدیقی میدان میں آئے لیکن جسٹس صدیقی کو “؍مس کنڈکٹ” کے الزام میں انصاف کے حتمی مراحل طے ہونے سے پہلے ہی عدلیہ سے “آؤٹ” کر دیا گیا اور اب ایک طویل وقفے کے بعد گلگت بَلتستان کے چیف جج کا “حلفیہ انکشاف ” سامنے آیا ھے جو موصوف ریٹائرمنٹ کے بعد لندن جا کر اس “جواز” کے ساتھ سامنے لائے ہیں کہ اُن کی مرحُومہ اہلیہ نے ایسا کرنے کا اُن سے عہد لیا تھا. لیکن سنجیدہ حلقوں کے مطابق یہ در اصل اسی سیاسی سیریل ہی کا ایک ایپی سوڈ ھے جس کا آغاز پچھلے دنوں “پنڈورا ؍لیکس” کی صورت ہوا تھا.

اس کا اظہار جناب افتخار عارف کی اس مشہُور نظم میں بھی ہوتا ہے جو 2016 میں گُلشن اقبال کراچی میں ایم کیو ایم کے زیر انتظام سالانہ پاک و ؍ہند شہر؍ قائد مُشاعرے میں راقم نے خُود مُحترم افتخار عارف کی زبانی سُنی تھی مُلک کے سیاسی نظام کے تناظر میں اس نظم کو سدا بہار حیثیت حاصل ہو چُکی ھے  اس کے چند اشعار . .
کہانی  میں  نئے  کردار  شامل  ہو گئے ہیں
نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا

کہانی  آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا

یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات
سحر   سے   پہلے   پہلے   سب   تماشا  ختم  ہوگا

دلِ  نا  مطمئن  ایسا   بھی  کیا  مایوس  رہنا
جو خلق اٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہوگا

دو پہلوؤں پر مُشتمل یہ خاص مقصد طاقتوں حلقوں کی طرف سے سابق وزیراعظم نواز شریف سے “این آر او” لینے کی اور ساتھ ہی سویلین چہرے سے “نجات” کی ایک کوشش بتایا جاتا ھے.  وہی نواز شریف جس نے اقتدار سے اپنی آخری “بےدخلی” کے بعد اسلام آباد سے بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور تک اپنی احتجاجی ریلی یہ کہتے ہوئے شروع کی تھی کہ وہ اب آئین کی حقیقی بحالی اور سویلین بالا دستی کے لئے میدان میں اُترے ہیں. “مُجھے کیوں ؍نکالا” اور “ووٹ کو ؍عزت دو” کے نعروں کے ساتھ یہ سفر اگرچہ انہوں نے یہ کہہ کر آغاز کیا تھا “اب مَیں نظریاتی ہوگیا ہُوں” اور یہ کہ اُن کی جدوجہد اب پاکستان میں سویلین بالا دستی کی مکمل بحالی ھے تاھم “سزایافتہ” ہوتے ہوئے بھی مُلک سے ؍نکل جانے میں ایک بار پھر کامیاب ہوجانے کے بعد آنے والے برسوں میں بر سر اقتدار پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین نے “باغی” ہو کر جب لندن میں اُن سے ملاقات چاہی تو بتایا جاتا ہے کہ نواز شریف نے شرط رکھی کہ پہلے جہانگیر ترین لندن میں پریس کانفرنس میں وہ سب بتائیں کہ کس طرح ایک منصوبے کے تحت نوازشریف کو اقتدار اور سیاست سے بے دخل کیا گیا ہے اور کس طرح جہانگیر ترین نے اُن کی جگہ مسند؍ ؍اقتدار پر بٹھائے جانے والے کے لئے اسمبلی میں ووٹ پُورے کرنے میں اس کی مدد کی. ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین کو بھی فی الحال مُلک سے نکل جانے کے لئے محفوظ راستہ فراہم کیا گیا تھا. اُن کے چارٹرڈ روسی جہاز نے باپ بیٹے کو لے کر مبینہ طور پر “نُور ایئر بیس” سے سوئٹزرلینڈ کے لئے اُڑان بھری تھی جہاں چند روز قیام کے دوران جہانگیر ترین نے اسحٰق ڈار کے ذریعے نواز شریف سے ؍ابتدائی رابطہ قائم کیا.

بعد میں بعض طاقتور شخصیات کے حالیہ رابطوں یعنی تازہ ترین مذاکرات میں بھی بتایا جاتا ہے کہ نواز شریف نے یہی شرائط رکھی ہیں کہ پہلے اُن کی ؍عزت بحال کی جائے اور اُن کی تاحیات نا اہلی کالعدم یا زیادہ سے زیادہ 5 سال کے لئے کر دیئے جانے اور احتساب کیس میں اعلیٰ عدالتوں سے اُن کی بریت یقینی بنائی جائے پھر ہی کوئی بات ہو سکتی ہے.  تجزیہ کاروں کے مطابق بال اب نوازشریف کی کورٹ میں ھے جو موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں شامل ایک اھم ریٹائرڈ عسکری شخصیت، ایک سابق انٹیلیجنس چیف کے بقول “اگر تین چار سینیٹر و ایم این ایز کی باتوں میں نہ آتے تو چوتھی بار بھی وزیر اعظم بن سکتے تھے” سنجیدہ حلقوں کا خیال ھے اس وقت طاقتور حلقے کل نکالے گئے “سویلین” سے آج اگر این آر او لینے کی کوشش پر مجبور ہوئے ہیں تو یہ نوازشریف ہی کی حکمت عملی اور سیاسی جدوجہد کا نتیجہ ہے جو انہوں نے” اپنی سیاسی زندگی کی “آخری ؍اننگ” کہہ کے آغاز کی تھی. 

مبصرین کا کہنا ھے کہ بالآخر نوازشریف کی حکمت عملی اور جدوجہد ثمر بار ہو رہی ہے لیکن” زورداروں”  کی طرف سے نواز شریف سے این آر او لینے کی مبینہ کوشش دراصل نواز شریف اور پی ڈی ایم کو مصلحت کے تحت” ٹریپ” کرنے کی کوشش ھے جس کی کامیابی اس پر منحصر ھے کہ ووٹ کی ؍عزت اور مُکمل سویلین بالادستی کی بحالی کے علمبرداروں اور پی ڈی ایم میں سے کوئی انفرادی” مصلحت” یا “کمپرومائز” کی بنا پر
یہ ٹریپ قبول کر لیتا ہے یا پھر محمود خان اچکزئی کی 13 نومبر کو کی گئی دُوسری ٹویٹ کے مطابق بالآخر “فی الحال” سودے بازی کو ترجیح دیتا اور “پاکستان کا طیب اردوان” بننے کا ارادہ مؤخر کر دیتا ھے. دیکھتے ہیں “آئرن مَین” پاور پالیٹکس کا روائتی کھلاڑی ثابت ہوتا ہے یا ملک میں عدلیہ اور میڈیا کی حقیقی آزادی اور اداروں کو سیاست سے پاک کرنے کے اعلیٰ و ارفع ؍مشن کو منطقی انجام تک لے جانے کو  ترجیح دیتا ھے کہ اس کے پاس  پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اَمر ہوجانے کا یہی آخری موقع اور آخری راستہ ھے. 


شیئر کریں: