ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس پر سماعت 12 دسمبر کو ہوگی

سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس پر صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر
کر دیا گیا ہے. چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں نو رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کا
لارجر بینچ 12 دسمبر کو ذوالفقار علی بھٹو کیس کی سماعت کرے گا.

آخری سماعت کب ہوئی؟

ذوالفقار علی بھٹو کا صدارتی ریفرنس 11 سال سے سپریم کورٹ میں زیر التوا تھا۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے اپریل
2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا.
صدارتی ریفرنس پر پہلی سماعت دو جنوری 2012 اور آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی. صدارتی
ریفرنس پر پہلی 5 سماعتیں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ نے کیں.

صدارتی ریفرنس کے وکیل بابر اعوان کا وکالتی لائسنس منسوخ ہونے کی وجہ سے عدالت نے وکیل تبدیل کرنے کا حکم دیا
تھا اور پھر نومبر 2012 کے بعد کبھی سماعت نہیں ہوئی.
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری متعدد مرتبہ عوامی جلسوں اور پریس کانفرنسز میں اس انتہائی اہمیت کے حامل کیس
کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کرتے رہے ہیں.
23 اگست 2023 جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے صدر طیب بلوچ نے اپنی تقریب
حلف برداری میں بھٹو ریفرنس کی سماعت کا مطالبہ کیا تھا.
5 اکتوبر 2023 کو پریس ایسوسی ایشن کے رپورٹرز سے ملاقات میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریفرنس کو جلد سماعت
کے لیے مقرر کرنے کا اشارہ بھی دیا تھا.

آصف زرداری کے 5 سوالات

ریفرنس میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کی پانچ سوالات پر راۓ طلب کی تھی. وہ سوالات
یہ ہیں.
پہلا سوال: ذولفقار بھٹو کے قتل کا ٹرائل آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق مطابق تھا؟
دوسرا سوال: کیا ذولفقار بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پر سپریم کورٹ اور تمام ہائیکورٹس
پر آرٹیکل 189 کے تحت لاگو ہو گا؟اگر نہیں تو اس فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے؟
تیسرا سوال: کیا ذولفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانا منصفانہ فیصلہ تھا؟ کیا ذولفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانے کا فیصلہ
جانبدار نہیں تھا؟
چوتھا سوال: کیا ذولفقار علی بھٹو کو سنائی جانے والی سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟
پانچواں سوال: کیا ذولفقار علی بھٹو کے خلاف دیے گئے ثبوت اور گواہان کے بیانات ان کو سزا سنانے کے لیے کافی
تھے؟