ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیرکی مفاہمت پالیسی کا انجام اور برما کی آمریت

شیئر کریں:

تحریر عامر حسینی

برما میں فوج کے سربراہ من آنگ ہیلانگ نے ایک سال کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی ہے آئین معطل کردیا گیا ہے۔ برما کے آرمی چیف کا کہنا ہے کہ برما میں (جمہوریت کی بحالی کی طویل جنگ لڑنے والی سیاسی جماعت) این ایل ڈی نے حالیہ الیکشن میں بڑے پیمانے پہ دھاندلی کی ہے۔ آنگ سان سوچی جو این ایل ڈی کی سربراہ ہیں انہیں دیگر پارٹی عہدے داروں اور منتخب پارٹی رہنماؤں کے ساتھ نظر بند کردیا گیا ہے۔ برما میں بڑے پیمانے پر فوجی گاڑیاں سڑکوں پہ گشت کررہی ہیں۔

برما کی فوج کے سربراہ من آنگ ہیلانگ نے ملک میں مارشل لاء ایسے وقت میں لگایا ہے جب قومی انتتخابات میں این ایل ڈی نے 458 نشستوں میں سے 396 نشستیں جیت لیں اور اس کی مدمقابل صدارتی نظام کی حامی جماعت محض 33 نشستیں حاصل کرپائی۔

 

سوچی فتح فوج کے لیے ڈراؤنا خواب تھا؟

 

عالمی زرایع ابلاغ سے آنے والی اطلاعات سے پتا یہ چلتا ہے کہ برمی فوج کے سربراہ کے لیے عام انتخابات میں آنگ سان سوچی کی جماعت کے لیے 386 نشستیں حاصل کرنا ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ برما میں فوجی اسٹبلشمنٹ کو عام انتخابات سے قبل اپنے خفیہ انٹیلی جنس نیٹ ورک سے یہ معلوم ہوا تھا کہ عام انتخابات میں این ایل ڈی سو کے قریب نشستیں ملیں گی اور عسکری اسٹبلشمنٹ کی حمایت یافتہ پارٹی کو تین سو تیس کے قریب نشستیں مل جائیں گی اور ایسے ملک میں صدارتی نظام لانے کی راہ آسان ہوگی اور برمی فوج کے سربراہ برما کے صدر منتخب ہوجائیں گے۔ لیکن یہ امید خاک میں مل گئی اور برما کی فوج کے سربراہ نے مارشل لاء اس وقت لگایا جب برما کی نئی منتخب پارلیمنٹ کا افتتاحی اجلاس ہونے میں چند گھنٹے باقی تھے۔ اس سے برما کی فوجی اسٹبلشمنٹ کی مایوسی سے پیدا ہونے والی فرسٹریشن کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

 

بیشتر فوجی کمرشل سرگرمیوں میں ملوث ہیں

 

برما کے حالات پر نظر رکھنے والے اچھے سے جانتے ہیں کہ برمی فوج کے حاضر جرنیل اور ریٹائرڈ افسران کس حد تک کمرشل بزنس سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور موجودہ برمی فوج کے سربراہ اپنے بیٹوں کے زریعے ایک بڑی بزنس ایمپائر چلارہے ہیں جس کے منافع اربوں میں ہیں۔ ان کو سب سے بڑا خطرہ آن سانگ سوچی کی پارٹی سے ہے جو ایک طرف تو برقی فوج کے کمرشل بزنس وینچرز کو قومیا سکتی تھی یا ان کو سویلین کارپوریٹ سرمایہ کار کمپنیوں کو بیچ سکتی تھی۔ دوسری طرف یہ حاضر اور ریٹائرڈ جرنیلوں سے ان کے اثاثوں کا حساب مانگ سکتی تھی۔

میانمار کی فوج نے مارشل لا لگا دیا، آنگ سان سوچی سمیت دیگر حکومتی عہدیدار گرفتار

آن سانگ سوچی اور ان کی پارٹی کے حامیوں نے تین عشروں کی محنت کے بعد فوجی اسٹبلشمنٹ کو مجبور کیا تھا کہ وہ ملک میں جمہوریت بحال کریں اور جمہوری آئین کا نفاذ ہوسکے۔ آن سانگ سوچی نے تیسری دنیا کے اکثر ممالک کے مقبول جمہوری سیاست دانوں کی طرح فوجی جرنیلوں کو درمیانہ راستا فراہم کیا اور انہوں نے انتقام کے راستے کی بجائے مفاہمت کو ترجیح دی لیکن یہ مصالحت کا راستا ایک بار پھر ملک کو جمہوریت سے محروم کرگیا ہے۔

بھٹو اور بے نظیر کی مفاہمت پالیسی کا انجام اور برما

 

کیا آپ کو برما میں آمریت کے اس نفاذ کے موقع پر ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی مفاہمت اور مصالحت کی پالیسیوں کا انجام نظر نہیں آتا؟

مجھے برما کی فوجی اشرافیہ کی فرسٹریشن سے پیدا ہونے والی مایوسی سے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آمریتوں کے نفاذ کے تین واقعات بطور خاص یاد آگئے۔ ایک واقعہ تو اس وقت رونما ہوا جب پاکستان کے مغربی اور مشرقی بازؤں میں طالب علموں، مزدوروں، کسانوں اور سیاسی کارکنوں کی ایجی ٹیشن نے ایوب حکومت کو بے بس کر ڈالا تھا تو اس نے اپنے ہی بنائے آئین کے مطابق اقتدار اسپیکر قومی اسمبلی کے حوالے کرنے کی بجائے اپنے آرمی چیف جنرل یحیی خان کے سپرد کردیا۔ اس طرح ایک اور مارشل لاء کا راستا ہموار کردیا۔
دوسرا واقعہ وہ تھا جب آمر یحیی خان نے اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک کی رپورٹ پر عام انتخابات ہونے دیے کہ ایک لنگڑی لولی پارلیمنٹ وجود میں آئے گی اور جب انتخابی نتائج آئے تو مغربی پاکستان میں پی پی پی، نیپ ولی خان اور جے یو آئی بازی لے گئیں۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے ایک کے سوا سب نشستیں جیت لیں۔ جنرل یحیی خان جو صدر پاکستان بننے کے خواب دیکھ رہا تھا اور صدارتی نظام چاہتا تھا تو اس نے اکثریتی پارٹی کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار کیا۔ مشرقی پاکستان پر فوجی آپریشن شروع کر دیا جس کے خلاف مشرقی پاکستان کی عوام نے بھرپور مزاحمت کی اور یوں بنگلہ دیش کے نام سے الگ ملک بن گیا۔
جنرل یحیی خان اور ان کے سینئر ساتھی افسران کی شرمناک شکست دیکھ کر پاکستان فوج کے جونئیر افسران نے ان کے خلاف بغاوت کردی اور بھٹو کی منت کرکے ان کو ملک کا صدر اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنادیا۔ جب بھٹو نے ملک کو ایک جمہوری آئین دیکر جمہوری راستے پہ ڈالا تو محض پانچ سالوں کے اندر ہی فوجی اسٹبلشمنٹ کے اندر پھر سے ایوب دور کے پاور اسٹرکچر کو بحال کرنے کی ہوس جاگ گئی۔ اس نے ایسے حالات پیدا کرڈالے کہ بھٹو صاحب مکمل طور پر فوجی اسٹبلشمنٹ کے طالع آزما افسران کے حصار میں بند ہوکر رہ گئے اور متحدہ اپوزیشن سے سیاسی میز پہ مذاکرات کرنے کی بجائے انھوں نے ریاستی مشینری کی طاقت سے معاملہ نمٹنانا چاہا جس نے فوجی اسٹبلشمنٹ کا راستا آسان کردیا لیکن بھٹو اور پی این اے کی قیادت نے باہم مذاکرات کامیاب بناکر ایک معاہدے کا ڈرافٹ تیار کیا ایک بار پھر فوجی اسٹبلشمنٹ فرسٹریشن کا شکار ہوئی۔
اس نے 5جولائی 1977ء کی رات کو شب خون مارا اور آپریشن فئیر پلے کے نام سے کارروائی کر کے ملک پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے سیاسی پروسس میں مداخلت کو انتہائی منظم انداز سے اور ترقی دی۔ پاکستان کی 76 سال کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ اب صرف اقتدار پر اپنا کنٹرول رکھنے کے لیے ہی نہیں مداخلت کرتی بلکہ اس کا سب سے بڑا سبب حاضر اور غیر حاضر سروس جرنیلوں کے ذاتی اثاثے اور پھر ان کا اس ادارے کے ذیلی کاروباری اداروں کے سرمائے پر ہر صورت کنٹرول کے لیے بھی ہے۔

 

پاکستان میں بھی صدارتی نظام کی باز گشت کیوں؟

 

ہمارے ملک میں بھی اسٹبلشمنٹ بار بار پارلیمانی جمہوری نظام کی جگہ صدارتی نظام لانے کی بات کرتی ہے۔ وہ آئین پاکستان 1973ء میں وفاقی سویلین اداروں کے ساتھ ساتھ صوبائی سویلین اداروں کو اختیارات کی زیادہ سے زیادہ منتقلی اور قدرے ڈھیلے ڈھالے مرکز کی طرف جانے والے راستے کی مخالفت کرتی آئی ہے۔ وہ اٹھارویں ترمیم کے شدید خلاف ہے۔ وہ مشترکہ اقتصادی رابطہ کونسل جیسے اداروں کی تشکیل کے سخت خلاف ہے اور ایسے ہی ہائر ايجوکیشن کمیشن کو صوبائی سطح پر منتقل ہونے کے خلاف ہے۔ اس نے ان سب سیاسی جماعتوں کو کٹ ٹو سائز کرنے اور ایک مصنوعی سیاسی جماعت تشکیل دے کر 2018ء کے انتخابات میں اسے دھاندلی کے زریعے برسراقتدار لانے کی سازش کی۔ دیکھا جائے تو آج پاکستان میں پارلیمنٹ ربڑ اسٹمپ بن چکی اور اٹھارویں ترمیم عملی طور پر معطل ہے۔ وزیر اعظم خود صدارتی نظام کی تعریف کرتا ہے۔ فوجی عہدے دار بھی صدارتی نظام کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ میڈیا کو مکمل کنٹرول کیا گیا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے اندر توڑ پھوڑ کرنے کی کوشش ہے۔
فوجی اسٹبلشمنٹ چاہتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سینٹ میں اکثریت حاصل کرکے اور اپوزیشن اراکین کو توڑ کر پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کی جائے اور آئین میں اپنے من پسند صدارتی نظام کو متعارف کرانے کا ہدف حاصل کیا جائے۔

 

کیا مفاہمانہ پالیسیاں جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ہیں؟

 

پاکستان پیپلزپارٹی نے 2008ء سے 2013ء تک پانچ سالوں میں فوجی اسٹبلشمنٹ سے براہ راست لڑائی کے راستے کو ترک کیا اور پاکستان مسلم لیگ نواز سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے مفاہمانہ رویہ اپناکر آئین کو 18ویں ترمیم کے زریعے سے ایک ایسی رکاوٹ اسٹبلشمنٹ کے راستے میں کھڑے کی کہ وہ تلملانے کے سوا کچھ نہیں کرپارہی ہے۔ اس دوران میاں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں نے جب تک “نمک” چاٹ نہ لیا تب تک انھوں نے وہ راستا نہ اختیار نہ کیا جو وہ 2008ء سے 2013ء میں اختیار کرلیتے تو ہم کب کے آمریت سے جمہوریت کی طرف سفر کے درمیانی اور عبوری فاصلے کو کب کا عبور کرچکے ہوتے اور پاکستان اس دوران بلوچ،سرائیکی،پشتون، سندھی قومی سوالوں کو حل کرچکا ہوتا اور ہمارے سامنے قومی جمہوری انقلاب کا راستا خاردار روکاوٹوں سے بھرا نہ ہوتا۔


شیئر کریں: