دہشت گردی مخالف جنگ کے ہیرو قاسم سلیمانی

شیئر کریں:


تحریر سید محمد الحسینی
تین سال قبل 3 جنوری کی صبح سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر میجرجنرل قاسم سلیمانی اپنے ساتھی ابو مہدی المہندس اور ان کے کئی ساتھیوں کے ساتھ امریکی ڈرون کے ذریعے بغداد کے ہوائی اڈے پرنشانہ بنے تھے۔ حملے کے فوراً بعد اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کی اس کارروائی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا اور اس حملے کا حکم دینے اور اس کی کمانڈ کرنے کا اعتراف کیا۔ اس رات جنرل سلیمانی کو کچھ عراقی حکام سے ملاقات اور خطے میں جاری واقعات کے بارے میں بات چیت کرنا تھی۔ اس وفد نے عراق کے وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے سرکاری دعوت پر عراق کا سفر کیا۔
جنرل سلیمانی کا قتل، نہ صرف فوج کے ایک اعلیٰ سرکاری فوجی عہدیدار کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب تھا بلکہ ایک آزاد ملک کی افواج کے خلاف دہشت گردی، بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور جارحیت تھی ۔ اس کے علاوہ، یہ ایک خطرناک چال تھی جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک کامیاب کمانڈر کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے حملے سے پیدا ہونے والے دیگر نتائج سے پورے خطے میں امن و سلامتی کو منفی طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ ایک اور نقطہ نظر میں، دہشت گردی کی یہ کارروائی عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے دو ارکان کے خلاف جارحانہ کارروائی کے مترادف تھی۔ اس سال اس بہادر ہیرو کے قتل کی تیسری برسی ہے۔ یہ صرف تین سال پہلے کی بات ہے جب جنرل سلیمانی نے باضابطہ طور پر داعش کے خاتمے کا اعلان کیا، اور ان کا یہ خواب اس وقت پورا ہوا جب، اس وقت یہ دہشت گرد گروہ مکمل طور پر کمزور اور خاتمے کے دہانے پر تھا۔
سلیمانی نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس بہادری کا مظاہرہ کیا اس نے خطے میں داعش کے خاتمے کر دیا بلکہ اس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کے پہلے سے ہی جنگ زدہ علاقہ بلکہ تمام ممالک بشمول امریکہ اور یورپ سمیت پوری دنیا کو امن و سلامتی عطا کی۔

سلیمانی نے داعش کے بحران پر ایسے حالات میں رد عمل کا اظہار کیا جب پورا خطہ پہلے ہی داعش کے اس ظالم دہشت گرد گروہ کی لپیٹ میں آ چکا تھا جس کے نتیجے میں کچھ ممالک ٹوٹنے کے قریب تھے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر سلیمانی نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف اقدام کو متحرک نہ کیا ہوتا تو خطے کا نقشہ آج مختلف ہوتا۔ اس نے ایک ایسے وقت میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی کمان سنبھالی جب داعش نے اسلامی خلافت کا اعلان کیا اور شہریوں اور فوجوں کے خلاف انسانی تاریخ کے سب سے گھناؤنے اور بے مثال جرائم کا ارتکاب کیا۔
یہاں ایک متضاد صورت حال سامنے آتی ہے جہاں مختلف حالات میں داعش اور بعض دیگر دہشت گرد گروہوں کا پیدا ہونا امریکی ہتھکنڈوں کا پتہ دیتا ہے۔ ISIS کی اصلیت کے حوالے سے انتخابی کمپین میں دوسروں کے علاوہ ٹرمپ کے اعترافات اس کی واضح مثال ہیں۔ سلیمانی دہشت گردی کے خلاف ایک معروف ہیرو تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دہشت گردی اور جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ تو معاملہ کیا ہے؟ ٹرمپ: ہم نے داعش کو بنایا۔ اس کے بعد، اسی ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر جنرل سلیمانی پر حملے کا حکم دیا تھا۔ اس کا جواب امریکہ کے دوہرے معیار کی سیاست میں مل سکتا ہے۔ جنرل سلیمانی کا قتل بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور اخلاقیات کی صریح خلاف ورزی تھی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مجرموں کو بین الاقوامی سطح پر اس کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے ۔
بہت سے قانون دان، سفارت کار، سیاست دان اور بین الاقوامی قانون کے ماہرین واضح کرتے ہیں کہ کسی ملک کے اعلیٰ فوجی عہدیدار کا غیر قانونی قتل پورے خطے اور دنیا کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا طویل تجربہ رکھنے والے قابل کمانڈروں کی عدم موجودگی کے باعث خطے میں داعش جیسے شدت پسند گروہوں کے دوبارہ سر اٹھانے کی تشویق پائی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ اس کے خلاف دہشت گردانہ حملہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی اور دوسرے ملک کی خودمختاری کے خلاف جارحیت اور ریاستی دہشت گردی کی واضح مثالوں میں سے ایک مثال سمجھی جاتی ہے جس کا ارتکاب ایک ملک دوسرے کے خلاف کرتا ہے اور اسے باضابطہ طور پر ملک کے اعلیٰ عہدے داروں اور کیمروں کے سامنے مجرم کے اعتراف کے ذریعے قبول کیا جاتا ہے۔

تین سال گزر چکے ہیں اور اب بہت سے لوگ “سلیمانی سکول آف تھاٹ” کے بارے میں بات کرتے ہیں، وہ اس وقت ایک مقبول کمانڈر تھے، اور اس وقت تاریخ سے ماورا ایک لیجنڈ شخصیت ہیں۔ اس کے حامی اس کے قتل کو اس کی کہانی کا عروج اور اس کی سرشار زندگی کا ایک ناگزیر انجام اور ہدف سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی شہادت ان لوگوں کے لیے زیادہ تباہ کن ہے جن کے خلاف وہ لڑے اور ان لوگوں کے لیے جو اس سے محبت کرتے تھے اس کی زندگی سے زیادہ متاثر کن ہے۔ ایک مخیر اور سماجی اور شہری کارکن ہونے کے ناطے خاص طور پر ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اور مختلف خطوں میں غربت، سیلاب اور زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے، وہ واقعی بہت سے لوگوں کے یہاں تک کہ ان کے ناقدین کی طرف سے بھی پسند کیے گئے۔ جنازے کی تقریبات میں لوگوں کا بے ساختہ امڈ آنا اس دعوے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ انسانوں کے لیے کام کرنے کے لیے پرعزم تھے۔
وہ نسل، مذہب، قومیت اور طرز زندگی سے بالاتر ہو کر انسانی وقار اور لوگوں کی بہتری اور فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کے لیے پرعزم تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں، وہ خواتین کی کوریج کے حوالے سے مختلف طرز زندگی کا سامنا کرنے والوں کو سختی سے مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں اور ہمارے انسانی وسائل ہیں۔
تین سال قبل اسے دوسرے ملک میں بے دردی سے اور بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ وقت اور تاریخ انسانی ذہن کی عدالت کے بہترین استاد اور بہترین گواہ ہیں۔ ایرانی حکام نے وعدہ کیا کہ اس جرم کے ذمہ داروں کو کھلا نہیں چھوڑا جائے گا اور اس غیر انسانی جرم کے مرتکب افراد اور معاونین نے کو انصاف کی منصفانہ عدالت میں لایا جائے گا۔ تاہم، اس وقت کے امریکی صدر کے اس گھناؤنے دہشت گردانہ اقدام کی سیاست دانوں، وکلا، ماہرین تعلیم اور رائے عامہ سمیت بہت سے لوگوں نے بڑے پیمانے پر مذمت کی تھی۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی سیاسی، قانونی اور بین الاقوامی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف کارروائی کرے گا اور مجرموں کے خلاف منصفانہ کارروائی کرے گا۔
گزشتہ دہائیوں کے دوران دشمنی، دہشت گردی اور شہریوں کا قتل دو عظیم اقوام ایران اور پاکستان کا مشترکہ درد رہا ہے۔ دونوں ممالک اس دکھ سے دوچار ہوئے ہیں اور کئی خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس طرح ایران اور پاکستان کیطرح کوئی بھی قوم دہشت گردی کے طاعون کو نہیں سمجھتی۔ ان دونوں مسلم ممالک کے عوام دہشت گردی کی تباہ کاریوں اور تشویش کو محسوس کرتے ہیں اور اس راہ پر قوموں کے نوجوانوں کا بہت سا پاک خون بہا ہے۔ دونوں برادر ممالک ایران اور پاکستان میں اب تک بہت سے شہداء نے اپنی زندگیاں وقف کیں اور امن و سلامتی کے مقدس مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
موجودہ خطرے کی صورت حال جو ہم دیکھ رہے ہیں، اور اس تباہ کن امکان کے ساتھ جو خطے میں بڑے پیمانے پر پھیل رہا ہے، عالم اسلام کو ایک متفقہ طرز عمل کے ساتھ قدم اٹھانا چاہیے اور اپنی غلط فہمیوں کو ایک طرف رکھ کر، جن میں زیادہ تر غیر ملکیوں کی طرف سے پھیلائیں ہوئی ہے، امن اور سلامتی کو برقرار رکھنا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اس خطے سے مقامی امن اور سلامتی کا آغاز کیا جائے۔
(آرٹیکل کے مصنف پاکستان میں‌ایران کے سفیر ہیں)


شیئر کریں: