دور کورونا کے بعد گلوبل ویلیج کا مستقبل کیا ہوگا؟

شیئر کریں:

تحریر عمید اظہر
کورونا وائرس نے معاشرتی رویوں کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔
دوست ملک چین نے پاکستان پر کورونا وائرس کی وجہ سے سفری پابندیاں عائد کر دیں۔

چین پاکستانی شہریوں پر کیوں پابندیاں عائد کی؟

ایسے پاکستانی یا چینی شہری جو پاکستان سے چین کا سفر کرنا چاہتے ہیں انہیں کورونا کا خاص ٹیسٹ کروانا ہوگا۔
چین سفر سے پہلے نیو لیک ایسڈ ٹیسٹ میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کی تشخیص کی جائے گی۔
چینی حکومت نے کہا ہے کہ نیولیگ ایسڈ ٹیسٹ چین جانے سے 120 گھنٹے پہلے کروانا لازمی ہو گا۔
ماہرین کا کہنا ہے چین کی طرف ٹیسٹ کا مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بیجنگ میں بیرون ممالک سے
آنے والے شہریوں کی وجہ سے کورونا وائرس پھیلا۔

چین جانے والے پاکستانی مسافروں پر کورونا ٹیسٹ کی شرط عائد

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس نے سماجی و معاشرتی رویوں کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔
وائرس کی ابتدا سے ہی دنیا نے سفری پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

گلوبل ویلج کے نظریے کو کورونا وائرس نے اپنی دہشت سے روند کر رکھ دیا ہے۔
چین میں وائرس کی تشخیص ہوئی تو سب سے پہلے امریکا نے چین پر سفری پابندیاں عائد کیں۔

امریکا کو اس بات کی کہاں خبر تھی چین کے بعد کورونا کی زنجیر پوری دنیا کو اپنی جکڑ میں لے لے گی۔

افریقی غریب ممالک نے یورپ پر کیوں سفری پابندیاں عائد کی؟

یورپ میں کورونا سے اموات کا سلسلہ شروع ہوا تو افریقا کے کئی ممالک نے یورپ پر پابندیاں عائد کردیں۔

شاید مغربی ممالک نے خواب میں بھی نہ سوچا ہو گا کہ کبھی تسری دنیا کے ممالک انہیں ویزہ
دینے سے انکار کریں گے۔
کورونا وائرس سے جب یورپ میں تباہی بلندیوں کو چھو رہی تھی تب تقریبا پوری دنیا بند ہوگئی تھی۔
ہر ملک نے کورونا کے خوف سے اپنی سرحدیں بند کردیں۔

سائنس دانوں نے جب راز افشاں کیا کہ لمبا عرصہ کورونا کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا تو کئی ممالک نے سرحدیں کھولنا شروع کردیں۔
یورپ گرمیوں کا سیاحتی موسم ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا اس لیے یورپ نے دیگر
یورپی ممالک کے لیے دروازے کھول دیے۔

یورپ میں سویڈن ایسا ملک تھا جس نے کورونا کو کنٹرول کے لیے توجہ نہ دی۔

آج دیگر یورپی ملک آپس میں بارڈر کھولنے کا سوچ رہے ہیں لیکن سویڈن کی تشویش ناک
صورت حال کے باعث اس پر پابندیاں برقرار رکھی جائیں گی۔

ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ مستقبل قریب میں وہ ممالک آپس میں بارڈر کھول دیں گے
جو کورونا پر کامیابی سے قابو پالیں گے۔

جن ممالک میں کورونا موجود رہے گا انہیں بدستور سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔
ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں کورونا وائرس کا جلدی خاتمہ ناممکن ہے۔
زیادہ آبادی کی وجہ سے ان ممالک کو لمبا عرصہ کورونا وائرس سے لڑنا پڑے گا۔
امکان ہے کہ وائرس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے ممالک دنیا بھر سے کٹ کر رہ جائیں گے۔
صرف کورونا ہی نہیں اس سے پہلے ٹی بی، پولیو اور ہیپیٹائٹس کی وجہ سے پاکستانی
شہریوں کو پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔

بیرون ممالک سفر کے خواہش مند شہریوں کو کئی ٹیسٹ کروا کر ویزہ ملتا ہے۔
کورونا وائرس کے بعد سماجی فاصلوں کا جلد سمٹنا ناممکن ہے۔
بین الاقومی پابندیوں کے علاوہ شہریوں کو اپنے ملکوں میں بھی پابندیوں کا سامنا رہے گا۔
کئی اداروں نے پہلے ہی اپنے شہریوں کو تاعمر گھر سے کام کرنے کی اجازت دے ہے
جن میں سماجی رابطوں کی ایپ ٹویٹر سرفہرست ہے۔

اسی طرح پارکوں، ورزش کے جم، کھیلوں کے میدان اور دیگر عوامی مقامات پر سماجی فاصلوں کو اس وقت
تک برقرار رکھنا ہوگا جب تک کورونا وائرس کی ویکسین ایجاد نہِیں ہو جاتی۔
ویکیسین کی ایجاد ایک لمبا مرحلہ میں جس میں بیس سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
اگر قسمت اچھی ہوئی تو رواں سال کے آخر میں ویکیسن بن سکتی ہے لیکن جب تک ویکیسن بن کر دنیا
کے ہر شخص کو لگ نہیں جاتی تب تک سماجی فاصلے کسی نہ کسی ہماری زندگی کا اہم حصہ رہیں گے۔


شیئر کریں: