دلہا دلہن گاڑی کے بجائے کڑھائی میں مندر کیوں‌ پہنچے؟

شیئر کریں:

خوشی و غم زندگی کا حصہ ہیں۔ انسانی کی زندگی کے ساتھ ان دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انسان دنیا
میں آتے اور اپنا مقررہ وقت پورا کر کے دوسرے جہان چلے جاتے ہیں۔ ایک گھر میں موت اور دوسرے گھر
میں خوشی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ بھارت کی ریاست کیرلا میں پیش آیا جہاں بارش اور سیلاب نے تباہی مچادی ہے۔ گلی
محلے اور سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ ایسے میں زندگی تو نہیں روکی جاسکتی اور معمولات کو
بھی آگے بڑھانا ہے۔

عموما دیکھنے میں آیا ہے بعض افراد ناگہانی آفات کے دوران اپنی خوشیاں آگے بڑھا دیتے ہیں تاکہ خاندان اور
دوستوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کیا جائے لیکن کیرلا میں شادی کے لیے مندر تک پہنچنے میں دلہا
اور دلہن نے انوکھا طریقہ اختیار کیا۔

شادی کے لیے بہترین گاڑیاں یا بگی کرائے پر لی جاتی ہیں لیکن اس نئے جوڑے میں کھانا پکانے کی بڑی
سی کڑھائی کرائے پر لے کر سب کو حیران کر دیا۔ کڑھائی میں بیٹھ کر مندر تک جانے کا فیصلہ اس لیے
کیا کہ اطراف میں گھٹنوں سے بھی اوپر تک پانی تھا جہاں گاڑی نہیں جاسکتی تھی۔ اسی لیے دلہن
نے مندر سے ایک بہت بڑی دیگ کرائے پر حاصل کی اور پھر اسے دھکا دینے کے لیے دو افراد کی
خدمات لی گئیں تاکہ پانی میں کپڑے خراب کیے بغیر مندر پہنچ کر رسومات اطمینان سے انجام دی جاسکیں۔

اس طرح دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ کیرلا میں شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے 30
افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ 2018 میں بھی سیلاب سے 500 افراد ہوئے تھے۔


شیئر کریں: