دبئی کا مسلمانوں کی پشت میں پھر خنجر،مقبوضہ کشمیر میں سرمایہ کاری کا بھارت سے معاہدہ

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا

مقبوضہ جموں کشمیر اور لداخ پر غیرقانونی قبضہ کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دینے والے متحدہ عرب امارات
نے مقبوضہ وادی میں سرمایہ کاری کا معاہدہ کر لیا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں کسی بھی ملک کی جانب سے سرمایہ کاری کا یہ پہلا معاہدہ ہے۔ نئی دلی اور دبئی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر پیر کو دستخط کیے گئے تاہم اس مرحلے پر یہ ظاہر نہیں گیا کہ کتنے بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
بھارتی حکومت کی خواہش ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں بلڈنگ انفراسٹرکچر، صنعتی پارکس، آئی ٹی ٹاور، کثیر الجہتی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے والے بلند ٹاورز، لاجسٹک سینٹرز، میڈیکل کالج اور خصوصی اسپتال میں دبئی سرمایہ کاری کرے۔
یونین منسٹر پیوش گویال نے دعوی کیا ہے کہ دبئی کی متعدد کمپنیوں نے جموں کشمیر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس طرح کشمیریوں کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کرنے کی حمایت اور پھر ان مقبوضہ علاقوں میں سرمایہ کاری کرنے والا متحدہ عرب امارات پہلا ملک بن گیا۔
یو اے ای کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں سرمایہ کاری کا اس وقت اعلان کیا گیا ہے جب بھارتی قابض فوج معصوم کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع پونچھ میں نویں دن بھی بھارتی فوج کا نام نہاد آپریشن جاری ہے۔
آپریشن کے نام پر ہندتوا نواز بھارتی فوج نصف درجن سے زائد کشمیری نوجوانوں کو شہید کرچکی ہے۔ 9 روز میں بھارتی حکومت نے چوبیس سے زائد کشمیری سیاسی رہنماوں کو جیل میں قید کردیا ہے۔
بھارتی ظلم کے خلاف کشمیری عوام بھی ڈٹ گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملوں میں رواں ہفتے پانچ بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔ وادی میں اس وقت خوف کی فضا ہے۔

5 اگست 2019 کو یو اے ای کا موقف

نئی دلی میں متحدہ عرب امارات کے سفیر ڈاکٹر احمد البنان نے صورت حال کا جائزہ لیے بغیر 5 اگست 2019 کو ہی آرٹیکل 370 کے خاتمہ کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے دیا تھا۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک میں ریاستوں یا علاقوں کی تنظیم نو کرنا کوئی غیرمعمولی واقعہ نہیں، اور یہاں تنظیم نو کا مقصد لوگوں میں پائی جانے والی بے چینی، عدم مساوات کا فرق ختم کرنا اور کام کے طریقہ کار کو بہتر بنانا ہے۔ سفیر نے اس وقت ہی اس امید کا اظہار کردیا تھا کہ مودی کے فیصلے سے جموں و کشمیراور لداخ کے عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی صورت حال میں بہتری آئے گی۔
مقبوضہ جموں کشمیر اور لداخ میں بڑی پیش رفت کے وقت میں امریکا میں موجود تھا اور اس بیان کا جائزہ لے کر میں نے اپنے خدشات کا اظہار کر دیا تھا۔ کیونکہ کسی اور ملک کا بھارتی حکومت کے اس انتہائی اقدام پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا لیکن متحدہ عرب امارات نے آرٹیکل 370 کے خاتمہ کو بھارت کا مکمل طور پر اندرونی معاملہ قرار دے کر ناصرف کشمیریوں بلکہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا۔
میں نے ان خدشات کا بھی اظہار کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے سفیر کا بھارتی حکومت کے فیصلے کی مکمل حمایت سے لگتا یہی ہے کہ مستقبل میں وہ مقبوضہ جموں کشمیر میں سرمایہ کاری اور سیاحتی تفریح کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی لیے تو کہا گیا تھاکہ اس فیصلے سے کشمیریوں کی زندگی میں معاشی اعتبار سے بہتر بدلاؤ آئے گا۔
دو سال سے زائد عرصہ گزر گیا زندگی بہتر ہونے کے بجائے مزید تلخ ہو چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ آرٹیکل 370 کے بعد حق تلفی میں اضافہ ہو چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے کردار پر مزید بات سے پہلے آرٹیکل 370 کو چند لائنوں کے ذریعے سمجھ لیا جائے۔

آرٹیکل 370 کیا ہے؟

5 اگست 2019 کو جب جموں و کشمیر کے شہریوں کو آئین کی شق 370 کے تحت حاصل خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی تھی۔ مودی حکومت کے اس انتہائی اہمیت کے حامل فیصلے سے ریاست جموں و کشمیرکو خود مختاری کا درجہ دینے کا راستہ ہی بند کردیا گیا۔ لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے وفاق کے زیر انتظام یونین ٹیریٹری بنادیا گیا۔ جموں و کشمیر کو بھی علیحدہ یونین ٹیریٹری بنایا گیا لیکن لداخ کے برعکس یہاں کنٹرولڈ اسمبلی رکھی گئی ہے۔
بھارتی آئین کی دفعہ 370 کے تحت سیکیورٹی اور خارجہ چھوڑ کر دیگر امور ریاست کے پاس تھے۔ اب ریاستی عوام وزیر اعلٰی کا انتخاب تو کرسکتے ہیں لیکن اختیارات گورنر کے پاس ہیں۔ گورنر کو بھارتی صدر نے نامزد کیا ہے۔ بھارت کے نو صوبے یونین ٹیریٹری کے تحت چلائے جارہے ہیں۔
انڈین آئین کا آرٹیکل 370 ریاست جموں و کشمیر کو انڈیا کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں خصوصی حیثیت دیتا ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت اور داخلی خود مختاری حاصل تھی۔
آرٹیکل 35 اے کو 1954 میں صدارتی حکم نامے کے ذریعے شامل کیا گیا۔ آرٹیکل کے تحت کشمیری خاتون ریاست سے باہر شادی کرنے پر کشمیر میں جائیداد کا حق کھو بیٹھتی ہے۔ ریاست سے باہر کا کوئی بھی شہری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا، مستقل رہائش نہیں رکھ سکتا اور ریاستی وظائف بھی حاصل نہیں کر سکتا۔
اسی طرح مقبوضہ علاقہ میں باہر کے لوگ ملازمت بھی حاصل نہیں کرسکتے لیکن اب مودی حکومت نے ہزاروں کی تعداد میں بھارتی شہریوں کو یہاں آباد کر دیا ہے۔ نئی دلی کے بنیے صنعتیں لگا رہے ہیں۔ کشمیریوں سے زمینیں چھینی جارہی ہیں۔ آئے روز جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوان شہید کیے جارہے ہیں اور متحدہ عرب امارات سمیت سب ہی خاموش بیٹھے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے کبھی بھی مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم اور بھارت میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ نریندرا مودی کی حکومت ہندوتوا نظریہ کی بنیاد پر معارض وجود میں آئی اور اسی انتہاپسندانہ نظریہ کے تحت کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کو کمزور کرنے کے ایجنڈہ پر عمل کیا جارہا ہے۔
مسلمانوں کی مدد اور ان کی حمایت میں بیان تو کجا بلکہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کے مقابلے میں بھارتی شہریوں کو بہتر سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ پاکستانیوں کو کبھی مسلک کی بنیاد پر بے دخل کر دیا جاتا تو کبھی کاروباری اور روزمرہ کے معاملات میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات نے بھارت میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات اور بھارت کے تعلقات میں مزید گرمجوشی دیکھنے میں آرہی ہے۔
بھارت کے 35 لاکھ کے قریب شہری متحدہ عرب امارات میں ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تارکین وطن سب سے بڑی تعداد ایک 80 لاکھ سے زائد بھارت کے شہریوں کی ہے۔ ان میں سے بیشتر متحدہ عرب امارات،امریکا اور سعودی عرب میں ہیںَ۔ متحدہ عرب امرات کی ایک کروڑ آبادی میں پاکستانیوں کا حصہ بھارت سے انتہائی کم یعنی 13 لاکھ کے قریب ہے۔ اس سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کی سرد مہری واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔

یواے ای بھارت تعلقات میں گرمجوشی کب آئی؟

2014 میں ہندتوا نظریہ کے تحت نریندرا مودی جب بھارت کے وزیراعظم بنے تو انہوں نے ایک طرف اپنے ملک اور مقبوضہ وادی میں مسلمانوں پر مظالم میں اضافہ کیا تو دوسری جانب عرب ممالک سے تعلقات میں گومجوشی کا سلسلہ شروع کیا۔ اگلے ہی سال مودی نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور مختلف شعبوں میں معاہدے کر ڈالے۔ یو اے ای اس وقت بھارت کا ایک بڑا تجارتی پارٹنر بن چکا ہے اور بھارت کی معیشت پانچ ٹریلین ڈالر پر کھڑی کرنے میں متحدہ عرب امارات ایف ڈی آئی یعنی براہ راست غیرملکی سرمایہ کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ یو ای اے بھارت میں اب تک 9 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ اربوں ڈالرز کے درجنوں منصوبے اس کے علاوہ ہیں۔

انسانیت پر تجارت کو ترجیح

متحدہ عرب امارات کا اصل چہرہ یہی ہے کہ اس نے مظلوموں کی حمایت اور ظالم کی مخالفت کے بجائے
معیشت کو ترجیح دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت کے یک طرفہ اور غیرآئینی اور غیرقانونی
اقدام کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا اور اب سرمایہ کاری کا معاہدہ کر کے بھارتی موقف کی توثیق
کر دی ہے۔
یواےای کی طرف سے مسلمانوں کا خون بیچنا کوئی نئی بات نہیں۔ یہ وہی یواے ای ہے جس نے فلسطینیوں کا خون نظرانداز کر کے اسرائیل کے ساتھ تجارت، فٹبال اور باہمی روابط کو ترجیح دی تھی۔ اسرائیل کے بعد اب مقبوضہ جموں کشمیر میں سرمایہ کاری کا بھارتی حکومت سے معاہدہ کر کے ثابت کر دیا کہ ان کا دین ایمان اور سب کچھ صرف اور صرف مایا ہے۔
اسی لیے متحدہ عرب امارات نے دنیا بھر سے صرف تجارتی اور اپنے مفاد کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنا شروع کردیئے ہیں۔ عرب حکمرانوں کے نزدیک معصوم مسلمانوں کے خون سے زیادہ اپنی تجارت اور معیشت کی اہمیت ہے۔ اس لیے مستقبل قریب میں یو اے ای ایسے کئی متنازع اقدام کرسکتا ہے جس کا نقصان پہلے سے ظلم کی چکی میں پس رہے فلسطینیوں اور کشمیریوں کا ہوگا۔ ایسے میں پاکستان کو بھی اپنے پرائے کی تمیز کرتے ہوئے درست سمت میں پالیسی مرتب کرنی ہوگی۔


شیئر کریں: