داستان کربلا ڈیرہ اسماعیل خان

شیئر کریں:

تحریر و تحقیق سید توقیر ذیدی

آج سے 14 سال قبل 19 اگست 2008 کا دن نہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان بلکہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان میں میرے خاندان پر ہونے والے خودکش بلاسٹ کو آج کو پورے 14 برس بیت گئے۔

اس خودکش بلاسٹ میں 35 افراد شہید اور 74 ذخمی ہوئے تھے۔ بلاسٹ میں صرف میری فیملی کے 21 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے

پاکستان کی تاریخ میں اگر کسی بھی فیملی کو خودکش دھماکے میں ٹارگٹ کیا گیا ہے تو وہ میری فیملی ہے۔ 19 اگست 2008 کو جب تربیت یافتہ پالتو دشت گردوں نے بمیرے کزن سید باسط علی زیدی جو کہ یوٹیلٹی سٹور محلہ حیات اللہ میں بطور سٹور مینجر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا کہ دوران ڈیوٹی پالتو تربیت یافتہ دشت گردوں فائرنگ کرکے اسے شہید کر دیا۔ واقعہ کا مقدمہ تھانہ سٹی میں نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر نمبر 401 زیر دفعہ 302/34 PPC /7ATA درج کیا گیا

FIR No: 401 Dated 19.8.08 u/s 302/34 PPC /7ATA PS City

باسط کی شہادت کی خبر جب چاہ سید منور شاہ میرے خاندان والوں کو ملی تو ہر کوئی اپنے پیارے بھائی باسط زیدی کے لئے کوئی یوٹیلٹی سٹور کی طرف بھاگا تو کوئی ہسپتال بھاگا۔ باسط زیدی شہید کی میت ہسپتال پہنچایا گیا۔ سب رشتہ دار اور ڈیرہ سٹی کے مومینن، یار دوست فورا ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچے

کسی کو کچھ خبر نہ تھی کہ پالتو تربیت یافتہ دشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں نے چند منٹ بعد ہسپتال میں قیامت برپا کر دینی ہے۔

ابھی باسط زیدی شہید کی میت فیملی والوں نے وصول کی اور ایمرجنسی سے باہر نکل کر برآمدے میں پہنچے ہی تھے کہ وہی خودکش بلاسٹ کیا گیا جس میں 35 افراد شہید جبکہ 74 افراد زخمی ہوئے۔ 35 شہید ہونے والوں میں 21 شہداء میرے فیملی ممبرز تھے جب کہ زخمیوں میں بھی زیادہ تر میرے فیملی ممبرز تھے۔

خودکش دھماکے کا مقدمہ تمام سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی کے خلاف تھانہ کینٹ میں ایف آئی آر نمبر 450 زیر دفعات
302/324/109/120-B /148/149/ 3/4 Exp: Sub Act: /7 ATA
کے تحت درج کیا گیا

FIR No: 450 Dated 19.8.08 u/s 302/324/109/120-B /148/149/ 3/4 Exp: Sub Act: /7 ATA PS Cantt

بلاسٹ میں شدید زخمیوں میں ایک کزن سید جہانگیر عباس دونوں ٹانگوں، ایک کزن عنصر عباس بخاری دونوں بازوں سے اور میرے والد محترم سید شرف حسین ایک ٹانگ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہو گئے تھے

مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے کیونکہ اس دن بلکہ کہیں دنوں تک ڈیرہ اسماعیل خان شہر قیامت کا سماع پیش کر رہا تھا۔ اور ہمارا صبر دیکھیں کہ اتنی لاشیں، کئی زخمی، شہر میں کرفیو، عوام میں شدید خوف و ہراس مگر حرام ہے جو شہر کا امن خراب ہوا ہو یا کسی کا ایک روپے کا نقصان ہوا ہوں۔ یا کسی پر ہمارے خاندان نے انگلی اُٹھائی ہے

ہاں ہم کل بھی کہتے تھے اور آج بھی کہتے ہیں اور آئندہ بھی کہتے رہیں گے کہ پُرامن ڈیرہ اسماعیل خان “ڈیرہ پُھلا دا سہرا” کو اُجارنے والی قوتوں کو کسی نہ کسی کی مکمل پشت پنائی ضرور حاصل تھی جن کی بدولت باسط زیدی کو شہید کر کے خودکش بلاسٹ کی پلاننگ کی گئی۔

ڈیرہ اسماعیل خان کا امن برباد کرنے والے دشت گردوں باقاعدہ پال پوس کر گھر کے کتے کی طرح تربیت دی گئی ہے۔

اللہ تعالی پُرامن ڈیرہ “ڈیرہ پُھلا دا سہرا” کو اُجارنے والی قوتوں، سہولت کاروں اور پالتو دشت گردوں کو نست وبابوت کرے دنیا اور آخرت میں زلیل و خوار کرے اور اللہ تعالی بحق محمدﷺ و آلؑ محمدﷺ کے سب شہدا کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے۔ امین


شیئر کریں: