خواتین دودھ سے دہی، مکھن اور لسی کیسے الگ کرتی ہیں؟

شیئر کریں:

گاؤں کی حسین صبح کا آغاز پرندوں کی مدھر آواز سے ہوتا ہے۔
صبح سویرے سب اپنے کاموں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔


خواتین دودھ میں مدھانی ڈال کر مکھن نکالنے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔
دیہات میں آج بھی دودھ سے دہی مکھن اور لسی الگ کرنے کے لئے روائتی طریقوں سے کام لیا جاتا ہے۔
سگھڑ خواتین خود ہی گائے یا بھینس کا دودھ نکالتی ہیں۔

دودھ نکالنے کے بعد اسے اپلوں یہ لکڑی کی ہلکی آنچ پر صبح سے دوپہر تک پکایا جاتا ہے۔
رات کو دودھ میں لسی یا دہی شامل کر کے اسے جاگ لگایا جاتا ہے۔
صبح سویرے دودھ دہی میں تبدیل ہوجاتا اور مکھن نکالنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔
دہی میں سے مکھن اور لسی الگ کرنے کے لیے چاٹی میں رنگین مدھانی استعمال کی جاتی ہے۔
چاٹی میں موجود دہی کو اچھی طرح پھینٹا جاتا ہے۔

مکھن بنانے کے دوران تھوڑی تھوڑی دیر بعد چاٹی سے مدھانی ہٹا کر اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے
کہ دہی سے مکھن اور لسی الگ ہوگئے ہیں۔

چاٹی سے مکھن اکھٹا کرنے کے لئے گرمیوں میں ٹھنڈا پانی اور سردیوں میں گرم پانی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
لوجی” مکھن تو بن گیا اب مکھن کیسے نکالنا ہے؟
بڑی مہارت سے دونوں ہاتھوں سے مکھن کے پیڑے بنائے جاتے ہیں۔
اب لسی کو باریک کپڑے میں چھان کر بالائی الگ سے نکال لی جاتی ہے۔ جسے بچے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔

تازہ مکھن اور لسی ناشتے کا اہم جزو ہیں اسی لیے مکھن بنانے کا کام صبح سویرے کیا جاتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گاوں میں بھی لسی اور مکھن بنانے کا کام کم ہوگیا ہے۔
لیکن اب بھی ایسے گاوں موجود ہیں جہاں دودھ بیچنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
لسی میں مکھن کا پیڑا ڈال کر غریب افراد کے گھروں میں دیا جاتا ہے
تاکہ گاوں کا ہر فرد تازہ اور غذائیت سے بھرپور مکھن کھا سکے۔
گاوں کے لوگ اسی وجہ سے تندرست و توانا رہتے ہیں کیوں کہ وہ تازہ اور غذائیت سے بھرپور خوراک کھاتے ہیں


شیئر کریں: