خدا کے واسطے کورونا سے ڈر جائیں

شیئر کریں:

تحریر ہارون رشید بور

دنیا بھر کی روایت ہے کہ قومیں، جنگوں بحرانوں اور دباؤ کے دوران اتحاد پیدا کرلیتی ہیں۔
سب لوگ سیاسی سماجی اور مذہبی اختلاف کو بھلا کر سب حکومت وقت کا ساتھ دیتے ہیں۔
ماضی میں پاکستان پر جب بھی آزمائش کا وقت آیا قوم اسی طرح متحد ہو گئی۔
کورونا بحران کے موقع پر توقع تھی کہ سیاسی لیڈر شپ میں تعاون کی فضا قائم ہو گی تو سماجی اور عوامی سطح پر بھی لوگ آپس میں جڑنا شروع ہو جائیں گے مگر لیڈر شپ کے انتشار کے بعد سیاسی اور عوامی خلیج بہت بڑھ گئی ہے۔
قومی اسمبلی اور سینٹ کا کورونا سے نمٹنے کیلئے پالیسی بنانے کیلئے بلاہا گئے اجلاس کا دوسرا دن تھا۔
سیاسی قائدین ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہے پاکستان میں مریضوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ دل دہلائے دیتا ہے۔
سیاستدان جانے کس مٹی کے بنے ہیں کہ میتوں پر بھی سیاست کر رہے ہیں۔
کرونا وائرس رکنے میں نہیں آرہا روز بروز مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ اموات کم ہیں اللہ اپنا کرم کرے، ہزاروں کی اسکیننگ کی جا رہی ہے۔
تعداد میں کمی نہیں آرہی، کرونا پھیل رہا ہے کرونا پھیل گیا ہے۔
کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اور میڈیکل استاف سہولیات نہ ملنے کا رونا رو رہا ہے۔
کورونا کے خلاف لڑنے والا طبی عملہ کورونا کا شکار ہو رہا ہے ،کچھ جان سے گئے اور کچھ جان ہتھیلی پر رکھ کر کورونا کے مریضوں کی جان بچانے کی کوشش کرر ہے ہیں۔
حکومت کی واحد پالیسی نظر آرہی ہے کہ کرونا وائرس نے دل پر حملہ کیا ہوگا، دل نا تواں ہار گیا۔ اللہ کی مرضی، تحقیقات سے کیا ہوگا، ساری تحقیقات آگے جا کر ہوں گی۔
مریض وینٹی لیٹر کے لیے چیختا رہا اور ہمیشہ کے لیے چپ ہوگیا۔
مسیحا قوم کے محسن، سب کو مودبانہ سلام بلکہ سلوٹ، موت کا سارا ملبہ سابق حکومتوں پر ڈال ڈالا جارہا ہے۔
اسپتالوں کے انتظامات بہتر کیوں نہ بنائے، حکومت کے ذہن پر کرونا نہیں اپوزیشن چمٹی ہوئی ہے۔
انسانیت مشکل میں ہے اور سیاستدان سیاست سیاست کھیل رہے ہیں۔
وزیر اعظم کو اپوزیشن لیڈر کی شکل دیکھنا گوارا نہیں، کرونا عوام کا رونا بن گیا ہے۔
سچ پوچھیے تو کرونا وائرس ہمارا مذاق اڑاتے ہوئے اپنے پاؤں پھیلا رہا ہے کہ عجیب قوم ہے جو مجھے بھگانے کے لیے بھی متحد نہیں ہو پائی۔
ایوان بالا اور ایوان زیریں کے کورونا سے نمٹنے کے لئے بلایا گیا اجلاس سیاسی اکھاڑا بن چکے ہیں۔
قوم کے لیڈر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے شوق میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
حکومت کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ وزیر اعظم نے وزارت صحت کا قلمدان اپنے پاس رکھا ہے اور اتنے اہم موضوع پر ایک دن بھی ایوان میں دیدار نہ کروایا۔
خود تو کیا آنا تھامعاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مراز کو بھی نہ بھیجا۔
اس پر ن لیگ کے شعلہ بیان رہنما مشاہد اللہ بولے حکومت اور پارلیمنٹ کا کورونا میں کیا کام ؟
وزیر اعظم کی غیر حاضری نے نے انکی غیر ذمہ داری پر مہر لگا دی ہے۔
وزیر اعظم ایک اعلان کرتے ہیں تو انکے وزرا اس بیان کے بر عکس اقدامات شروع کردیتے ہیں۔
احساس پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے بولے اب تو احسن اقبال کو بھی احساس پروگرام سے رقم ملنے کی خوشخبری کا پیغام مل گیا ہے،
اس پر وفاقی وزیر اطلاعات بولے اپوزیشن بتائے اس نے کورونا کے متعلق کیا پلان تیار کیا ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اپوزیشن نے خود بلایا لیکن ان کا لیڈر ہی اس میں شریک نہیں۔
آپ عمران خان کو نہیں مانتے نہ مانیں لیکن اسکو کام تو کرنے دیں ، سوال پوچھو تو کہتے ہیں انتقامی کارروائی ہو رہی ہے۔
ایسے میں عوام کی اپنے لیڈروں سے درخواست ہے کہ خدا کے لیے احتیاط کی عادت ڈالیں، دلوں سے کورونا کا خوف ختم نہ کریں، اگر یہ خوف ختم ہو گیا تو لوگ بہت تیزی سے کورونا کا شکار ہونا شروع ہو جائیں گے۔
باہمی نفرت دشمنی اور بلیم گیم کو بند کریں اور کورونا سے نجات کیلئے کسی ایک پوائنٹ پر اکٹھے ہوجائیں۔
پوری دنیا میں تباہی پھیلانے والا وائرس ہمارے پاس پاؤں پسارے بیٹھا ہے۔
موجودہ حالات میں معممولی سی غفلت سے یہ بے قابو ہو سکتا ہے۔
تقریریں بہت کر لیں مشکل کی اس گھڑی میں اکٹھے ہو جائیں۔
عوام کیلئے کورونا سے بچاؤ کی کوئی پالیسی اور حکمت عملی بنا لیں کہیں دیر نہ ہوجائے۔


شیئر کریں: