March 26, 2020 at 12:28 pm

(خانیوال سے امین وارثی)
ضلع خانیوال میں مزدورطبقے کی لسٹیں بنانے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
دیہی علاقوں میں پٹواری، نمبردار، اسکول ہیڈ ماسٹر اور یونین کونسل سیکریٹری پر مشتمل چار رکنی کمیٹی لسٹیں تیارکر رہی ہے۔
علاقہ نمبرداروں کے پاس عوام کا رش لگنے لگا ہے۔
کورونا سے بچاؤ کیلئے حکومت کی “گھر رہو محفوظ رہو “پالیسی نظر انداز کرتے ہوئے امدادی پیکج کیلئے بیوہ عورتوں کا نام نہیں لکھا جا رہا۔

گزشتہ روز ضلع بھر کے دیہاتوں میں پٹواری، نمبردار، سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور یونین کونسل سیکریٹری پر مشتمل چار رکنی کمیٹیوں نے اپنے اپنے علاقے میں اجلاس بلائے۔
جس میں دیہاڑی دار مزدور طبقے کی لسٹیں تیار کرنے کا اعلان کیا گیا۔
اس کے بعد جیسے لوگوں کو پتہ چلا کہ امدادی پیکیج کیلئے نام لکھوائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کمیٹی ارکان سے رابطے شروع کر دئیے سردارپور گاؤں میں اہل علاقہ درجنوں کی تعداد میں نمبردار نذر عباس کے گھر کے آگے جمع ہو گئے۔


جس سے کورونا وائرس کے حوالے سے گھر رہو محفوظ رہو والی حکومتی پالیسی کی دھجیاں اڑتی نظر آئیں۔
اس موقع پر اپنے شناختی کارڈ ہاتھوں میں لسٹ میں نام شامل کرانے کیلئے ایک دوسرے پر گر رہے تھے اور بے ہنگم رش ہو گیا تھا۔
بیوہ عورتوں کو کہا گیا کہ ان کے نام لسٹ میں شامل کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے جس پر انہوں نے احتجاج کیا۔
ڈپٹی کمشنر خانیوال کے دفتر سے دیہات کی سطح پر چار رکنی کمیٹی کا جو سرکاری لیٹر جاری ہوا ہے۔
اس کے ٹی او آرز میں لکھا ہوا ہے کہ گھر رہو محفوظ رہو، سوشل ڈسٹینس رکھو لیکن عملی طور پر صورت حال بالکل اس کے برعکس نظر آئی لوگ امدادی پیکج میں اپنا نام لکھوانے کیلئے جوق درجوق علاقہ نمبر دار پٹواری یونین کونسل سیکریٹری کے پاس جا رہے ہیں۔
دیکھا جا رہا ہے کہ کھاتے پیتے لوگ بھی اپنا نام امدادی پیکج والی لسٹ میں اپنا نام شامل کرانے کیلئے بے تاب ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ جو لسٹیں بنائی جا رہی ہیں ان کی سیکیورٹی ہو گی جو دیہاڑی دار مزدور طبقے کے میرٹ پر آئے گا صرف اسے امداد ملے گی۔

Facebook Comments