خانہ کعبہ سے مسجد کوفہ تک کا سفر

شیئر کریں:

تحریر مظاہر سعید
اکیس رمضان یوم شہادت شیر خدا،امیر المومنین حضرت علیؑ ابن ابیطالب ہے،دامادِ رسولؐ، فاتح خبیر،
حامل ذوالفقار، امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ کے فضائل ومناقب محاسن ومحامد بے شمار ہیں
اورکیوں نہ ہوں جبکہ فضائل وکمالات برکات وحسنات کا مخزن ومعدن آپ ہی کا گھرانہ ہے۔

21رمضان تاریخ اسلام میں انسانیت کے اس عظیم انسان کا روز شہادت ہے، جس کو اس کی حق پسندی وعدالت
کے سبب 40ہجری میں محراب مسجد کو فہ میں دوران نماز فجراپنے وقت کی دہشت گرد اسلام دشمن طاقتوں
کے ہاتھوں زہرآلود تلوار سے شہیدکردیاجاتا ہے۔

مسجد کوفہ میں شہادت سے ہم آغوش ہونے والے اس انسان کامل کو زمانہ علی مرتضیٰؑ شیر خدا کے نام سے جانتا ہے۔
راہ خدا میں شہادت جیسی نعمت عاشقانہ خدا کی معراج ہوا کرتی ہے،
یہی سبب ہے کہ ضربت شہادت سے دوچار ہونے کے بعد ہمیشہ شہادت کی آرزو رکھنے والے دین اسلام کے
اس عظیم مجاہد کے منھ سے جو تاریخی جملے نکلے تھے وہ یہی تھے کہ’’ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا
علمائے کرام کہتے ہیں کہ مولاعلی علیہ سلام نے وصیت کرتے ہوئے امام حسن او امام حسین علیہ اسلام کو
ہمیشہ ظالم خلام اواز بلند کرنے کی تلقین کی۔

تاریخ اسلام میں امیر المومنین حضرت علی ؑ کواپنی دیگر فضیلتوں کے ساتھ یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ
آپ کی ولادت خانۂ کعبہ میں اور شہادت بھی خدا کے گھر مسجد کوفہ میں نصیب ہوئی۔

تاریخ اسلام میں ایسی فضیلت کسی فرد بشر کو حاصل نہ ہوسکی۔
علی ؑابن ابی طالب کی مثالی شخصیت جنھوں نے پیغمبر اسلامؐ کی دعوت پر کمسنوں میں سب سے پہلے لبیک کہا تھا
اوررسول خدا کے اس مشن میں ہمیشہ آپ کی نصرت کی کسی بھی طرح محتاج تعارف نہیں۔

حضرت علیؑ کی مثالی زندگی نصرت حق وعدالت کاایسا نمونہ ہے جس کے تصور کے بغیر تاریخ اسلام کا ہر
باب نامکمل ہوکر رہ جاتا ہے۔
بات شب ہجرت میں دشمنوں کی تلواروں کے سائے میں بستر رسول خدا ؐ پر سوکر حیات پیغمبرؐ کو
تحفظ دیا ہو یا اسلامی معرکوں میں جنگ بدر ، جنگ احد ، جنگ خندق، جنگ خیبر، جنگ حنین، یا
جنگ صفین کا ذکر ہو ،تاریخ اسلام کے ان دفاعی معرکوں میں فتح وکامیابی کا تصور علی مرتضیٰؑ
کی شجاعت کے بغیر ناممکن نظر آتا ہے۔

یہی سبب ہے کہ فتح خندق میں کامیابی کے بعد پیغمبرخدا حضرت محمدؐ نے کہا تھا۔’’جنگ خندق میں
علی کی ایک ضربت جن وانس کی عباد ت پر افضل ہے”۔

دین اسلام کی آبیاری اور حق وعدالت کے نفاذ کی راہ میں امیر المومنینؑ نے اپنی حکمت و دانش،
عدالت پسندی،نصرت حق انسانی اقدار ومساوات، مدبرانہ شجاعت، تسلیم صبر ورضا کے ساتھ
غیر معمولی ایثار وفدا کاری کے جو عملی نمونے پیش کئے اس سے زمانہ کے حق پسندافراد متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

یہی سبب ہے کہ ہرزمانے کے حق بین مورخین نے تاریخ انسانیت کے اس یکتائے زمانہ علیؑ کو اپنا خراج عقیدت پیش کیا۔
مولاعلی کی تعلیمات ہرانسان کےلیے نصیحت ہیں یہاں تک کہ غیرمسلم مورخین بھی اس انسان کامل کی
عظمتوں کے معترف نظرآتے ہیں۔
دنیائے عیسائیت کا مشہور زمانہ مورخ جارج جرواق حضرت علی ؑ کی عظیم المرتبت شخصیت آپ کے
بے کراں علم، آپ کی انسان دوستی اور آپ کے مساوات کے جذبہ سے والہانہ طورپر متاثر نظر آتا ہے ۔
اس نے اپنی مشہور زمانۂ تصنیف ’’ندائے عدالت انسانی‘‘ میں اپنے دل کی گہرائیوں کے تاثرات
اپنے خوبصورت انداز میں پیش کئے ہیں۔


شیئر کریں: