خار زارِ سیاست میں ایک بلوچ سیاسی کارکن رفیق کھوسو کی یاداشتیں

شیئر کریں:

لیل و نہار عامر حسینی
پاکستان میں جمہوری سیاست سے وابستہ رہنے والے سیاسی کارکنوں کو سیاسی جدوجہد میں
جن حالات کا سامنا رہا ہے۔
اُن حالات کے دوران اُن کو اپنی جدوجہد کے اہم ادوار کی سرگزشت قلم بند کرنے کے مواقع بہت
ہی کم میسر آتے ہیں-
خاص طور پہ نچلے متوسط طبقے اور مزدور و کسان طبقات سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں کو
اپنی خود نوشت لکھنے کے مواقع کم ہی میسر آئے بلکہ اکثر ان طبقات کے کارکن تو آخری دنوں میں
کسمپرسی کی حالت میں اگلے جہان سدھار گئے-

اس لیے اردو میں ہمارے پاس سیاسی کارکنوں کی درجن بھر سے زیادہ مطبوعہ خود نوشت نہیں ہوں گی-
ہاں ہم سندھی زبان میں سیاسی کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی لکھی خود نوشت کی فہرست مرتب کرسکتے ہیں-
بلوچستان کے سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی سیاسی زندگی پر بھی ہمیں ایک زمانے تک کتابوں کا کَال نظر آتا تھا-
اس کاَل کو ختم کرنے میں سب سے پہلا کردار تو سَنگت اکیڈمی نے ادا کیا اور ڈاکٹر شاہ محمد مری نے “عشاق کے قافلے” کی سیریز میں ہمیں بلوچستان کے بڑے بڑے سیاسی کرداروں سے واقف کرایا لیکن ان میں بلوچستان کے سیاسی کارکنوں کا تذکرہ نہیں تھا اگرچہ کہیں کہیں نام اور تھوڑا بہت پڑھنے کو مل جاتا تھا لیکن اب بلوچستان کے سیاسی کارکنوں میں اپنی خود نوشت تحریر کرنے کا رجحان ترقی پا رہا ہے۔
بلوچستان کے بارے میں جاننے کے خواہش مند بھی اس طرح کی خود نوشت پڑھنا چاہتے ہیں۔

ایسی ہی ایک خود نوشت کامریڈ رفیق کھوسو کی ہے جنھوں نے اپنی سیاست کا آغاز بلوچستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے کیا تھا جب وہ نویں جماعت کے طالب علم تھے۔

کامریڈ رفیق کھوسو خوش قسمتی سے سیاسی کارکنوں کی اُس نسل سے تھے جن کو تعلیمی اداروں میں مضبوط طلباء تنظیموں اور طلباء یونینز کا پلیٹ فارم میسر آتا اور وہ وہاں سے تربیت پاتے اور پھر طلباء سیاست کی بھٹی میں کندن بن کر وہ عملی زندگی میں سیاسی جماعتوں میں کردار ادا کرنے لگتے تھے-
یہ قریب قریب سیاسی کارکنوں کی آخری نسل تھی جس کو نرسری ملی اور ان کے بعد آنے والوں کو یہ نرسری بند ملی اور آج تک وہ نرسری بند ہیں۔
کامریڈ رفیق کھوسو کے سیاسی شعور کی آنکھ 1969ء میں کھلتی ہے جب وہ اسکول میں نویں جماعت کے طالب علم تھے اور انہوں نے جام ساقی سمیت کئی رہنماؤں کو ایوب خان کی آمریت، ون یونٹ کے خلاف تحریک چلاتے دیکھا تھا۔
پھر یہ کالج میں پہنچے تو بی ایس او میں باقاعدہ کونسلر کی حیثیت اس کا حصہ بن گئے اور پھر 1975ء میں یہ بی ایس او کے مرکزی سیکریٹری جنرل چُن لیے گئے-

انہوں نے بی ایس او کے پلیٹ فارم سے ہی سیاست کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔
جس دور میں انہوں نے طلباء سیاست میں قدم رکھا اُس دور میں بلوچستان پر فوجی آپریشن جاری تھا-
نیپ کی بلوچستان میں حکومت ختم کردی گئی ہے اور کے پی کے میں وہ احتجاجاً مستعفی ہوگئی تھی-
نیپ پر پابندی لگادی گئی تھی نیپ کے مرکزی رہنماء اور ہزاروں کارکن گرفتار تھے اور بقول رفیق کھوسو اُن دنوں بلوچستان کی کرائم برانچ نیپ کے سیاسی کارکنوں کے لیے دہشت کا نشان بنی ہوئی تھی-
کامریڈ رفیق کھوسہ کہتے ہیں کہ میر غوث بخش بزنجو نے پشاور میں نیپ کی قیادت اور کارکنوں سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ نیپ اور پیپلز پارٹی کی کشمکش کا ایک ہی نتیجہ برآمد ہوگا: ہم نیپ والے جماعت اسلامی سے اتحاد کرنے پر مجبور ہوں گے اور بھٹو فوج کے قدموں میں بیٹھنے پر مجبور ہوگا۔
پھر ایسا ہی ہوا اور غیر جمہوری طاقتیں اس کشمکش سے فائدہ اٹھا گئیں۔

کامریڈ رفیق کھوسو بی ایس او سے کمیونسٹ پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی سے پی این پی اور پھر جمہوری وطن پارٹی میں شامل ہوئے-
اس دوران انھوں نے اپنے لڑکپن میں ایوب آمریت، پھر بھٹو کے دور میں ہوئے ریاستی جبر و تشدد کے خلاف نیپ کی جدوجہد اور پھر ضیاء الحق کے خلاف چلنے والی ایم آر ڈی میں حصہ لیا اور قید وبند کی صعوبتیں اٹھائیں۔
اُس کے بعد وہ مشرف آمریت کے خلاف جمہوری وطن پارٹی کے پلیٹ فارم سے سرگرم رہے اور نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد بھی وہ جمہوری وطن پارٹی کے پلیٹ فارم سے متحرک رہے اور جب بلوچ ری پبلکن پارٹی بنی تو تحفطات کے باوجود بھی وہ اس میں شامل رہے اور فیصلے کی انھیں سزا یہ دی گئی کہ چار اپریل 2007ء کو انھیں جبری گمشدہ کردیا گیا اور جبری گمشدگی کے زمانے میں اُن کو ایسی ادویات دی گئیں جو بقول رفیق کھوسو اسرائیلی اذیت رساں فلسطینی کارکنوں کو ذھنی و نفسیاتی مریض بنامے کے لیے دیتے ہیں-
اُن کی جبری گمشدگی پہ جب دباؤ بڑھا تو اُن کو منظرِ عام پہ لایا گیا اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت قائم جھوٹے مقدمے میں اُن کا ٹرائل شروع ہوا جسے ہائی کورٹ کے جج نے کالعدم قرار دیکر رہائی کا حکم دیا تو جیل کے دروازے پہ اُن کو دوبارہ اٹھالیا گیا اور پھر 13ایم پی او کے تحت ایک ماہ کے لیے دوبارہ نظر بند کردیا گیا۔

کامریڈ رفیق کھوسو ایک سچے ترقی پسند بلوچ سیاسی کارکن کے طور پر بلوچستان میں معصوم اور
بے گناہ شہریوں پر بلوچ مزاحمت کاروں کی کاروائیوں کے سخت خلاف ہونے کا اپنی خود نوشت میں
برملا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں-
وہ سخت سے سخت حالات میں پرامن سیاسی مزاحمت اور جدوجہد کے اصول پہ کاربند رہے۔
اُن کی خود نوشت بلوچ سیاست، سیاسی جماعتوں، قائدین اور بلوچ قومی تحریک کے اہم اور پرآشوب
دور کی تاریخ سے قاری کو روشناس کراتی ہے۔
بندوبست پنجاب میں رہنے والوں کو یہ خود نوشت لازماً پڑھنی چاہیے –

کتاب “علم و ادب پبلشر، بُک مال پلازہ، تھرڈ فلور دکان نمبر 311 اردو بازار کراچی نے شایع کی ہے اور
کتاب کے حصول کے لیے آپ درج زیل نمبر (بشمول وٹس ایپ) پہ رابطہ کیا جاسکتا ہے:
03357466580


شیئر کریں: