خادم رضوی کا انتقال اور ہمارے دوہرے معیار

شیئر کریں:

لیل و نہار/ عامر حسینی
lailonihar@gmail.com

تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی صدر اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔
ان کے انتقال کے بعد پاکستان کے سیاسی و مذہبی حلقوں میں ایک بحث شدت سے چھڑی ہوئی
ہے کہ ان کے انتقال کے موقع پر ان کو کیسے یاد کیا جائے۔

میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان کے کمرشل اشراف لبرل کا ایک سیکشن اور خود کو اعتدال پسند
ماڈریٹ مسلم کہلانے والوں کا ایک حلقہ سوشل میڈیا پر خادم رضوی کی موت کا ٹھٹھا اڑانے
کے ساتھ ساتھ ان کے مبینہ شدت پسند خیالات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت بھی کررہا ہے۔

خادم رضوی جمعہ کو کیا اعلان کرنے والے تھے؟

مجھے ان دونوں قسم کے مذمت نگاروں کی مذمت میں فرقہ واریت سے نفرت سے کہیں زیادہ جذبہ
نواز شریف اور مسلم لیگ سے تحریک لبیک اور خادم رضوی کی کشاکش نظر آتی ہے۔
یہ دونوں سیکشن کئی بار کالعدم تنظمیموں کے سربراہان کے ساتھ اظہار محبت اور ان کی اپنے
ٹاک شوز میں کوریج کرتے پائے گئے اور میں نے اپنے کالموں اور بلاگز میں ان کے دوہرے معیار
پر سوال اٹھائے۔

مذہبی بنیادوں پر سیاست کا ظہور کب ہوا؟

برطانوی نوآبادیاتی ہندوستان کے وجود میں آنے کے بعد سے برصغیر میں نیشنل ازم کے ساتھ ساتھ مذہبی بنیادوں پر سیاست کا ظہور ہوا تو تب سے برصغیر پاک و ہند کی مذہبی سیاست میں فرقہ وارانہ منافرت کا زہر موجود رہا ہے- لیکن میرا مطالعہ و مشاہدہ اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کی سیاست کو خود فرقہ وارایت سے مبرا قرار دینے والی مذہبی سیاسی جماعتوں اور اور عرف عام میں سیکولر لبرل سیاست کی دعوے دار جماعتوں اور ان کے ساتھ کھڑے تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کی ایک بہت بڑی تعداد نے بھی اس “زہر” کو ہمیشہ مصلحت آمیزی اور وسیع تر مفادات کے نام پر کسی ایک یا دو شخصیات میں قبول کرلیا اور کسی تیسری شخصیت میں اس زہر کی نشاندہی پر بہت زور دیا اور اس کے باب میں قطعی رعایت سے کام نہیں لیا۔

مثال کے طور پر پاکستان میں اشراف لبرل، لیفٹ، نام نہادغیر فرقہ وارانہ مذہب پسندوں کے کئی ایک سیکشن جمعیت علمائے ہند، مجلس احرار کی قیادت کو سامراج دشمن، سیکولر نیشنلسٹ اور تو اور ان کو مذہبی سیاسی جماعتوں میں اسلامی لیفٹ کی قیادت کے طور پر پیش کرتے اور ان کی مدح خوانی کرتے نظر آتے ہیں۔

محمود حسن ہوں یا حسین احمد مدنی ہوں یا حفیظ سیوہاروی ہوں یا عطاء اللہ شاہ بخاری ہوں یا پھر احمد علی لاہوری ہوں یا داؤد غزنوی ہوں یا پھر آج کی جمعیت علمائے ہند کی قیادت ہو ان کو غیر فرقہ وارانہ سیکولر نیشنلسٹ سیاست دان بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن یہی حلقے آل انڈیا سنّی کانفرنس اور اس سے پہلے رضائے مصطفی ہند جیسی جماعتوں کے قائدین بشمول مولانا احمد رضا خان فاضل بریلی، مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی، پیر جماعت علی شاہ محدث علی پوری، مولانا عبدالباری فرنگی محلی، مولانا عبدالماجد بدایونی و حامد بدایونی،مولانا عبدالعلیم میرٹھی ہوں ان جیسے علماء و مشائخ کو فرقہ پرست قرار دینے سے کبھی چوکتے نہیں ہیں اور ان کی دوسرے مسالک و فرقوں کے بارے میں مختلف مواقع پر دی گئی آراء کا تذکرہ کرنا بھی نہیں بھولتے۔
آل انڈیا نیشنل کانگریس ہو یا خدائی خدمت گار ہوں انھوں نے جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار کی مختلف مواقع پر سخت فرقہ وارانہ تحریکوں میں حصّہ لینے اور ان کے فرقہ وارانہ کردار کو ہمیشہ نظر انداز کیا جیسے آل انڈیا نیشنل کانگریس کی اکثر قیادت ہندؤ مہاسبھا ، آریہ سماج تحریکوں کے بارے میں مداہنت پر مبنی رویہ رکھتی آئی تھی۔

قائد اعظم دائرہ اسلام سے خارج کس نے قرار دیا؟

آل انڈیا نیشنل کانگریس کل بھی اور آج بھی جمعیت علمائے ہند کی قیادت کو عظیم نیشنلسٹ سیکولر مانتی چلی آئی ہے اس کے باوجود کہ اس قیادت نے آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر محمد علی جناح سمیت کئی ایک مرکزی قائدین کو نہ صرف دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا بلکہ ان کی مسلکی شناخت کو لے کر ان کو مسلمانان ہند کا رہنماء و قائد ماننے سے بھی انکار کردیا،
کتابچے لکھے اور ایک بھرپور پروپیگنڈا مہم چلائی۔
قائد اعظم محمد علی جناح کے خلاف جمعیت علمائے ہند کے سربراہ مولاناحسین احمد مدنی نے “سول میرج اور جناح” نامی بمفلٹ لکھا اور جناح کی مسلکی شناخت کو ہی ان کے کافر ہونے کی کافی و شافی دلیل قرار دیا اور کئی جلسوں میں یہ بات دہرائی-

پھر برطانوی نوآبادیاتی ہندوستان میں جتنے بھی منظم فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور ایک فرقے کی دوسرے فرقے کے خلاف چلنے والی تحریکوں میں جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار کی قیادت صف اول کی رہنماء بنی دکھائی دی۔
جیسے لکھنؤ میں فرقہ وارانہ فسادات تھے جو پھر پورے شمالی ہندوستان میں پھیل گئے اور اس کا ہر اول دستہ یہی عظیم نیشنلسٹ سیکولر مذہبی رہنما تھے۔ لیکن ہمیں آج کے سیکولر لبرل، لیفٹ اور نام نہاد ماڈریٹ تجزیہ نگار، تعلیم یافتہ مڈل کلاس کے دانشوروں کا ایک بڑا حصّہ جس شدت اور جتنے جذباتی انداز سے احمد رضا خان بریلوی اور سید غفران ماب لکھنوی اور ان دونوں کے مسالک کے دیگر مذہبی رہنماؤں کے فرقہ پرست رجحانات کو لے کر ان سے اپنی نورت کا اظہار کرتا ہے، اس کا زرا اظہار یہ نیشنلسٹ سیکولر یا غیرفرقہ وارانہ اسلام پسند دوسری طرف کے علماء کے بارے میں کرتا نظر نہیں آتا کیوں؟

سلمان تاثیر کے قتل پر کیا ہوا؟

جب ممتاز قادری نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیرکو قتل کیا تو اس کے بعد ممتاز قادری سے جڑے سیاسی مذہبی فنومنا کی ملکیت اور کریڈٹ کی ایک دوڑ شروع ہوگئی-
پاکستان کی کوئی مذہبی سیاسی جماعت ایسی نہیں تھی جس نے اس ملکیت اور کریڈٹ میں حصّہ لینے کی کوشش نہ کی ہو جس نے زرا سی نرمی دکھائی جیسے طاہر القادری اور الیاس قادری تھے ان کو فی الفور شدید ترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے موقف کو پھر مین اسٹریم میڈیا نے بھی پیش کرنا بند کردیا۔ ممتاز قادری فنومنا کو پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی حکومت کے خلاف مسلم لیگ نواز کے کئی ایک لیڈروں نے کھلم کھلا سپورٹ کیا تھا۔ میاں محمد نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر ہوں یا خواجہ آصف ہوں یا پھر احسن اقبال ہوں یا پھر نواز شریف کے اتحادی مذہبی جماعتوں کے سربراہ ہوں جن میں مولانا فضل الرحمان بھی سرفہرست تھے۔ پاکستان تحریک انصاف بھی ممتاز قادری فنومنا سے سیاسی فوائد اٹھانے میں کسی سے پیچھے نہیں رہی۔

یہ وہ وقت تھا جب مسلم لیگ نواز، پی ٹی آئی عدالتی اسٹبلشمنٹ اور باودری اسٹبلشمنٹ کی پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف شروع مداخلت کی مکمل سپورٹ کررہی تھیں اور آہستہ آہستہ کیانی-افتخار قطبین کا جھکاؤ نواز شریف کی طرف واضح ہوتا جارہا تھا۔
پیپلزپارٹی کی حکومت کو کمزور کرنے اور اگلے الیکشن میں پی پی پی کو دیوار سے لگانے کی اس منصوبہ بندی میں جہاں نواز شریف کے پیچھے کیانی و افتخار کھڑے ہوئے وہیں پی ٹی آئی کے پیچھے جنرل شجاع پاشا اور کئی اور کردار کھڑے ہوگئے۔ پی پی پی کے خلاف مذہبی ہتھیار استعمال کرنے میں دونوں کیمپ مصروف تھے اور اس میں ایک تو ممتاز قادری فنومنا تھا تو دوسری طرف جہادی و تکفیری عسکریت پسندوں اور ان کے نظریہ سازوں کی مہم تھی جو پوری قوت سے شیعہ نسل کشی کے ساتھ ساتھ دیگر مذہبی اقلیتوں پر حملہ آور تھی اور اس کا الزام بھی پاکستان پیپلزپارٹی اور آصف زرداری پر آرہا تھا۔

پاکستان کے ٹاپ کے اینکر پرسن جن میں نجم سیٹھی، حامد میر،رضا رومی سمیت لبرل اشراف اور نام نہاد ماڈریٹ مسلم شامل تھے یہ کالعدم تنظیموں کے سربراہان کی پروجیکشن کررہے تھے۔ ان میں سے کئی ایک کو ہم نے تکفیری و جہادی تنظیموں کے سربراہان سے اپنی دوستی کے دعوے سرعام کرتے دیکھے۔ ہم نے طالبان کے استاد ہونے کے دعوے دار عالم کے جنازے کے موقع پر ایک ماڈریٹ مسلم اینکر پرسن کو خطاب کرتے دیکھا۔ اسے ہم نے مولانا سرفراز نعیمی جو طالبان کے خودکش بم دھماکے میں قتل ہوئے ان کی پہلی برسی پر میاں شہباز شریف کے ساتھ طالبان اور القاعدہ کی حمایت کرتے دیکھا۔ پی ٹی ایم کی قیادت اکوڑہ خٹک کے مدرسہ حقانیہ جہاں پر بے نظیر بھٹو کے قاتل ٹھہرے تھے میں مدد اور تعاون کے لیے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

منافقت معاشرہ کو کہاں لے جارہی ہے؟

آج بھی خادم رضوی اور تحریک لبیک کے سخت ناقد مسلم لیگ نواز، جمعیت علمائے اسلام کے ان رہنماؤں کی مدح سرائی کرتے نظر آتے ہیں جن کے خیالات خادم رضوی اور تحریک لبیک کے خیالات اور نظریات سے کم فرقہ وارانہ نہیں ہیں۔ جبکہ ان کمرشل لبرل اور نام نہاد ماڈریٹ کی جانب سے کئی ایسے مذہبی رہنماؤں کی مدح سرائی نظر آتی ہے جو آج کی ہلاکت انگيز تکفیری فسطائیت کے سب سے بڑے نظریہ ساز مانے جاتے ہیں اور ان سے متاثر ہونے والوں کی ہلاکت انگیزی اور عقیدے کی بنیاد پر وائلنس اور تشدد کا ریکارڈ تحریک لبیک کی قیادت اور کارکنوں سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ ایک ایسی کالعدم تنظیم کے رہنماؤں کو سفیر امن کہتے ہیں جس کے رشتے پاکستان میں نائن الیون کے بعد 75 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو قتل کرنے والوں سے ملتے ہیں۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ جتنی شدت اور نفرت ہماری اس اشراف لبرل، لیفٹ اور ماڈریٹ مسلم کے ہاں خادم رضوی اور تحریک لبیک کے باب میں ملتے ہیں اتنے دوسرے عناصر کے بارے میں کیوں نہیں ملتے؟
ایک فرقہ پرست جہادی کے جنازے پر کھڑے ہوکر محبت و جذبات کا اظہار کیا جاتا اور جوطالبان کے ہاتھوں قتل ہو اس کی برسی پر کھڑے ہوکر طالبان و القاعدہ سے برادرانہ درخواستیں کی جاتی ہیں کیوں؟
ڈاکٹر خالد سومرو کی موت پر ان کے تمام فرقہ وارانہ نظریات اور اشتعال انگیزی کو پس پشت ڈال کر ان کی سندھی قوم پرستی اور جمہوریت پسندی کا چرچا کیا جائے۔ کیا یہ دوہرے اور منافقانہ رویے نہیں ہیں؟


شیئر کریں: