خادم رضوی جمعہ کو کیا اعلان کرنے والے تھے؟

شیئر کریں:

علامہ خادم رضوی کی موت خبر بھی ان کی زندگی کی طرح دلچسپ شکل اختیار کر گئی۔
کبھی موت کی تصدیق ہوئی تو کبھی تردید، کبھی کہا گیا ہے کہ مولانا کو دوبارہ سانسیں آرہی ہیں
تو کبھی کہا گیا کہ مولانا معجزاتی طور پر دوبارہ زندہ ہوگئے ہیں۔
بلآخر شیخ زید اسپتال نے مولانا کا ڈیتھ سرٹیفیکٹ جاری کیا جس پر سب کو یقین ہوا کہ مولانا اس دنیا میں نہیں رہے۔
مولانا کی زندگی بھی انتہائی دلچسپ تھی۔ وہ 2017 میں اچانگ ایک بڑی سیاسی اور مذہبی قوت کے طور پر سامنے آئے۔
انہوں نے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تحفظ ناموس رسالت پر کئی بڑے دھرنے دیے۔
نواز شریف دور میں ان کا دیا ہوا دھرنا حیران کن طور پر بڑا اور طاقتور تھا۔
اس دھرنے کو ختم کروانے کے لیے ریاستی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑا۔

تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوری علالت کے باعث انتقال کر گئے

مولانا دو دن قبل اسلام آباد میں فرانس کے خلاف دھرنا دے کر وآپس آئے تھے۔
خادم رضوی تحفظ ناموس رسالت پر سخت موقف رکھتے تھے۔
مولانا کے چاہنے والے ان کی ایک کال پر لاکھوں کی تعداد میں سٹرکوں پر امنڈ آتے اور اپنی جان و مال قربان کرنے کو تیار ہوجاتے۔
مولانا ٹانگوں سے معزور ہونے کے باوجود بڑے مذہبی قد کی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔
وہ اپنی انتہائی سخت زبان کی وجہ سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر مقبول تھے۔

تحریک لبیک نے 7 سال بعد پھر فیض آباد پر دھرنا دے دیا

مولانا خادم حسین کی وفات پر آرمی چیف، وزیراعظم سمیت ملک کی تمام سیاسی سخصیات نے افسوس کا اظہار کا کیا۔
مولانا گزشتہ کئی روز سے بخار میں مبتلا تھے تاہم شیخ زید اسپتال کو ان کی ہسٹری نہیں بتائی گئی۔
اسپتال ذرائع کے مطابق ان کی موت دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوئی۔

علامہ خادم حسین رضوی کی اچانک موت نے سب کو حیران کردیا
ان کے چاہنے والوں ہوں یا مخالفین سب ہی کی عقل دنگ رہ گئی۔
علامہ خادم رضوی کی زندگی کی طرح کی خبر بھی سوشل میڈیا پر خبروں کا نہ تھمنے والا سیلاب لے آیا۔


شیئر کریں: