حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں پالیسی بنانا ہوتا ہے، گوہر اعجاز

نگراں وفاقی وزیر ڈاکٹر گوہر اعجاز نے مارگلہ ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ابھی تک 1970
کے عشرے میں رہ رہے ہیں۔ ٹیکسٹائل او ر آئی ٹی ہمارا معاشی مستقبل بن سکتے ہیں۔
ہمارے پاس قیمتی پتھروں سے لے کر سونا تانبا اور چاندی سمیت کیا کچھ نہیں۔ ہمارے نیلم سے لے کر چترال
تک قیمتی پتھر خام مال کی شکل میں باہر جارہے ہیں۔ دنیا ہمارے قیمتی پتھروں سے اربوں ڈالر کما رہی ہے۔
ہم اپنے قیمتی پتھروں کو پراسس کرکے اربوں ڈالر کما سکتے ہیں مگر نہیں کما رہے اس کی کیا وجوہات ہیں؟ پاکستان
کو 100 ارب ڈالر چاہئیں مگر ہمارے پاس کیا ہے سب کو معلوم ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا افغانستان نے کسی جدید بینکنگ نظام کے بغیر ڈالر کیسے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا
کہ پاکستان جدید ترین بنکنگ اور مانیٹرنگ نظام رکھنے کے باوجود ڈالر کو مارکیٹ کے جائز ریٹ پر بھی کیوں نہ رکھ
سکے ؟
حکومتوں کاکام کاروبار کرنا نہیں بلکہ حکومتوں کا کام کاروبار دوست پالیسیاں بنانا ہے۔ گوہر اعجاز نے آخر میں
ایک بڑا سوال چھوڑا کہ پاکستان میں صنعتوں کو جب خطے کی مہنگی ترین بجلی ملے گی تو وہ برآمدات کیسے
کرسکیں گے ؟